Inquilab Logo Happiest Places to Work

بنگلہ دیش۔ پاکستان تعلقات کی نئی جہت؟

Updated: August 27, 2025, 5:03 PM IST | Parvez Hafeez | Mumbai

پچھلے ایک سال میں دونوں ممالک کے رشتوں میں استحکام آیا ہے اور وہ دیرینہ اختلافات فراموش کرکے دوطرفہ تعلقات کو فروغ دینے کے خواہاں نظر آرہے ہیں۔ ایسا لگتا ہے کہ شیخ حسینہ کی معزولی کے بعد بنگلہ دیش کی سفارتی ترجیحات بدل رہی ہیں۔

Picture: INN
تصویر: آئی این این

پاکستان کے نائب وزیراعظم اور وزیرخارجہ اسحاق ڈار پیر کے دن بنگلہ دیش کا دوروزہ مکمل کرکے ڈھاکہ سے رخصت ہوئے۔ اسلام آباد میں اسحاق ڈار کے دورۂ بنگلہ دیش کو ’’تاریخی‘‘ قرار دیا جارہا ہے۔ ۱۳؍ سال کے وقفے کے بعد کسی پاکستانی وزیر کا ڈھاکہ کا یہ پہلا دورہ تھا۔ اس سفر کے دوران ڈار نے بنگلہ دیش کی عبوری حکومت کے سربراہ پروفیسر محمد یونس ، مشیر خارجہ توحید حسین ، مشیر تجارت بشیرالدین اور امیر جماعت ِ اسلامی سے ملاقاتیں کیں۔ پاکستانی نائب وزیراعظم کی ایک خصوصی ملاقات سابق وزیراعظم خالدہ ضیا سے بھی ہوئی اور انہوں نے نوزائیدہ نیشنل سٹیزن پارٹی کے لیڈروں سے بھی ملاقات کی۔ یہ ان طلبہ کی سیاسی پارٹی ہے جنہوں نے پچھلے سال جولائی میں شیخ حسینہ حکومت کے خلاف چلائی گئی تحریک کی قیادت کی تھی۔ ڈار کے اس دورے کے موقع پر دونوں ملکوں کے درمیان نصف درجن معاہدوں اور مفاہمتی یادداشتوں پر دستخط کئے گئے۔ امید کی جارہی ہے کہ پاکستانی نائب وزیراعظم کے دورے سے اسلام آباد اور ڈھاکہ کے سیاسی ، سفارتی، تجارتی اور ثقافتی تعلقات مزید بہتر ہوں گے۔ 
 بنگلہ دیشی وزارت ِ خارجہ کے ذریعے جاری کئے گئے بیان میں کہا گیا ہے کہ اسحاق ڈار سے مذاکرات کے دوران ۱۹۷۱ء میں پاکستانی فوج کے ذریعے کی گئی ’’نسل کشی پر باقاعدہ معافی، پاکستان کے مشترکہ اثاثوں کی تقسیم اور محصورین کی واپسی‘‘ جیسے امور پر بھی بات چیت ہوئی۔ ڈھاکہ ، اسلام آباد سے ۱۹۷۱ء کے ’’غیر حل شدہ مسائل‘‘ کے حل کا تقاضا کرتا رہا ہے۔ شیخ حسینہ نے تو اسلام آباد کے سامنے یہ شرط رکھ دی تھی کہ جب تک پاکستان بنگلہ دیش سے معافی نہیں مانگتا اور تاریخی مسائل کو حل کرنے پر رضامند نہیں ہوتا ہے تب تک دونوں ممالک کے درمیان کسی قسم کی مفاہمت کا کوئی سوال ہی نہیں پیدا ہوتا۔ پچھلے سال اگست میں حسینہ کا تختہ الٹے جانے کے بعد حالات بدلنے لگے۔ نوبیل انعام یافتہ ماہر معاشیات پروفیسر یونس کی قیادت میں جب عبوری حکومت ڈھاکہ میں قائم ہوئی تو اس نے ملک کی خارجہ پالیسی میں انقلابی تبدیلیاں کیں۔ شیخ حسینہ کے دورِ اقتدار میں بنگلہ دیش ہندوستان کے بے حد قریب آگیا تھا اور وہ ایسا کوئی بھی اقدام کرنے سے گریز کرتی تھیں جو نئی دہلی کی ناراضگی کا سبب بن سکتا تھا۔ شاید اسی لئے حسینہ نے عمران خان کی پیش رفت کے باوجود اسلام آباد سے رشتے استوار کرنے سے صاف انکار کردیا تھا لیکن ڈھاکہ سے ان کے فرار کے بعد بنگلہ دیش کی سفارتی ترجیحات تیزی سے بدلنے لگیں۔ دیکھتے ہی دیکھتے خطے کی دو سب سے قریبی اتحادی ممالک بنگلہ دیش اور ہندوستان کے تعلقات کشیدہ ہونے لگے۔ دوسری جانب عبوری حکومت کی تشکیل کے ایک ماہ بعد ہی چیف ایڈوائزر محمد یونس نے نیویارک میں پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف سے ملاقات کی، پاکستانی جہاز چٹاگانگ کی بندرگاہ پر لنگرانداز ہوگیا، بنگلہ دیش نے پاکستانی شہریوں کے لئے سفری پابندیاں ختم کردیں اور ڈھاکہ میں ۵۰؍ سالوں کے بعد جناح کی برسی منائی گئی۔ 
 بلاشبہ پچھلے ایک سال میں دونوں ممالک کے تعلقات میں استحکام آیا ہے اور دونوں دیرینہ اختلافات فراموش کرکے دوطرفہ تعلقات کو ایک نئی جہت دینے کے خواہاں نظر آرہے ہیں۔ شاید اسی لئے ڈھاکہ اب اسلام آباد سے معافی پر اصرار نہیں کررہا ہے۔ اسحاق ڈار سے جب اخباری نمائندے نے ۱۹۷۱ء کے ایشو پر سوال کیا تو انہوں نے یہ دعویٰ کیا کہ یہ تنازع تو ماضی میں دو بار حل کیا جاچکا ہے۔ پہلی بار ۱۹۷۴ء میں اور دوسری بار ۲۰۰۲ء میں۔ اُن کا اشارہ اس سہ طرفہ معاہدے کی جانب تھا جو ۱۹۷۴ء میں ہندوستان ، پاکستان اور بنگلہ دیش کے درمیان ہوا تھا۔ اُس معاہدے میں پاکستانی حکومت نے مشرقی پاکستان میں ڈھائے گئے مظالم کی مذمت بھی کی تھی اور ان پر ندامت کا اظہار بھی کیا تھا۔میں ان کالموں میں پہلے بھی لکھ چکا ہوں کہ ۱۱؍ اپریل ۱۹۷۴ء کے نیویارک ٹائمز کے شمارے میں اس موضوع پر ایک خصوصی رپورٹ شائع ہوئی تھی جس کی سرخی تھی :
Pakistan Offers Apology to Bangladesh
 جولائی ۲۰۰۲ء میں پرویز مشرف نے بھی بنگلہ دیش کے دورے کے موقع پر ۱۹۷۱ء میں کی گئی زیادتیوں کے لئے بنگلہ دیش کے عوام سے اظہار تاسف کیا تھا۔اسحاق ڈار کی اس وضاحت سے پاکستان کا موقف صاف نظر آتا ہے کہ ۵۴؍ سال بعد اب گڑے مردے اکھاڑنے کا کوئی مطلب نہیں۔ پاکستان اور بنگلہ دیش کے درمیان تعلق کس نوعیت کے ہوں گے یہ بات بنگلہ دیش کی داخلی سیاست پر بھی منحصر کرتی رہی ہے۔ قارئین کو یاددلا دوں کہ جنرل پرویز مشرف نے ۲۰۰۲ء میں جب ڈھاکہ کا دورہ کیا تھا اُس وقت وہاں بی این پی اور جماعت اسلامی کی مخلوط حکومت تھی اور وزیراعظم کے عہدے پر خالدہ ضیاء فائز تھیں۔ ۲۰۰۹ء میں جب ایک بار پھر شیخ حسینہ کی عوامی لیگ اقتدار میں آگئی تو پاکستان کے ساتھ بنگلہ دیش کے رشتے بگڑتے چلے گئے۔ ۲۰۰۴ء میں شیخ حسینہ کی معزولی کے بعد دونوں ممالک کے درمیان تعلقات میں خوشگوار تبدیلیاں رونما ہورہی ہیں۔ شاید اسی لئے اسحاق ڈار کے معافی مانگنے سے انکار کے باوجود ڈھاکہ میں کوئی ناخوشگوار ردعمل نظر نہیں آیا بلکہ بنگلہ دیش کے مشیر خارجہ توحید حسین نے تو یہ دلیل پیش کرکے ایک طرح سے ان کا دفاع کیا کہ ۵۴؍ سال کے پرانے مسائل راتوں رات حل نہیں کئے جاسکتے بلکہ انہیں بتدریج حل کیا جائے گا۔
 پاکستان اور بنگلہ دیش کے تعلقات کی بدلتی نوعیت کو سمجھنے کیلئے ہمیں اسے جنوبی ایشیاء کے جیوپولیٹیکل تناظر میں دیکھنا ہوگا۔ اس وقت چین بلاشبہ خطے کی سب سے بڑی طاقت بن چکا ہے اور جنوبی ایشیاء میں ہونے والی تمام نئی سفارتی صف بندیوں پر بیجنگ کا اثر صاف نظر آتا ہے۔ بنگلہ دیش اور پاکستان کو ایک دوسرے کے قریب لانے میں بھی چین اہم کردار ادا کررہا ہے۔ ابھی ۲؍ ماہ قبل ہی چین کے کُنگ مِنگ شہر میں چین ، پاکستان اور بنگلہ دیش کا ایک اہم سہ فریقی اجلاس منعقد ہوا تھا جس میں پاکستان اور بنگلہ دیش کے خارجہ سکریٹریوں نے حصہ لیا تھا اور چین کی نمائندگی نائب وزیرخارجہ کررہے تھے۔ ۱۹۷۱ء کے جنگی مظالم کیلئے اسلام آباد کی معافی کے اصرار سے اگر ڈھاکہ دستبردار ہوتا ہوا نظر آرہا ہے تو اس کا کریڈٹ بھی چین کو جاتا ہے۔ بنگلہ دیش کے مشیر خارجہ توحید حسین نے جب پریس کانفرنس کے دوران یہ کہا کہ چین کی بھی یہی خواہش ہے کہ پاکستان اور بنگلہ دیش کے تعلقات مستحکم ہوں ،تو بلی تھیلے کے باہر آگئی۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK