Inquilab Logo Happiest Places to Work

تارکین وطن اور امدادی کارکنوں کو نفرت اور غلط معلومات سے خطرہ:اقوام متحدہ

Updated: July 09, 2026, 11:42 AM IST | Agency | New York

یو این ایچ سی آر کی اعلیٰ سطحی مشیر گیزیلا لومیکس کے مطابق غلط اور گمراہ کن معلومات کا پھیلاؤ امدادی سرگرمیوں اور ان سے وابستہ افراد کی سلامتی کے لئے سنگین خطرہ بنتا جا رہا ہے۔

Migrants Arriving In Libya After Being Displaced In Sudan.Photo:INN
سوڈان میں بےگھر ہونے کےبعد لیبیا پہنچنے والے تارکین وطن۔تصویر:آئی این این
پناہ گزینوں کے لئے اقوام متحدہ کے ادارے (یو این ایچ سی آر) نے خبردار کیا ہے کہ غلط اور گمراہ کن معلومات، نفرت انگیز تقاریر اور ڈیپ فیک ٹیکنالوجی کے بڑھتے استعمال سے تارکین وطن اور امدادی کارکنوں کے خلاف تشدد کو ہوا مل رہی ہے۔
 
 
اطلاعاتی دیانت پر ادارے کی اعلیٰ سطحی مشیر گیزیلا لومیکس نے جنیوا میں اقوام متحدہ کے مختلف اداروں کی مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ مصنوعی ذہانت معلوماتی نظام کی ساکھ کو درپیش خطرات میں اضافہ کر رہی ہے۔ اگر اس کا درست انداز میں انتظام کیا جائے تو یہی ٹیکنالوجی اس مسئلے کے حل کا بھی حصہ بن سکتی ہے۔انہوں نے بتایا کہ یو این ایچ سی آر نے جنیوا میں ’مصنوعی ذہانت برائے بہتری کانفرنس ‘کے موقع پر حکومتوں، ٹیکنالوجی کے شعبے اور یونیورسٹیوں کے ماہرین کو ایک پلیٹ فارم پر اکٹھا کیا تاکہ اطلاعاتی مسائل سے موثر انداز میں نمٹنے کے طریقوں پر غور کیا جا سکے۔گیزیلا لومیکس نے خبردار کیا کہ غلط اور گمراہ کن معلومات کا پھیلاؤ امدادی سرگرمیوں اور ان سے وابستہ افراد کی سلامتی کے لئے سنگین خطرہ بنتا جا رہا ہے۔ حالیہ عرصہ میں ادارے کی سرگرمیوں اور اس کے عملے کو نشانہ بنانے والی جھوٹی، گمراہ کن اور معاندانہ مہمات میں اضافہ ہوا ہے جو ایسے وقت عطیات اور مالی معاونت پر بھی منفی اثر ڈال سکتی ہیں جب امدادی بجٹ سکڑ رہے ہیں اور ضرورت مند افراد کی تعداد مسلسل بڑھ رہی ہے۔
ادارے کے ایک حالیہ جائزے میں ۹۳؍فیصد عملے نے بتایا ہے کہ انہوں نے ایسی غلط معلومات، منظم گمراہ کن مہمات یا نفرت انگیز مواد کا مشاہدہ کیا ہے جس نے ان کے کام کو متاثر کیا۔رپورٹ کے مطابق  تارکین وطن خواتین اور ادارے کی خواتین اہلکار اس منفی مہم کا غیر متناسب طور پر شدید نشانہ بنتی ہیں جبکہ تخلیقی مصنوعی ذہانت اس مسئلے کو بڑے پیمانے پر مزید سنگین بنا رہی ہے۔گیزیلا لومیکس نے لیبیا کی مثال دیتے ہوئے بتایا کہ وہاں اظہار نفرت اور خطرناک گمراہ کن معلومات کی لہر نے تارکین وطن کے خلاف نفرت اور بدسلوکی کو ہوا دی جس کے باعث ادارے کے عملے اور دیگر امدادی کارکنوں کی سلامتی بھی متاثر ہوئی۔
گیزیلا لومیس نے کہا کہ ’یو این ایچ سی آر‘ آزادی اظہار کو بنیادی انسانی حق سمجھتا ہے اور پناہ کے خواہش مند وں اور تارکین وطن سمیت سبھی کو معلومات کے حصول اور انہیں دوسروں تک پہنچانے کا حق حاصل ہے۔
انہوں نے کہا کہ انسانی اسمگلر اورا سمگلنگ کے دیگر نیٹ ورک بھی ڈیجیٹل پلیٹ فارم استعمال کرتے ہوئے جھوٹی معلومات پھیلا سکتے ہیں۔ وہ نقل مکانی پر مجبور افراد کو تحفظ، قانونی راستوں یا روزگار کے جھوٹے وعدوں کے ذریعے دھوکہ دیتے ہیں جس کے نتیجے میں یہ لوگ مشکلات میں پھنس جاتے ہیں۔
گیزیلا لومیکس نے اس مسئلے سے نمٹنے کے لئے جاری مشترکہ کوششوں کا ذکر کرتے ہوئے معلوماتی تحفظ پر کثیر فریقی عہد کا حوالہ دیا جسے گوگل کے اشتراک سے ۲۰۲۳ءتارکین وطن کے عالمی فورم میں شروع کیا گیا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ اقدام مستقبل میں مزید موثر بین الاقوامی تعاون کے لئے مثال بن سکتا ہے۔
 
 
آخر میں انہوں نے کہا کہ ترک وطن کا مسئلہ تیزی سے اپنی شکلیں بدل رہا ہے اور کوئی ایک ادارہ اکیلا اس سے نہیں نمٹ سکتا۔ اسی لئے ضروری ہے کہ مصنوعی ذہانت کے ضابطہ کار اور انتظام پر ہونے والی عالمی بحث میں تارکین وطن اور امدادی کارروائیوں سے متعلق مسائل کو بطور خاص مدنظر رکھا جائے۔

 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK