صنعتی حادثات کب تک؟

Updated: January 10, 2022, 3:06 PM IST

سورت کے انڈسٹریل ڈیولپمنٹ کارپوریشن میں صنعتی فضلہ ایک نالے میں پھینکے (ڈمپ کئے) جانے سے جو اندوہناک صورت حال پیدا ہوئی اُسے نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔

Picture.Picture:INN
علامتی تصویر۔ تصویر: آئی این این

سورت کے انڈسٹریل ڈیولپمنٹ کارپوریشن میں صنعتی فضلہ ایک نالے میں پھینکے (ڈمپ کئے) جانے سے جو اندوہناک صورت حال پیدا ہوئی اُسے نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔ صنعتی فضلے سے زہریلا دھواں نکل رہا تھا جس نے پوری فضا کو زہریلا بنادیا تھا۔ نتیجتاً چھ مزدور فوت ہوئے جبکہ ۲۰؍ دیگر اسپتال داخل کئے گئے۔  ابھی چند روز پہلے کی اس خبر کو جس نے بھی سنا اور پڑھا، وہ رنجیدہ ہوا ہوگا۔ معمول یہ ہے کہ جب تک خبر کا اثر باقی رہتا ہے (چند گھنٹے یا چند روز) تب تک سرکاری مشنری بھی حرکت میں رہتی ہے۔ خبر کا اثر زائل ہوتے ہی سرکاری مشنری پرانی روش پر لوَٹ آتی ہے۔ جب اس قسم کی تساہلی برقرار رہتی ہے تو اس کی وجہ سے بے حسی پیدا ہوجاتی ہے جس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ چاہے جتنا بڑا حادثہ ہو اور چاہے جتنے لوگوں کی جان جائے، کسی کو کچھ فرق نہیں پڑتا۔ ۲۰۲۰ء میں آندھرا پردیش کے شہر وشاکھا پٹنم میں چار صنعتی حادثے ہوئے۔ غور فرمائیے، ایک دو نہیں چار حادثے۔ ان میں ۲۷؍ افراد فوت ہوئے اور درجنوں اسپتال لے جائے گئے۔ اس کے باوجود آپ کو کوئی بڑا تغیر دکھائی نہیں دے گا۔ اس کے برخلاف سیاسی درجۂ حرارت ہمہ وقت بڑھا ہوا رہتا ہے جو بعض اوقات غیر معمولی حدوں کو چھونے لگتا ہے ۔ آبادی کا جو حصہ سیاسی اُٹھا پٹک سے دلچسپی نہیں رکھتا تھا، اب اُسے بھی سوشل میڈیا ورغلاتا ہے جس کی وجہ سے وہ بھی سیاسی خبروں سے غافل نہیں رہتا۔ یہی وجہ ہے کہ سیاست کی معمولی خبر بھی غیر معمولی ہوجاتی ہے مگر انسانوں کی موت موضوع نہیں بنتی۔ میڈیا اور سوشل میڈیا کے صارفین میں کتنے لوگ جانتے ہیں کہ وشاکھاپٹنم میں ایک نہیں چار ہلاکت خیز حادثے ہوئے؟ کتنے لوگوں نے سورت کے المناک حادثے کا نوٹس لیا؟ یہ اُس ملک کے لوگوں کا حال ہے جہاں کم وبیش ۳۷؍ سال پہلے بھوپال گیس ٹریجڈی رونما ہوئی جس نے پوری دُنیا کو دہلا دیا تھا۔ کون نہیں جانتا کہ اُس وقت کیا ہوا تھا؟ کس کو خبر نہیں کہ اس سانحہ میں فوری طور پر کتنے لوگ فوت ہوئے تھے اور کتنے تب سے لے کر اب تک سسک سسک کر اور ایڑیاں رگڑ رگڑ کر اس دُنیا سے رخصت ہوئے؟ بھوپال کا بھیانک سانحہ ملک کا آخری صنعتی سانحہ ہوتا تو اس پر صبر کرلیا جاتا مگر تب سے لے کر اب تک حادثات کا ایک لامتناہی سلسلہ ہے مگر کس کو فکر ہے اس کی!  وطن عزیز میں نہ تو تکنیکی نہ ہی سائنسی صلاحیت کی کمی ہے۔ ماہرین کے ذریعہ مؤثر حکمت عملی برائے عوامی صحت وضع کی جاسکتی ہے بلکہ اب تک کرلی جانی چاہئے تھی۔ بھوپال گیس سانحہ سے کچھ سیکھا گیا ہوتا اور اس کے بعد ہی ملک کی اعلیٰ صلاحیتوں کو سو فیصد حفاظت کے مشن پر مامور کیا جاتا تو بعد کے بہت سے حادثات کو روکا جاسکتا تھا۔ اس غفلت اور بے عملی کی ایک ہی وجہ سمجھ میں آتی ہے۔ وہ یہ کہ صنعتی حادثات کے مہلوکین سماج کے معاشی طور پر کمزور طبقے کے لوگ ہوتے ہیں۔ معاوضہ دے کر ان کے آنسو خشک کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ آنسو تو کسی حد تک خشک ہوجاتے ہیں مگر اہل خانہ کی زندگیوں کا وہ خلاء کبھی پُر نہیں ہوتا جو گھر کے کفیل کے اچانک کوچ کرجانے سے پیدا ہوتا ہے۔ اتنی اموات کے باوجود صنعتی مسائل سے عوامی زندگیوں کی حفاظت کا کوئی جامع نظام اپنے وجود کا احساس نہیں دلاتا۔ ایساکوئی نظام ہوتا تو حالیہ دنوں اور مہینوں میں نہ تو وشاکھاپٹنم کا حادثہ ہوتا نہ ہی سورت کا۔مسئلہ ہے اقتدار سے جواب طلب کرنے کا۔ جب تک یہ رجحان تقویت نہیں پاتا، نہ تو حادثات کو روکا جاسکتا ہے نہ ہی اموات کو۔

surat Tags

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK