ایرانی قوم کے جذبۂ شجاعت کی تاریخ طویل ہے۔ شہادت پانے والے بھی داد شجاعت دیتے ہوئے ہی اس جہانِ فانی سے رخصت ہوتے ہیں ۔ حضرت خامنہ ای کی شہادت کو بھی اسی نقطۂ نظر سے دیکھنا چاہئے۔ چو طرفہ خطرہ کو دیکھ کر آپ چاہتے تو کسی بنکر میں پناہ لے سکتے تھے۔
ایرانی قوم کے جذبۂ شجاعت کی تاریخ طویل ہے۔ شہادت پانے والے بھی داد شجاعت دیتے ہوئے ہی اس جہانِ فانی سے رخصت ہوتے ہیں ۔ حضرت خامنہ ای کی شہادت کو بھی اسی نقطۂ نظر سے دیکھنا چاہئے۔ چو طرفہ خطرہ کو دیکھ کر آپ چاہتے تو کسی بنکر میں پناہ لے سکتے تھے۔ چاہتے تو کسی ایسے ملک میں منتقل ہوسکتے تھے جو ہر اعتبار سے محفوظ ہو مگر یہ تو بزدل کرتے ہیں ۔ یہ بہادروں کا شیوہ نہیں ۔ خامنہ ای نے چھ آٹھ ماہ قبل کی بارہ روزہ جنگ کے دوران بھی اور اس تازہ جنگ میں بھی نیز اس پورے عرصہ میں خطروں اور دھمکیوں کی یلغار میں بھی جان کی پروا نہیں کی، اپنی رہائش گاہ سے ہٹنا گوارا نہیں کیا۔ آپ نے اپنے عوام کے درمیان رہتے ہوئے اور اُن کے ذہنوں میں شہادت کی تاریخ تازہ کرتے ہوئے اور یہ پیغام دیتے ہوئے آنکھیں بند کیں کہ حق باطل کے سامنے کبھی نہیں جھکتا۔
امریکہ اور اسرائیل نے ایران کی اعلیٰ ترین قیادت کو ہدف بنا کر بہت بڑی غلطی کی ہے۔ ہوسکتا ہے فی الحال وہ اس پر خوش ہوں مگر طے ہے کہ اُنہیں پچھتانا پڑے گا۔ خامنہ ای کی شہادت ایرانی عوام کو غیر معمولی حوصلہ بخشے گی اور اُنہیں جنگ سے پیدا شدہ حالات سے نمٹنے کی توانائی عطا کریگی۔ اس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ جنگ طول پکڑے گی۔ ایران کہہ چکا ہے کہ جنگ امریکہ اور اسرائیل نے شروع کی ہے، اسے ختم ہم کرینگے تو اب اس کے روشن امکانات کو مزید تقویت حاصل ہوگئی ہے۔ امریکہ اور اسرائیل نے ایران کو دھوکہ دیا ہے۔ امریکہ ایران سے مذاکرات میں مصروف تھا اور مذاکرات کے ذریعہ پُرفریب ہی سہی، حل نکالنا چاہتا تھا مگر مذاکرات کے نتیجہ خیز ہونے سےپہلے ہی اس نے فوج کشی کردی۔
جھوٹ بولنے میں ٹرمپ کا کوئی ثانی نہیں ۔ جھوٹ ہی کی ایک قسم یہ ہے کہ آدمی اپنے کہے پر قائم نہ رہے۔ ٹرمپ نے صدارتی الیکشن کے وقت کہا تھا کہ وہ جنگیں روکیں گے اور کسی نئی جنگ کا حصہ نہیں بنیں گے۔ وعدہ وفا نہ کرکے انہوں نے اپنی ساکھ گنوائی ہے۔ اسرائیل کو اس کی شیطنت سے امریکہ ہی باز رکھ سکتا تھا مگر خود امریکہ جنگ میں شامل ہوگیا۔ دوہرا معیار امریکہ کا پرانا دستور ہے مگر اس بار تہرا معیار اختیار کیا گیا۔ اس کا صدر ایک طرف بورڈآف پیس بنا رہا تھا، دوسری طرف مذاکرات کررہا تھا اور تیسری طرف جنگ کا نقشہ بنا رہا تھا۔
ٹرمپ دراصل نیتن یاہو کی جنگ لڑ رہے ہیں جن کی پالیسیوں سے ان ہی کے عوام ناراض ہیں اور الیکشن قریب آرہا ہے جو اسی سال اکتوبر میں ہے۔ چونکہ جنگ کے ذریعہ قوم پرستی کا جذبہ اُبھارنا اور الیکشن جیتنا آسان ہے اسلئے نیتن یاہو یہ داؤ چل رہے ہیں جو ان کی دانست میں اُن کے گناہوں پر پردہ ڈال سکتا ہے۔ عدلیہ کو کمزور کرنا، حماس کے تباہ کن حملوں سے اسرائیل کو محفوظ نہ رکھ پانا (اکتوبر ۲۳ء)، دو سال تک اسرائیلی یرغمالوں کو آزاد نہ کروا پانا اور جون ۲۵ء میں ایرانی میزائلوں سے اسرائیلی علاقوں کو نہ بچا پانا حتیٰ کہ آئرن ڈوم کا بے اثر ہونا نیتن یاہو کے گناہ ہیں جو اَب جنگ کے ذریعہ الیکشن جیتنا چاہتے ہیں ۔ اگر وہ ہارے تو بدعنوانی کے سنگین الزامات انہیں جیل پہنچا سکتے ہیں ۔ ٹرمپ اسی لئے ان کی مدد کررہے ہیں مگر فی الحال ٹرمپ اور یاہو دونوں کی ساکھ داؤ پر ہے۔ تہران بھاری پڑ گیا، جس کی قوی امید ہے، تو دونوں کو فرار کا راستہ نہیں ملے گا۔