Inquilab Logo Happiest Places to Work

امریکہ جنگ روکے یا خود رُک جائے!

Updated: March 07, 2026, 2:50 PM IST | Inquilab News Network | mumbai

تالی دونوں ہاتھوں سے بجتی ہے۔ اسی طرح کوئی ملک تنہا لڑتا۔ سامنے بھی کوئی ہوتا ہے جو لڑنے پر آمادہ ہو یا مجبور کیا گیا ہو۔ موجودہ جنگ میں جو اسرائیل و امریکہ اور ایران کے مابین لڑی جارہی ہے، تین فریق ہیں مگر متاثرہ ملکوں کو شامل کیا جائے تو قطر، کویت، سعودی عرب، متحدہ عرب امارات اور دیگر کو ملا کر یہ تعداد ایک درجن تک پہنچتی ہے۔

INN
آئی این این
  تالی دونوں   ہاتھوں   سے بجتی ہے۔ اسی طرح کوئی ملک تنہا لڑتا۔ سامنے بھی کوئی ہوتا ہے جو لڑنے پر آمادہ ہو یا مجبور کیا گیا ہو۔ موجودہ جنگ میں   جو اسرائیل و امریکہ اور ایران کے مابین لڑی جارہی ہے، تین فریق ہیں   مگر متاثرہ ملکوں   کو شامل کیا جائے تو قطر، کویت، سعودی عرب، متحدہ عرب امارات اور دیگر کو ملا کر یہ تعداد ایک درجن تک پہنچتی ہے۔ روس اور چین نہ تو براہ راست جنگ کا حصہ ہیں   نہ ہی ان کا شمار متاثرہ ملکوں   میں   ہے مگر ایران کو ان دو ملکوں   کی حمایت حاصل ہے جس سے انکار نہیں   کیا جاسکتا۔ کلیدی کردار بہرحال تین ملکوں   کا ہے۔ ان میں   ایران کو قصوروار نہیں   ٹھہرایا جاسکتا کیونکہ وہ مذاکرات میں   شامل تھا (جنیوا) اور تعاون کررہا تھا۔ مذاکرات کو پیچھے دھکیل کر اسرائیل اور امریکہ نے اُس پر جنگ لاد دی، غالباً یہ سوچ کر کہ اُن کے آگے ایران مرغی کا چوزہ ہے مگر وہ ہاتھی نکلا۔ چھ سات ہی دن میں   اُس نے اسرائیل و امریکہ کا بھوت اُتار دیا۔ اسرائیل مانا نہیں   تو بھگتے گا، سوچنا امریکہ کو ہے۔ اس کے پاس موقع ہے۔ جنگ روکے یا خود رُک جائے!
خیال کیا جارہا تھا کہ امریکی قانون ساز ٹرمپ کے یک طرفہ فیصلے کو، جس کیلئے وہاں   کی پارلیمنٹ کی منظوری نہیں   لی گئی تھی، مسترد کردینگے مگر جس طرح ٹرمپ یہودی لابی کی ایماء پر جنگ میں   کودے، اُسی طرح سنیٹرز بھی شاید اس لابی سے مرعوب ہیں  ۔ انہوں   نے جاری جنگ کو روکنے کیلئے سینیٹ میں   پیش کردہ قرارداد کو ۴۷؍ کے مقابلے ۵۳؍ ووٹوں   سے نامنظور کردیا۔ اس سے ٹرمپ کا حوصلہ بلند ہوسکتا تھا مگر ایرانی حملے اتنے شدید ہیں   کہ ٹرمپ کے چہرے پر ہوائیاں   اُڑ رہی ہیں  ۔ اُنہیں   یہ فکر لاحق ہوگئی ہے کہ اگر اُن کے عوام میں   جنگ کے خلاف ردعمل بڑھا تو اُنہیں   منہ کی کھانی پڑے گی۔ امریکی عوام کا ایک طبقہ اُصولی بنیادوں   پر جنگ کی مخالفت کررہا ہے، دوسرا طبقہ وہ ہے جو آج نہیں   تو کل جنگ کے خوفناک اخراجات کیلئے ٹرمپ کو مورد الزام ٹھہرائیگا اور تیسرا طبقہ وہ ہے جو جنگ میں   امریکہ کے نقصانات بالخصوص جانی نقصان کے سبب مشتعل ہوگا۔
یہی بات اسرائیل کیلئے کہی جاسکتی ہے۔ نیتن یاہو جنگ کے ذریعہ اپنی کھال بچانے کی کوشش کررہے ہیں   اور کھال ہے کہ بچتی ہوئی نظر نہیں   آرہی ہے۔ اسرائیلی مبصرین کا کہنا ہے کہ اگر اسرائیل، ایران کو زیر کرنے میں   کامیاب ہوا تو نیتن یاہو (جنہیں   بی بی کہا جاتا ہے) اکتوبر کے پارلیمانی انتخابات کو معجل کرکے جون میں   کروانا چاہیں   گے۔ اُن کا یہ بھی کہنا ہے کہ اس جنگ سے ’’بی بی‘‘ کو کچھ حاصل نہیں   ہوگا، وہ یا تو ہیرو بنیں   گے یا زیرو۔ تل ابیب اور دیگر شہروں   پر جو بمباری ہوتی رہی اور جو جمعرات اور جمعہ کی درمیانی شب میں   ہوئی اُس سے لگتا ہے کہ بی بی ہیرو نہیں   بنیں   گے، اس بار اُنہیں   زیرو ہی بننا ہے۔
ٹرمپ اور نیتن یاہو نے سو چا بھی نہ ہوگا کہ ایران ہائپر سونک میزائل استعمال کریگا جن کی بابت سمجھا جاتا ہے کہ امریکہ، روس اور چین کے علاوہ کسی کے پاس نہیں   ہیں  ۔ تل ابیب اور واشنگٹن کی ناک کٹ جائیگی اس لئے وہ اعتراف نہیں   کررہے ہیں   کہ جنگ میں   ایران روزانہ چونکا رہا ہے ۔ اس کے لیڈروں   کے حوصلے بلند ہیں   جو کسی دھمکی سے خوفزدہ ہوئے بغیر ترکی بہ ترکی جواب دے رہے ہیں   جس کے پیش نظر ایسا بھی ہوا ہے کہ ٹرمپ کو اپنا بیان بدلنا پڑا ہے۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK