شمالی کوریا نے اسکولوں میں روسی زبان کو لازمی مضمون کے طور پر متعارف کرایا، شمالی کوریا اور روس کے مابین تعلقات میں بہتری کے درمیان کوریا نے یہ فیصلہ کیا، جبکہ روسی وزیر کے مطابق ۳؍ ہزار روسی اسکول کے بچے کوریائی زبان کی تعلیم حاصل کر رہے ہیں۔
EPAPER
Updated: November 30, 2025, 8:07 PM IST | Pyongyang
شمالی کوریا نے اسکولوں میں روسی زبان کو لازمی مضمون کے طور پر متعارف کرایا، شمالی کوریا اور روس کے مابین تعلقات میں بہتری کے درمیان کوریا نے یہ فیصلہ کیا، جبکہ روسی وزیر کے مطابق ۳؍ ہزار روسی اسکول کے بچے کوریائی زبان کی تعلیم حاصل کر رہے ہیں۔
روس اورشمالی کوریا کے درمیان تعلقات میں بہتری کے درمیان شمالی کوریا نے اسکولوں میں روسی زبان کو لازمی مضمون کے طور پر متعارف کرایا ہے۔روسی وزیر برائے قدرتی وسائل و ماحولیات اور روس-شمالی کوریا باہمی کمیشن کے شریک چیئرپرسن الیگزینڈر کوزلوف نے اس پیشرفت کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ اس وقت۳؍ ہزار سے زائد روسی طلبہکوریائی زبان سیکھ رہے ہیں۔کوزلوف نے کہا، ’’چوتھی جماعت سے شروع ہو کر شمالی کوریا کے اسکولوں میں روسی زبان کو لازمی زبان کے طور پر متعارف کرایا گیا ہے۔ روس میں، اس وقت۳؍ ہزار سے زیادہ اسکولی بچے کوریائی زبان کی تعلیم حاصل کر رہے ہیں۔ ان میں سے زیادہ تر کوریائی کو دوسری یا تیسری غیر ملکی زبان کے طور پر پڑھ رہے ہیں۔‘‘
یہ بھی پڑھئے: غزہ: دو سال بعد اسلامی یونیورسٹی میں دوبارہ براہ راست تعلیم کا آغاز
بعد ازاں روسی وزیر نے کہا کہ ، دونوں ممالک بینک، توانائی اور طبی تعلیم سمیت دیگر شعبوں میں بھی تعاون کر رہے ہیں۔واضح رہے کہ حالیہ برسوں میں شمالی کوریا کے روس کے ساتھ تعلقات مضبوط ہوئے ہیں، جس میں ماسکو-کیف جنگ میں کوریائی فوجیوں کی تعیناتی بھی شامل ہے۔ستمبر میں، چینی دارالحکومت بیجنگ میں شمالی کوریا کے لیڈرکم جونگ ان کے ساتھ ملاقات کے دوران، روسی صدر ولادیمیر پوتن نے پہلی بار اعتراف کیا تھا کہ شمالی کوریا کے فوجیوں نے یوکرین جنگ میں کم کی پہل پر حصہ لیا تھا۔
بعد ازاں اپریل میں، جنوبی کوریا کی نیشنل انٹیلی جنس سروس نے قانون سازوں کو بتایا تھا کہ کم از کم ۶۰۰؍ شمالی کوریائی فوجی یوکرین کے خلاف روسی افواج کے شانہ بشانہ لڑتے ہوئے ہلاک ہوئے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ پیانگ یانگ کو تقریباً۴۷۰۰؍ سے زیادہ جانی نقصان اٹھانا پڑا ہے۔ مزید برآں شمالی کوریا اور روس نے گزشتہ سال ایک جامع اسٹریٹجک شراکت داری پر دستخط کیے تھے، جس کے مطابق اگر دونوں میں سے کسی پر تیسرے فریق کی طرف سے حملہ ہوا ایسی صورت میں باہمی فوجی تعاون کیا جائے گا۔