Inquilab Logo Happiest Places to Work

کیا جنگ رکی رہے گی؟

Updated: April 20, 2026, 4:49 PM IST | Inquilab News Network | mumbai

ایران کے خلاف امریکہ اور اسرائیل کی جنگ، جو کم و بیش چالیس روز جاری رہی، فی الحال موقوف ہے، نہ تو بند ہوئی ہے نہ ہی ختم ہوئی ہے۔ ٹرمپ کب بھڑک جائیں (یہاں بھڑک دانستہ استعمال کیا گیا ہے) اور کب پھر سے جنگ بھڑکا دیں ، کہا نہیں جا سکتا

INN
آئی این این
ایران کے خلاف امریکہ اور اسرائیل کی جنگ، جو کم و بیش چالیس روز جاری رہی، فی الحال موقوف ہے، نہ تو بند ہوئی ہے نہ ہی ختم ہوئی ہے۔ ٹرمپ کب بھڑک جائیں  (یہاں بھڑک دانستہ استعمال کیا گیا ہے) اور کب پھر سے جنگ بھڑکا دیں ، کہا نہیں  جا سکتا کیونکہ وہ بھڑکنے والوں  میں  سے تو ہیں  بہکنے والوں  میں  سے بھی ہیں  اور نیتن یاہو انہیں  کبھی بھی بہکا سکتے ہیں ۔ نیتن یاہو کے پھیر میں  پڑ کر ہی انہوں  نے اپنے ملک کو جنگ میں  جھونکا اور نقصان اٹھایا۔ جنگی اخراجات سے متعلق جو اعدادوشمار ہمارے سامنے ہیں  ان پر یقین نہیں  آتا۔ کیا آج کے دور میں  جنگ اتنی مہنگی ہوگئی ہے؟ مگر اخراجات کا اندازہ لگانے والے بے پر کی تو نہیں  ہانکتے۔ ان کا کہنا ہے کہ امریکہ نے کم و بیش ایک ارب ڈالر روزانہ خرچ کئے۔ ایک ارب ڈالر وہ بھی یومیہ! کتنے افسوس کا مقام ہے کہ ایک ایسی جنگ جس کا کوئی جواز نہیں ، جس کا کوئی سبب نہیں ، جو قطعی بلا اشتعال تھی اور جس سے بہت آسانی سے بچا جا سکتا تھا، محض اس لئے چھیڑی گئی کہ اسرائیل کو ایران سے ڈر لگتا ہے۔ اسی ڈر کے مارے اس نے امریکہ کو ڈرایا جس نے اسرائیل کے ڈر کو اپنا ڈر بنا لیا اور حملہ کردیا، اور اب پچھتا رہا ہے کہ کاش ایران کو وینزویلا نہ سمجھا ہوتا تو ایک ارب ڈالر روزانہ خرچ نہ کرنا پڑتا۔ امریکہ کے پاس بہت دولت ہے مگر بہت قرض بھی ہے۔ امریکی بہت خوشحال ہیں  مگر مہنگائی ان کیلئے بھی پریشان کن ہوتی ہے۔ جنگ کی وجہ سے امریکہ کو جو اضافی خرچ اٹھانا پڑ رہا ہے وہ اس کیلئے ناقابل برداشت ہے۔ اس لئے ٹرمپ نے پیچھے ہٹنا شروع کیا اور اب کسی بھی قیمت پر جنگ ختم کرنے کے فراق میں  ہیں  مگر ان سے کچھ بعید نہیں  ہے۔ یہ کسی بھی لمحہ ممکن ہے کہ نیتن یاہو بہکا دیں  اور وہ نئے سرے سے بہک جائیں ۔ مگر ذرا سوچئے کہ اتنے بڑے ملکوں  کے حکمراں  بھی کتنےکمزور مکانوں  میں  رہتے ہیں ۔ ان کا کوئی عزم ہے نہ ان میں  مستقل مزاجی ہے۔ ان سے نوشتہ دیوار بھی پڑھا نہیں  جاتا۔ جس دن ناٹو نے امریکہ کا ساتھ دینے سے انکار کیا تھا ٹرمپ کو خبردار ہو جانا چاہئے تھا کہ یہ انکار بہت گل کھلا سکتا ہے۔ ٹرمپ نے اپنے مطالبے پر نگاہ نہیں  دوڑائی، ناٹو سے ناراض ہوگئے مگر ناٹو کے انکار میں  موجود انتباہ کو نہیں  سمجھ سکے۔ ایک ارب ڈالر روزانہ کے حساب سے کم و بیش پچاس ارب ڈالر تو ان کی جیب سے نکل گئے۔
ایک طرف اتنا خرچ (وہ بھی صرف امریکہ کا، اس میں  اسرائیل اور ایران کا خرچ تو جوڑا ہی نہیں  گیا) اور دوسری طرف بھوک کا یہ عالم ہے کہ سوڈان کی تقریباً آدھی آبادی غذا کی شدید قلت سے نبرد آزما ہے۔ اندازہ ہے کہ اگر غذائی بحران ختم نہ کیا گیا تو بیالیس لاکھ بچے تغذیہ کی کمی سے پیدا ہونے والے مسائل کا شکار ہوں  گے۔ عالمی ادارہ صحت نے چند روز پیشتر کہا ہے کہ غذائی بحران اور پھر صحت کے بحران کے سبب بھیانک انسانی بحران پیدا ہو رہا ہے۔ کیا امریکہ اور اس کے صدر ٹرمپ کو اس بحران کا علم نہیں  ہے؟ جنگ تب بھی قابل نفرین قرار پاتی جب سوڈان کا بحران نہ ہوتا۔ مگر اس بحران کی وجہ سے جنگ پر مزید سوالیہ نشان لگ گئے ہیں ۔ تاریخ امریکیوں  سے پوچھے گی کہ آپ غیر ضروری جنگ پر کیوں  خرچ کرتے رہے جبکہ آپ کو سوڈانی بچوں  کی فکر کرنی چاہئے تھی۔ ٹرمپ بتائیں  اس کا کیا جواب ہے ان کے پاس؟  

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK