• Mon, 12 January, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

’’آجکل‘‘ کا ایک شمارہ اور تہذیبی زندگی کو قوت دینے کی روِش

Updated: January 12, 2026, 3:08 PM IST | Professor Sarwar Al-Huda | mumbai

ماہناموں یا سہ ماہی پرچوں کے پرانے شماروں کی ورق گردانی اور مطالعہ سے عہدِ سابق کی علمی و تہذیبی زندگی کے متعدد گوشے وا ہوتے ہیں۔ جب بھی اور جہاں بھی ممکن ہو ان سے استفادہ کرنا چاہئے۔

INN
آئی این این
میرے وطن کی لائبریری میں  ، جو میری والدہ سے منسوب ہے، ’’آجکل‘‘ کے کئی قدیم شمارے موجود ہیں  ۔ گھر آتا ہوں   تو زیادہ وقت انہی قدیم رسالوں   کے مطالعے میں   گزر تا ہے۔ نئی کتابوں   کی بھیڑ میں   قدیم رسالوں   کا کاغذ اور رنگ آنکھوں   کو کسی اور طرح سے روشن کرتا ہے۔آج ’’آجکل ‘‘ کا ایک ایسا شمارہ میرے مطالعے میں   ہے جس کی پیشانی پر سال نامہ آج کل ۱۹۴۶ء لکھا ہوا ہے۔ ابھی ملک نہ تو آزاد ہوا تھا نہ ہی ملک کی تقسیم ہوئی تھی۔ یکم جون ۱۹۴۶ء کا یہ شمارہ تاریخی اور تہذیبی حوالوں   کے ساتھ ایک پیغام بھی ہے اور تحریک بھی۔ یکم جون ۱۹۴۶ء کی تاریخ دھیرے دھیرے ملک کی آزادی کی طرف قدم بڑھاتی ہے۔لیکن رسالہ ’’آجکل‘‘ کو پڑھتے ہوئے یہ نہیں   لگتا کہ سیاسی حالات کے پیش نظر زندگی اور زمانے کے بنیادی مسائل اور تقاضوں   کو نظر انداز کیا جا سکتا ہے۔ یہ تقاضے ادبی بھی ہیں  ، اقتصادی بھی اور تہذیبی بھی۔ ان دنوں   ادبی صحافت (خصوصاً آجکل کی ادبی صحافت) کا مطلب زندگی اور زمانے سے گہری واقفیت کے ساتھ ساتھ سیاست اور حکو مت کو تعمیری انداز فکر کی طرف متوجہ کرنا بھی تھا۔ ’’آجکل‘‘ اُس دَور میں   پندرہ  روزہ ہوا کرتا تھا، زرِ سالانہ نو روپے، اور فی کاپی قیمت سالانہ بارہ آنے۔ یہ شمارہ سال نامہ ہے جسے با تصویر رسالہ کے طور پر پیش کیا گیا ہے۔ فہرست کے دو خانے بنائے گئے ہیں   اور دونوں   طرف مضمون کے عنوانات اور مضمون نگار کے نام ہیں  ۔ عنوانات سے واضح ہے کہ رسالہ فکری اعتبار سے زندگی اور زمانے کا کتنا بوجھ اٹھائے ہوئے ہے۔ یہ فکری ہمہ گیری اس زمانے میں   عام طور پر ادبی رسالوں   میں   دکھائی دیتی ہے۔ ’’افتتاحیہ‘‘ کے عنوان سے اس شمارہ کا اداریہ بنیادی طور پر سیاسی ہے۔ 
اداریہ میں   شمارہ کے تعلق سے کچھ ضرور لکھا گیا ہے لیکن اصل مسئلہ اس زمانے کی سیاسی اور سماجی صورتحال ہے۔ پڑوسی ممالک سے ہمارے تعلقات کیسے ہیں   اور ان تعلقات کو کس طرح بہتر بنایا جا سکتا ہے، روس کیوں   کر اور کس طرح اس وقت دنیا سے الگ تھلگ تھا، اس کی نفسیاتی وجہ کیا ہے، ان مسائل سے بحث کی گئی ہے۔ روس اور روسیوں   کے بارے میں   زیادہ لکھا گیا ہے۔ لیکن ابتدا میں   ’’آجکل‘‘ کے قارئین سے خطاب ہے کہ انہوں   نے رسالے کو پسند کیا ہے اور خریداروں   کی تعداد میں   اضافہ ہو رہا ہے۔ ایک رسالہ کس طرح ملک کی تہذیبی زندگی کا نمائندہ بن جاتا ہے وہ اس اداریہ سے ظاہر ہے۔ یہ چند جملے دیکھیے۔ ’’خریداروں   اور پڑھنے والوں   کی تعداد میں   نمایاں   اضافہ ہوا اور ہمارے معاصرین نے ہمارے جتنے مضامین نقل کیے ان کی تعداد بھی ہماری توقعات سے بہت زیادہ ہے۔ خاص کر یہ دیکھ کر ہمیں   بے حد مسرت ہوئی کہ افغانی رسالوں   اور اخباروں   نے بھی ہمارے کچھ مضامین نقل کئے اور اس طرح گویا ہماری ان خدمات کو سراہا جو ہم ہندوستان اور افغانستان کے کلچرل تعلقات کے بڑھانے کے سلسلے میں   انجام دے رہے ہیں  ۔‘‘ 
کوئی سرکاری یا غیر سرکاری رسالہ بڑی حد تک اپنے وقت کی حکومت کا پابند ہوتا ہے لیکن اگر وہ چاہے تو اپنی مثبت فکر کے ساتھ تہذیبی زندگی کو قوت فراہم کر سکتا ہے۔ اس کیلئے سیاسی سوجھ بوجھ کی ضرورت سے کہیں   زیادہ انسانی اور تہذیبی اقدار سے گہری نسبت ضروری ہے۔ رسالے کے اختتام پر جو تصاویر شائع کی گئی ہیں   اس کی کوئی مثال دور حاضر میں   دکھائی نہیں   دیتی۔ ایرانی فنون لطیفہ پر یہ ایک مضمون تعارفی نوعیت کا ہے۔ یہ چند جملے دیکھیے: ’’پیرس کے قومی کتب خانے کی قدیم قلمی کتابوں   اور ان کے ساتھ ساتھ قدیم ایرانی فنون لطیفہ کے بہت سے نادر نمونوں   کی حال ہی میں   بڑے اہتمام کے ساتھ ایک نمائش ہوئی۔ ان دو صفحوں   پر جو تصویریں   دی گئی ہیں   وہ ساسانی عہد کی کاریگری اور مسلمانوں   کے زمانے کی مختصر کاری کے بعض نادر نمونے ہیں  ۔‘‘ ایک صفحے پر ’’پنجاب کے کوہ نورد‘‘کے ذیل میں   چند مسافروں  ، راستوں   اور پہاڑوں   کو دکھایا گیا ہے۔ کوہ ہمالیہ کو عقیدے کی رو سے بڑی اہمیت حاصل ہے۔ اس وقت تک ہمالیہ کی چوٹی پر پہنچنے کی کوشش شروع ہو چکی تھی لیکن نیچے کی چوٹیوں   پر پہنچنے والے وہاں   سے ایسی معلومات اپنے ساتھ لاتے نہیں   تھے جن سے لوگوں   کے علم میں   اضافہ ہو سکے۔ یہا ں   یہ اطلاع دی گئی ہے کہ پنجاب کے کوہ نوردوں   نے کولاہائی کی چوٹی تک پہنچنے میں   کامیابی حاصل کی ہے۔ وہاں   انہیں   ایک خط چاندی کے تین روپے اور ایک گولی ملی۔ چند لوگوں   کو چڑھائی پر چڑھتے ہوئے دکھایا گیا ہے، انہیں   دیکھ کر لگتا ہے کہ اپنی سی کوشش کا مطلب کیا ہوتا ہے۔ کہیں   برف کے تودے بہہ رہے ہیں   اور کہیں   برف کے اوپر لوگ چل رہے ہیں  ۔ شنگھائی اور روس کی چند تصویریں   بھی تفصیلات کے ساتھ یہاں   پیش کی گئی ہیں  ۔ آخر میں   علی گڑھ یونیورسٹی کی عمارتوں   کی چند تصاویر ہیں   جو بتاتی ہیں   کہ ہندوستان کی تہذیبی زندگی سے وابستگی کا مطلب کتنا پھیلا ہوا ہے۔ مقامی اور بیرونی زندگی اور اس سے وابستہ حسن انسانی میراث ہے۔ اداریے میں   یہ بھی لکھا ہوا ہے: ’’پچھلے سال ان مضامین کو پڑھ کر قارئین نے محسوس کیا ہوگا کہ ہمارے سب سے بڑے پڑوسی روس کے تعلقات دنیا کے دوسرے ملکوں   سے عموماً اور برطانیہ اور امریکہ سے خصوصاً کسی حد تک کشیدہ ہوتے رہے ہیں  ۔ یہ سچ ہے کہ ان اختلافات کا، جو ایران کے معاملے میں   پیدا ہو رہے ہیں   یا بعض دوسرے مسائل جو دنیا کی صحافت پر چھائے ہوئے نظر آرہے ہیں  ، سردست ہندوستان کو کوئی قریبی تعلق نہیں  ۔ یہ چار ممالک آج بھی ہمارے لیے اور دنیا کیلئے توجہ کا مرکز ہیں  ۔ موجودہ سیاست انہی کے گرد چکر لگا رہی ہے۔‘‘ 
آگے یہ بھی درج ہے کہ ’’ہندوستان کو ان ممالک کے تعلق سے دلچسپی لینی ہو گی یہ اور بات ہے کہ فوری طور پر اس کی ضرورت نہیں   ہے۔ ‘‘ روس سے ہندوستان کی قربت پر بطور خاص زور دیا گیا ہے۔ ایران کے تعلق سے بھی دوستانہ جذبات کا اظہار کیا گیا ہے۔ روس کی سیاسی اور سماجی زندگی پر بھی کئی اہم باتیں   یہاں   لکھی گئی ہیں   لیکن ایک اہم پہلو جس کی طرف اشارہ کیا گیا ہے، اس کا ذکر ضروری ہے: ’’ہمارے قارئین کو پوری طرح اس بات کا اندازہ ہوگا کہ دوسرے ملکوں   کی برائی کر کے یا ان کی پالیسی پر نکتہ چینی کر کے اپنے صفحات کو بھرنا ہمارا مسلک نہیں  ۔ ہمارے نزدیک تو جہالت اور تعصب انسانیت کے سب سے بڑے دشمن ہیں   اور اس لئے دوسرے ملکوں   کا ذکر کرتے وقت ہم ان کی زندگی کے ان پہلوؤں   اور کارناموں   پر روشنی ڈالتے ہیں   جو ہماری نظر میں   اچھے اور قابل ستائش ہیں  ۔‘‘ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK