زرعی قوانین واپس نہ ہوتے تب بھی

Updated: December 15, 2021, 8:57 AM IST | Mumbai

ہلی کی سرحدوں پر ایک سال سے زائد عرصہ تک خیمہ زن رہنے والے کسان اپنے گھروںکو لوَٹ چکے ہیں۔ اب اُن مقامات پر جہاں طویل عرصہ تک اُن کے شب و روز گزرے، نصب کئے گئے

Agricultural Laws
زرعی قوانین

دہلی کی سرحدوں پر ایک سال سے زائد عرصہ تک خیمہ زن رہنے والے کسان اپنے گھروںکو لوَٹ چکے ہیں۔ اب اُن مقامات پر جہاں طویل عرصہ تک اُن کے شب و روز گزرے، نصب کئے گئے خیموں کے باقیات کے علاوہ کچھ نہیں ہے۔ آئندہ چند دنوں میں یہ باقیات بھی ختم ہوجائینگے۔ اس کے باوجود یہاں رقم ہونے والی تاریخ کبھی ختم نہیں ہوگی۔ ملک و بیرونِ ملک کی آنے والی نسلیں جہاں تحریک آزادی کے صفحات پلٹیں گی کہ کچھ سیکھ سکیں، بھودان تحریک کے تعلق سے جاننا چاہیں گی کہ یہ کیا تھی اور کیوں تھی ، یا، جے پی موومنٹ کے بارے میں جاننے کی خواہشمند ہوںگی کہ اس کے کیا اسباب تھے اور اس سے کیا نتیجہ برآمد ہوا، وہیں انہیں ۲۱۔۲۰۲۰ء کی کسان تحریک کی بھی جستجو ہوگی کہ اس کے مضمرات کو سمجھیں اور اس کی کامیابی کے اسباب کا جائزہ لیں۔ ہرچند کہ قومی میڈیا نے اس تحریک کے ساتھ ناانصافی کی، اسے خراب روشنی میں پیش کیا، اس پر لعن طعن کی اور اس مقصد کے تحت ہر ممکن تخریبی حربہ آزمایا کہ یہ منتشر ہوجائے مگر اسے شدید ناکامی کا سامنا ہوا۔ حکومت کو بھی تحریک کے آگے گھٹنے ٹیکنے پڑے۔ کسانوں کی مرادیں پوری ہوئیں اور اُنہیں خوشی خوشی گھر لوَٹنے کا موقع ملا۔ 
 یہ نہ ہوتا تب بھی تحریک کامیاب تھی۔کیوں؟ آئیے چند باتوں کا جائزہ لیں: 
 ابتداء میں کسانوں نے سوچا بھی نہیں تھا کہ اُنہیں ناگفتہ مسائل اور یکے بعد دیگرے سخت آزمائشوں سے گزرنا پڑیگا۔ اُنہیں یہ بھی علم نہیں تھا کہ احتجاج اتنا طویل ہوجائیگا۔ اس ضمن میں اُن کی سب سے بڑی کامیابی یہ ہے کہ وہ ہر آزمائش سے بہ حسن و خوبی گزرے اور احتجاج جتنا طویل ہورہا تھا، وہ اُس سے زیادہ طویل عرصہ تک جمے رہنے کے عزم کی نشوونما کرتے رہے۔اُن کی دوسری بڑی کامیابی مظاہرین اور مظاہرہ گاہوں کا نظم و ضبط اور ضروریات زندگی کو پورا کرنے کے نت نئے طریقے تھے۔ ان کا باورچی خانہ اور لنگر، میٹنگ روم، اہم کارپردازوں کا وار روم، آرام کرنے اور سونے کا جیسا تیسا انتظام، موسم کی سختیوں سے بچنے کے اختراعی طریقے، کیا نہیں تھا وہاں۔ اگر بزرگوں نے احتجاج کا حصہ بننے کیلئے اپنی عمر اور ضعف کو نہیں دیکھا تو خواتین اور بچے بھی اس تاریخ میں خود کو شامل کرانے کیلئے بے چین ہوئے۔ تحریک کی تیسری بڑی کامیابی یہ ہے کہ قومی میڈیا کی چشم پوشی کے باوجود اسے سوشل میڈیا پر زبردست کوریج اور پزیرائی حاصل ہوئی ۔ اتنا ہی نہیں، عالمی میڈیا بھی اس کی جانب متوجہ ہوئے بغیر نہ رہ سکتا۔ پوری دُنیا میں پڑھے جانے والے ’’ٹائم میگزین‘‘ نے کسانوں کے درمیان موجود شاہین باغ پر رپورٹ شائع کی جو ۱۵؍ تا ۲۲؍ مارچ ۲۱ء کے شمارہ کا عنوان بنی۔ رپورٹ میں خواتین کے بیانات تھے کہ ہمیں دھمکایا نہیں جاسکتا، خریدا نہیں جاسکتا۔ رپورٹ میں دلت حقوق کیلئے سرگرم رہنے والی ایک خاتون بندو امینی کے خراج تحسین کو ملاحظہ کیجئے کہ ’’مَیں کسانوں کی حمایت کیلئے آئی تھی اور یہ دیکھ کر حیران رہ گئی کہ یہاں ایک ایسا ہندوستان موجود ہے جس میں نہ تو طبقاتی اونچ نیچ ہے نہ ہی صنفی عدم مساوات۔‘‘  تحریک سے متعلق خبریں شائع کرنے میں نہ تو واشنگٹن پوسٹ اور نیویارک ٹائمس جیسے جریدوں نے بخل سے کام لیا نہ ہی الجزیرہ، رائٹرس، سی این بی سی اور دیگر نے۔ کیا یہ کوئی معمولی بات ہے۔ زرعی قوانین واپس نہ لئے جاتے تب بھی تحریک کامیاب تھی کیونکہ تحریک نے جمہوریت شکن دور میں جمہوریت کو مستحکم کیا اور یہ سمجھا دیا کہ جمہوری نظام میں عوام مقدم ہیں اگر وہ منظم ہوں۔ n

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK