جنگ کی وجہ سے پوری دُنیا کے معاشی حالات متزلزل ہیں۔ جنگ چند روز میں ختم ہوجائے، جیسا کہ ٹرمپ کی گھبراہٹ اور پیچھے ہٹنے کے اشارے سے ظاہر ہے، تب بھی عالمی معیشت کا جو نقصان ہوا اور ہرگزرتے دن کے ساتھ اس پر جو اثرات مرتب ہورہے ہیں اُن کا ازالہ آسان نہیں ہوگا۔
اسرائیل جنگ۔ تصویر:پی ٹی آئی
جنگ کی وجہ سے پوری دُنیا کے معاشی حالات متزلزل ہیں۔ جنگ چند روز میں ختم ہوجائے، جیسا کہ ٹرمپ کی گھبراہٹ اور پیچھے ہٹنے کے اشارے سے ظاہر ہے، تب بھی عالمی معیشت کا جو نقصان ہوا اور ہرگزرتے دن کے ساتھ اس پر جو اثرات مرتب ہورہے ہیں اُن کا ازالہ آسان نہیں ہوگا۔ ایران نے آبنائے ہرمز بند کرکے (دوست ملکوں کو چھوڑ کر) جہاں یہ ظاہر کیا ہے کہ اُس کے اہل اقتدار امریکی اہل اقتدار کی طرح نہیں ہیں کہ کبھی کچھ کہیں اور کبھی کچھ، وہیں یہ بھی ثابت کیا ہے کہ اُنہوں نے جو کہا وہ کر دکھانے میں تردد نہیں کیا، مگر آبنائے ہرمز کے بند ہونے سے تیل کی قلت کا پیدا ہونا اور اس کی قیمتوں کا بڑھنا لازمی تھا، سو اَب کئی ممالک اس کی وجہ سے پریشان ہیں۔ کم و بیش ۸۵؍ ملکوں نے ایندھن کی قیمت بڑھا دی ہے اور ممکن ہے کہ اپریل تک قیمت مزید بڑھے، ایئر لائنز کا نقصان ہورہا ہے، امپورٹ ایکسپورٹ کی رفتار مدھم پڑ چکی ہے، شیئر مارکیٹس غیر یقینی حالات سے دوچار ہیں، سرمایہ کاروں کا اعتماد کم ہورہا ہے، کئی ملکوں میں پیٹرول اور ڈیزل کے دام بڑھنے شروع ہوگئے ہیں اورگھریلو نیز تجارتی استعمال کے ایندھن کی قلت اور قیمت نئی نئی مشکلات پیدا کررہی ہے۔
وطن عزیز میں بھی کچھ ایسی ہی کیفیت ہے۔ حالانکہ جنگ تین ہزار کلو میٹر دور جاری ہے مگر زمینی حالات بدل رہے ہیں۔ ایل پی جی کی قلت، کالابازاری اور مہنگائی نے ریستوراں مالکان کی نیند اُڑا دی ہے۔ کئی جگہوں پر ریستوراں بند کردیئے گئے ہیں یا اُن کی خدمات کا دائرہ محدود کردیا گیا ہے۔ ہرچند کہ حالات کووڈ کے دَور جیسے نہیں ہیں مگر ایسے تو ضرور ہوگئے ہیں کہ لوگ کووڈ کے دور کو یاد کرنے لگیں۔ وزیر اعظم نریندر مودی نے کل پارلیمنٹ میں جو تقریر کی اُس میں اُنہوں نے بھی کووڈ کے دور کو یاد کیا اور اُمید ظاہر کی کہ عوام نے اُس دور میں جس طرح حکومت کا ساتھ دیا تھا، اب بھی اُسی طرح تعاون کرینگے مگر کووڈ میں باہر نکلنا مشکل تھا، اب تو چولہا نہ جلنے کی نوبت آگئی ہے اور دونوں میں بہرحال فرق ہے۔
ریستورانوں اور سڑکوں کے کنارے لگنے والے غذائی خوانچوں کی خدمات کے موقوف یا محدود ہونے کی وجہ سے ان مراکز پر کام کرنے والوں کیلئے بھی مسائل پیدا ہورہے ہیں۔ ایک رپورٹ کے مطابق ایل پی جی بحران کی وجہ سے فوڈ ڈلیوری ایجنٹس کو آن لائن آرڈرس میں ۴۰؍ فیصد گراوٹ کا سامنا ہے۔ اسی طرح یومیہ اُجرت پر کام کرنے والے چھوٹے شہروں کے مزدور جو خود کھانا پکاتے ہیں، وہ لکڑیاں جلانے پر مجبور ہوئے ہیں۔ جو لوگ بسی یا کسی اور جگہ سے کھانا قیمتاً حاصل کرتے ہیں، ہوٹلوں اور ریستورانوں کے کبھی کھلا اور کبھی بند ہونے کی وجہ سے پریشان تھے ہی، اب اُنہیں یہ اندیشہ لاحق ہے کہ اگر ہوٹل بند ہوگئے تو کھائیں گے کہاں، اسی باعث اُن میں سے کئی اب وطن لوٹ رہے ہیں۔ دینک بھاسکر کی سورت (گجرات) سے جاری ایک خبر کے مطابق مہاجر مزدور اسلئے پریشان ہیں کہ ۱۰۰؍ روپے فی کلو کا چھوٹا سلنڈر اب ۳۰۰، ۴۰۰؍ روپے میں مل رہا ہے جبکہ بڑے سلنڈر کی قیمت ۵؍ ہزار تک پہنچ گئی ہے۔ کرائے کے فلیٹ میں رہتے ہیں اس لئے وہاں اسٹو جلانے کی ممانعت ہے۔ مزدور چلے گئے تو کئی سیکٹر متاثر ہونگے اور معیشت، جو پہلے ہی دباؤ میں تھی، مزید تشویش پیدا کرسکتی ہے۔