• Sun, 30 November, 2025
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

طلبہ کی تخلیقی صلاحیت کا تحفظ ضروری

Updated: November 30, 2025, 6:49 PM IST | Inquilab News Network | mumbai

آج سے تین سال پہلے (۳۰؍ نومبر ۲۲ءکو) چیٹ جی پی ٹی۔۳ ؍ لانچ کیا گیا تھا۔ تب سے لے کر اب تک،حالانکہ محض تین سال گزرے ہیں مگر، تکنالوجی کی اس حیرت انگیز ایجاد نے اتنی مقبولیت حاصل کرلی ہے کہ اس کا عادی ہوجانے کا اندیشہ روز بہ روز بڑھتا جارہا ہے۔

INN
آئی این این
آج سے تین سال پہلے (۳۰؍ نومبر ۲۲ءکو) چیٹ جی پی ٹی۔۳ ؍ لانچ کیا گیا تھا۔ تب سے لے کر اب تک،حالانکہ محض تین سال گزرے ہیں  مگر، تکنالوجی کی اس حیرت انگیز ایجاد نے اتنی مقبولیت حاصل کرلی ہے کہ اس کا عادی ہوجانے کا اندیشہ روز بہ روز بڑھتا جارہا ہے۔ جس طرح وِکی پیڈیا ضرورت بن گیا، اس سے پہلے گوگل نے اپنی جگہ بنالی، اس طرح اب یہ نیا آلہ ہے۔ طالب علموں  میں  اس کے تئیں  دلچسپی اس حد تک ہے کہ کوئی بھی سوال پوچھئے، کسی بھی موضوع پر لکھنے کیلئے کہئے، وہ چیٹ جی پی ٹی سے فوراً رجوع کرتے ہیں ۔ یہ شکایت اساتذہ کی جانب سے بھی مل رہی ہے اور والدین کی جانب سے بھی۔
ایسا نہیں  کہ یہ صرف ہمارے یہاں  ہورہا ہے۔ عالمی سطح پر ایجوکیٹرس جہاں  اس کی خوبیوں  اور اس سے پیدا شدہ آسانیوں  کے معترف ہیں  وہیں  اس کے نقصانات کو بھی دیکھ رہے ہیں ۔ ۱۲؍ جنوری ۲۳ء کو کیون روز نے ’’دی نیویارک ٹائمس‘‘ میں  لکھا کہ ’’حال ہی میں  مَیں  نے اساتذہ اور پبلک اسکول ایڈمنسٹرس سے خطاب کیا۔ عنوان تھا: اے آئی، طلبہ امکانات سے پُر مستقبل سے کیسے ہم آہنگ ہوں ؟ میرا مقصد یہ بتانا تھا کہ دیکھئے، پڑھانے اور پڑھنے، سکھانے اور سیکھنے کے عمل میں  اے آئی کے ٹولس انقلابی تبدیلیاں  لا سکتے ہیں  مگر دوران گفتگو مجھے احساس ہوا کہ مَیں  جن لوگوں  سے مخاطب ہوں  اُنہیں  اے آئی کے مختلف ٹولس کی تعلیمی معاونت سے دلچسپی نہیں  وہ چیٹ جی پی ٹی سے بہت خوش ہیں  جو اُن کے ریاضی اور سائنس کے مسائل حل کردیتا ہے، مضمون لکھ دیتا ہے اور ورکنگ کمپیوٹر کوڈ بنا دیتا ہے۔‘‘ کیون روز نے لکھا ہے، اور یاد رہے کہ یہ بات عالمی سطح پر کی جارہی ہے، کہ چیٹ جی پی ٹی نے اساتذہ کی بہت بڑی تعداد کو تشویش متفکر کردیا ہے اور وہ کہہ رہے ہیں  کہ چیٹ جی پی ٹی کی وجہ سے ہوم ورک کا مقصد فوت ہورہا ہے۔
  سوچئے تو عقل گم ہوجاتی ہے کہ ہم کس دور میں  زندگی گزار رہے ہیں ! طالب علمی میں  بالخصوص اسکولی تعلیم کا زمانہ طلبہ کی تخلیقی صلاحیتوں  کی نشوونما کا دور ہوتا ہے۔ اگر اس دور میں  صلاحیتوں  کو پروان چڑھنے کا موقع نہیں  ملا تو کیا مشینوں  کے سپرد کرکےخود کو ضائع کردینے جیسے حالات نہیں  پیدا ہوجائینگے؟ ہم یہ نہیں  کہتے کہ طلبہ کو تکنالوجی سے دور رکھا جائے۔ ایسی بات کہی بھی نہیں  جاسکتی کیونکہ تکنالوجی حال بھی ہے اور مستقبل بھی مگر انسان خود نہیں  سو چے گا، خود نہیں  لکھے گا، اپنے خیال  و احساس کو ضبط تحریر میں  لانے کی مشق نہیں  کرے گا اور جو کچھ بھی مشین سے مل رہا ہے اُسی پر خوشی سے پھولا نہ سمائے گا تو کیا اس کی صلاحیتیں  پختہ ہونے سے پہلے زنگ آلود نہیں  ہوجائینگی؟ ہم تعلیمی انقلاب میں  ہر ہفتے ایک موضوع دیتے ہیں  تاکہ طلبہ اُس پر اپنے خیالات کا اظہار کریں ۔ جب بھی ہمیں  چند تحریروں  پر شبہ ہوتا ہے، ہم طالب علم یا اُس کے اسکول سے رابطہ کرکے اپنے شبہ کا اظہار کردیتے ہیں ۔ خود تعلیمی انقلاب میں  نوٹ لگا چکے ہیں  کہ چیٹ جی پی ٹی سے حاصل کی گئی تحریروں  کو شامل اشاعت نہیں  کیا جائیگا۔
مشین کو مشین کی طرح استعمال کیا جائے یہ بات طلبہ کے ذہنوں  پر نقش ہوجائے یہ کوشش اساتذہ کی بھی ہو اوروالدین کی بھی۔ چیٹ جی پی ٹی سے چیٹنگ (دھوکہ دہی) کی عادت بھی پڑ سکتی ہے اور اس کو بُرا نہ سمجھنا عام ہوسکتا ہے ۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK