امریکہ کے صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے منگل کو ایرانیوں پر زور دیا کہ وہ احتجاج جاری رکھیں اور کہا کہ ’’مدد راستے میں ہے۔ ‘‘ایران کی حکام نے بارہا امریکہ اور اسرائیل پر بدامنی بھڑکانے کا الزام عائد کیا ہے۔
EPAPER
Updated: January 14, 2026, 5:00 PM IST | Tehran
امریکہ کے صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے منگل کو ایرانیوں پر زور دیا کہ وہ احتجاج جاری رکھیں اور کہا کہ ’’مدد راستے میں ہے۔ ‘‘ایران کی حکام نے بارہا امریکہ اور اسرائیل پر بدامنی بھڑکانے کا الزام عائد کیا ہے۔
امریکہ کے صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے منگل کو ایرانیوں پر زور دیا کہ وہ احتجاج جاری رکھیں اور کہا کہ ’’مدد راستے میں ہے‘‘، کیونکہ مغربی ایشیائی ملک ایران میں حکومت مخالف مظاہرے تیسرے ہفتے میں داخل ہو گئے ہیں۔ ایران کی حکام نے بارہا امریکہ اور اسرائیل پر بدامنی بھڑکانے کا الزام عائد کیا ہے۔ منگل کو ایک نامعلوم ایرانی عہدیدار نے خبر رساں ایجنسی رائٹرز کو بتایا کہ احتجاج کے دوران تقریباً۲؍ ہزار افراد، جن میں سکیوریٹی اہلکار بھی شامل ہیں، ہلاک ہو چکے ہیں اور دعویٰ کیا کہ ان ہلاکتوں کے پیچھے’’دہشت گرد‘‘ تھے۔ یہ پہلا موقع تھا کہ ملک کے حکام نے مظاہرین کے خلاف کریک ڈاؤن کے بعد اتنی زیادہ ہلاکتوں کا اعتراف کیا۔ منگل کو ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر کہا:’’ایرانی محب وطنو، احتجاج جاری رکھو، اپنے اداروں پر قبضہ کرو! قاتلوں اور ظلم کرنے والوں کے نام محفوظ رکھو۔ انہیں بھاری قیمت چکانی پڑے گی۔ ‘‘انہوں نے مزید کہا: ’’مدد راستے میں ہے۔ ‘‘ٹرمپ نے یہ بھی کہا کہ انہوں نے ایرانی حکام کے ساتھ اپنی تمام ملاقاتیں اس وقت تک منسوخ کر دی ہیں جب تک ’’مظاہرین کے بے مقصد قتل بند نہیں ہو جاتے۔ ‘‘
اسرائیل میں فضائیہ الرٹ پر، امریکہ ایران پر حملے کا حکم دے سکتا ہے
اسرائیلی میڈیا کے مطابق، ایران پر ممکنہ امریکی حملے کی اطلاعات کے پیشِ نظر اسرائیل نے اپنی فضائیہ اور فوجی یونٹس کیلئےالرٹ کی سطح بڑھا دی ہے۔ معاریو اخبار نے اسرائیلی فوجی ذرائع کے حوالے سے بتایا کہ فضائیہ، ملٹری انٹیلی جنس سروس اور نادرن کمانڈ میں الرٹ لیول میں اضافہ کر دیا گیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق، ہوم فرنٹ پر تیاری کی سطح میں تبدیلی کا کوئی فیصلہ نہیں کیا گیا۔ اخبار کے مطابق، فوج ایران میں ہونے والی پیش رفت پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے، کیونکہ خدشہ ہے کہ امریکی فوج تہران پر حملہ کر سکتی ہے۔ معاریو کے مطابق، اسرائیلی فوج ایران پر کسی بھی ممکنہ حملے کے حوالے سے امریکی سینٹرل کمانڈ کے ساتھ رابطے اور ہم آہنگی میں ہے۔
یہ بھی پڑھئے: غزہ میں ۹۵۰۰۰؍ بچے غذائی قلت کا شکار، ۱۸۰۰۰؍ افراد کو فوری طبی ضرورت: یو این
صدر پزشکیان کی حکومت حامی ریلی میں شرکت
ایران کے صدر مسعود پزشکیان نے تہران میں حکومت کے حق میں نکالی گئی ایک ریلی میں شرکت کی۔ یہ احتجاج تہران کے انقلاب اسکوائر میں منعقد ہوا، جہاں حکومت کی حمایت کے اظہار کیلئےہزاروں افراد جمع ہوئے۔
ایرانی حکام نے شہریوں کی موت کا ذمہ دار ٹرمپ اور نیتن یاہو کو قرار دیا
ایک سینئر ایرانی عہدیدار نے امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی جانب سے پرتشدد مظاہروں میں مداخلت کی تازہ دھمکی پر ردِعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ ایرانی شہریوں کے قتل کے ذمہ دار امریکہ اور اسرائیل ہوں گے۔ ٹرمپ کی سوشل میڈیا پوسٹ کے فوراً بعد، جس میں انہوں نے ایرانی عوام سے سرکاری اداروں پر’’قبضہ کرنے‘‘ کی اپیل کی، ایران کے سابق اسپیکرِ پارلیمنٹ اور سپریم نیشنل سیکوریٹی کونسل کے سیکریٹری علی لاریجانی نے ایکس پر لکھا:’’ہم ایران کے عوام کے اصل قاتلوں کے ناموں کا اعلان کرتے ہیں :(۱) ٹرمپ(۲) نیتن یاہو۔ ‘‘ یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ٹرمپ نے ایرانی عوام سے ملک کی قیادت کے خلاف احتجاج جاری رکھنے کی اپیل کی اور انہیں کہا کہ ’’مدد آ رہی ہے۔‘‘
یہ بھی پڑھئے: ایران پر حملہ کا خطرہ شدید تر، امریکہ کو روس کا سخت انتباہ
اقوام متحدہ کے ماہرین نے مذاکرات پر زور دیا
اقوامِ متحدہ کے انسانی حقوق کے ماہرین نے منگل کو ایران میں ۲۸؍ دسمبر۲۰۲۵ء سے شروع ہونے والے ملک گیر مظاہروں کے دوران انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کی مذمت کی اور مظاہرین کے تحفظ اور حقِ حیات کو یقینی بنانے کیلئے فوری اقدامات کا مطالبہ کیا۔ یہ مظاہرے ابتدا میں شدید معاشی حالات، جن میں ریکارڈ مہنگائی اور کرنسی کے انہدام شامل ہیں، کے باعث شروع ہوئے اور بعد ازاں پورے ملک میں پھیل گئے۔ مظاہرین اپنے اختلاف کا اظہار کر رہے ہیں اور اہم سیاسی اور حکمرانی سے متعلق تبدیلیوں کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ ماہرین نے کہا:’’پرامن مظاہرین کے خلاف مہلک طاقت کا استعمال، من مانی گرفتاریاں جن میں بچوں کی گرفتاریاں بھی شامل ہیں اور طبی سہولیات پر حملے بین الاقوامی انسانی حقوق کے قانون کی واضح خلاف ورزیاں ہیں۔ ‘‘ انہوں نے یاد دلایا کہ ریاستوں پر لازم ہے کہ وہ جان اور آزادی سے من مانے طور پر محروم کئے جانے کو روکیں۔ اقوامِ متحدہ کے ماہرین نے نوٹ کیا کہ اگرچہ ابتدا میں ایرانی حکام کا ردِعمل نسبتاً محتاط دکھائی دیتا تھا، لیکن حالیہ دنوں میں صورتحال پرتشدد ہو گئی ہے۔ اطلاعات کے مطابق سیکوریٹی فورسیز نے بڑے پیمانے پر پرامن مظاہرین کے خلاف مہلک اور حد سے زیادہ طاقت استعمال کی، جس میں رائفلوں سے براہِ راست فائرنگ، دھاتی چھروں سے بھری شاٹ گنز، واٹر کینن، آنسو گیس اور جسمانی تشدد شامل ہے۔
ماہرین نے کہا:’’مہلک طاقت کا استعمال صرف آخری چارۂ کار کے طور پر، اور صرف اس صورت میں کیا جا سکتا ہے جب جان کے تحفظ کیلئے ناگزیر ہو، اور اس کا استعمال قانونی حیثیت، ضرورت، تناسب اور احتیاط کے اصولوں کے مطابق ہونا چاہئے۔‘‘
یہ بھی پڑھئے: سعودی عرب: محکمہ تجارت کی تھیلوں اور پیکجنگ پر’اللہ‘ کے نام لکھنے پر پابندی عائد
اپنے سفیروں پر پابندی کے بعد ایران کا یورپی یونین کے خلاف کارروائی کا عندیہ
ایران نے اپنے سفیروں پر پابندیوں کے بعد یورپی یونین کے خلاف جوابی کارروائی کا عندیہ دے دیا ہے۔ ایرانی وزارتِ خارجہ نے کہا ہے کہ یورپی یونین کے حالیہ اقدامات غیر دوستانہ اور سفارتی آداب کے منافی ہیں۔ بیان میں واضح کیا گیا کہ ایران اپنے قومی مفادات کے تحفظ کیلئے مناسب اور متناسب ردِعمل دینے کا حق محفوظ رکھتا ہے۔ حکام کے مطابق یورپی یونین کے فیصلوں سے دوطرفہ تعلقات مزید کشیدہ ہونے کا خدشہ ہے۔ ایران نے الزام عائد کیا کہ یورپی یونین داخلی معاملات میں مداخلت کر رہی ہے۔ وزارتِ خارجہ نے خبردار کیا کہ پابندیوں کا جواب سفارتی اور سیاسی سطح پر دیا جائے گا۔ ماہرین کے مطابق اس پیش رفت سے ایران اور یورپی یونین کے تعلقات میں مزید تناؤ پیدا ہو سکتا ہے۔