ایران میں جو کچھ ہورہا ہے نہایت افسوسناک ہے۔ کیوں ہورہا ہے اس سوال کا جواب بھی تکلیف پہنچانے والا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ کل تک کسی ملک پر حملہ کرکے، کئی دن، کئی ہفتوں یا کئی مہینوں تک جنگ جاری رکھ کر، اپنی فوج کا بھی نقصان کرکے، اربوں ڈالر برباد کرکے اور عالمی سطح پر رُسوائی اُٹھا کر جو قابل نفریں مقاصد حاصل کئے جاتے تھے اب اُن سے گریز کیا جارہا ہے۔
ایران میں جو کچھ ہورہا ہے نہایت افسوسناک ہے۔ کیوں ہورہا ہے اس سوال کا جواب بھی تکلیف پہنچانے والا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ کل تک کسی ملک پر حملہ کرکے، کئی دن، کئی ہفتوں یا کئی مہینوں تک جنگ جاری رکھ کر، اپنی فوج کا بھی نقصان کرکے، اربوں ڈالر برباد کرکے اور عالمی سطح پر رُسوائی اُٹھا کر جو قابل نفریں مقاصد حاصل کئے جاتے تھے اب اُن سے گریز کیا جارہا ہے۔ استعماری طاقتوں نے اب اندرونِ ملک شورش بھڑکانے کا طریقہ اپنالیا ہے تاکہ حکومت کمزور ہو اور پھر وہاں تبدیلیٔ اقتدار کو راہ دیتے ہوئے ایسے افراد کو منصہ شہود پر لایا جائے جو آلۂ کار کے طور پر کام کرسکتے ہوں ۔کہا جاسکتا ہے کہ یہی بنگلہ دیش میں ہوا اور پھر نیپال میں ہوا۔ دونوں ملکوں میں جو صورتحال تھی وہ ایران کی موجودہ صورتحال سے مختلف نہیں ہے اور جو شبہ اِن ملکوں کے تعلق سے تھا کہ مظاہرین کو کہیں سے کمک مل رہی ہے یا کوئی ان کے پیچھے ہے، وہی شبہ ایران کے تعلق سے بھی پختہ ہوتا جارہا ہے۔ ایرانی حکومت نے نہایت بے باکی اور بے خوفی کا مظاہرہ کرتے ہوئے صاف لفظوں میں امریکہ کو ذمہ دار قرار دیا ہے۔
ایران کے بعض حلقوں کا یہ خیال بالکل بے بنیاد نہیں ہوسکتا کہ جو کچھ وینزویلا میں ہوا، وہی ایران میں ہوسکتا تھا مگر ایرانی حکام نے اُسے ناکام بنادیا۔ ایرانی حکومت کا یہ کہنا بھی قطعی بے بنیاد نہیں ہوسکتا کہ فساد برپا کرنے والے عناصر کو بیرونِ ملک تربیت دی گئی ہے۔ شاہ ِ ایران کے صاحبزادہ کا یہ اعلان کہ عنقریب ایران پہنچ رہا ہوں کسی منصوبے کے بغیر نہیں ہوسکتا۔ ہنگامہ آرائی کرنے والوں سے گزشتہ ہفتے اُن کی یہ اپیل کہ مزید دو دن احتجاج جاری رکھیں اور توانائی نیز نقل و حمل سے متعلق کارکنان سے یہ کہنا کہ ملک گیر ہڑتال پر جائیں کسی سازش ہی کا حصہ ہوسکتا ہے ورنہ کوئی ہمدرد تو یہ نہیں چاہ سکتا کہ حالات خراب ہوں اور شہری فوت یا زخمی ہوں ۔
تازہ واقعات میں سے ایک یہ ہے کہ اب حکومت کی حمایت میں بھی مظاہرے ہورہے ہیں ۔ ہمارے پاس اتنی تفصیل نہیں ہے کہ قارئین کے سامنے موازنہ پیش کرسکیں جس سے نتیجہ نکل سکے کہ حکومت مخالف مظاہرین کی تعداد زیادہ ہے یا حکومت حامیوں کی تعداد زیادہ مگر ایک بات ضرور کہی جاسکتی ہے کہ حکومت مخالف مظاہرین آمادۂ تشدد تھے جن پر قابو پانے کیلئے طاقت کا استعمال کیا گیا۔ صاف ظاہر ہے کہ ان مظاہرین کا مقصد مطالبات منوانا نہیں ، ایسے حالات پیدا کرنا تھا جن کی نشاندہی ’’کسی ‘‘ کے ایجنڈا میں ظاہر کی گئی تھی۔ یہ ملک دوستی نہیں ہے۔
چونکہ غزہ جنگ کے دوران اسرائیل نے اچانک ایران پر حملہ کردیا تھا اور چند روزہ جنگ میں خود امریکہ شامل ہوگیا تھا اس لئے یہ بات کوئی نہیں مانے گا کہ ایران کے حکومت مخالف مظاہروں کو ان دو ملکوں کی پشت پناہی حاصل نہیں ہے۔ وہ تل ابیب ہو یا واشنگٹن، ان کے عزائم اُسی وقت ظاہر ہوگئے تھے۔ اس پر مستزاد ٹرمپ کی دھمکیاں ہیں جو روزانہ نئے تیوروں کے ساتھ منظر عام پر آرہی ہیں ۔ یہ بھی بہت کچھ سمجھاتی ہیں ۔ وینزویلا کے جمہوریت مخالف آپریشن کے بعد ٹرمپ کے حوصلے بھلے ہی بلند ہوں مگر ایران کو وینزویلا سمجھ لینا اُن کی سراسر غلطی ہے۔ وینزویلا، وینزویلا ہے اور ایران، ایران۔ دونوں کو ایک صف میں کھڑا کر کے ایک جیسا مقصد حاصل کرنا ممکن نہیں ۔ اس میں ٹرمپ کو شکست ہی ہونی ہے۔