• Thu, 15 October, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

اقرار کی ٹھنڈک میں ہے انکار کی گرمی

Updated: October 15, 2026, 2:01 PM IST | Professor Sarwar Al-Huda | Mumbai

تضاد سے بھری ہوئی مراسلت یا مکالمہ سیاست اور حکومت کو اندرونی طور پر مضبوط کرتا ہے۔ مگر یہ اس وقت ممکن ہے جب سوالات کو کھلی فضا میں رکھا جائے اور یہ نہ سمجھا جائے کہ سوالات چاہے جو بھی ہوں گے ہمارے پاس ایک ہی جواب ہے اور وہ یہ کہ ہم عوام کے تین ذمہ دار ہیں۔

Photo: INN
تصویر: آئی این این

فراق گورکھپوری کا یہ مصر ع   جو بطور عنوان لکھا گیا ہے،عام زندگی کی روداد بن گیا ہے۔ زندگی کا کوئی شعبہ ایسا نہیں جو تضاد کی گرفت میں نہ ہو۔ ایک عام آدمی زندگی کے تضادات پر غور کئے بغیر زندگی بسر کرتا جاتا ہے۔ یہ وہ زندگی ہے جو قدرت کی عطا کردہ نعمت بھی ہے اور مشکل صورتحال کی ترجمان بھی ہے۔ زندگی کو ہم کس نظر سے دیکھتے ہیں اور خود زندگی کی نظر میں ہم کیسے ہیں، ان سوالوں پر عام زندگی میں عام آدمی غور نہیں کرتا۔ لیکن یاد رکھنا چاہئے کہ زندگی کے بارے میں جو بنیادی اور عملی شعور عام آدمی کو حاصل ہے اس کا اظہار کسی نہ کسی طور پر ہو ہی جاتا ہے۔ 

دھوپ اور بارش میں بھیگتے اور تپتے ہوئے، زندگی کتنی خوبصورت دکھائی دیتی ہے۔ بارش کا موسم اپنے ساتھ شادابی بھی لاتا ہے اور تھوڑی اداسی بھی۔ دھوپ کی شدت دھیرے دھیرے کم ہونے لگتی ہے اور ایک سورج ہے جو سردی کی آمد کا اپنی ہلکی روشنی اور گرمی کے ساتھ اعلان کرتا ہے کہ موسم بدلنے لگا ہے۔ سورج کو اگر پریس کانفرنس کرنےکی اجازت ہوتی  تو زمین پر رہنے والی مخلوقات سے کیا کہتا۔ یہ بات اگرچہ غیر حقیقی معلوم ہوتی ہے لیکن پریس کانفرنس کی جو صورت دکھائی دے رہی ہے، اس میں ماننے سے کہیں زیادہ انکار کرنے کی روش پوشیدہ ہے۔ نامہ نگار کا غیر جانبدار ہونا بہت ضروری ہے۔ پھر بھی سوال کرنے والا کسی نہ کسی موڑ پر حکومت اور سیاست کی چمک دمک سے متاثر ہو جاتا ہے۔ سوال کرنے کی دھار کند ہو جاتی ہے۔ نہ ہی  غصہ دکھائی دیتا ہے اور نہ وہ تنقید کا انداز۔ معلوم نہیں کب سے یہ سمجھا جانے لگا کہ زندگی کے لئے صرف مفاہمت ضروری ہے۔ مخالفت مفاہمت کی ایک صورت ہے مگر یہ بات کون قبول کرے گا۔ مخالفت اپنے ساتھ اس مفاہمت کو ہلاتی ہے جس کی ضرورت دنیا کے تمام تہذیبی معاشرے کو رہی ہے۔ مفاہمت کو منافقت سمجھنے والے لوگ دراصل اپنے وقت کے ساتھ زیادہ کمیٹڈ ہوتے ہیں۔ انہیں لگتا ہے کہ منافقت کا دوسرا نام مفاہمت ہے اور مفاہمت زندگی کے زوال کی علامت ہے۔ مفاہمت کی راہ جب خود ہی ہموار ہو جائے تو سمجھنا چاہئے کہ منافقت کہیں پیچھے رہ گئی ہے۔ ایک لفظ ہے جسے ادا کرتے ہوئے احتیاط سے کام نہیں لیا جاتا یعنی منافق۔ اس کمی پر غور کیا جاتا ہے کہ جسے ہم منافق اور جھوٹا کہہ رہے ہیں اس کے یہاں اپنی ذات کا کوئی گزر نہیں ہے  ، اس کے پیش نظر اجتماعی زندگی ہے۔ مفاہمت دراصل زمانے کی رفتار کو سمجھنا ہے زمانے کے آگے سپر ڈال دینا نہیں ہے۔

یہ بھی پڑھئے: جہاں احتجاج ہوگا وہیں جنتر منتر ہوگا

 اس حقیقت کے باوجود ذہن میں مفاہمت اور منافقت دونوں کے تعلق سے ایک تصور قائم ہے۔ اور وہ یہ کہ دونوں ایک ہی قبیلے کے ہیں۔ کسی مسئلے پر سوچتے اور سوال کرتے ہوئے ذہن آزاد نہیں رہتا۔ جس سے سوال کیا جانا ہے اس کا خوف نہ سہی مگر اس کی موجودگی کا خیال سوالات کو ایک مرکز پر رہنے نہیں دیتا۔ کیا پوچھا جائے کیسے پوچھا جائے کیا جواب ملے گا کہیں ہمیشہ کے لئے دروازہ بند نہ ہو جائے اس طرح کے بہت سے خیالات گھیر لیتے ہیں۔ مکالمہ اگر مکالمہ ہے تو اپنے ساتھ کچھ تضادات کو بھی تو لائے گا۔ تضادات زندگی کو ایک مرکز پر کبھی آنے نہیں دیتے۔ مکالمہ جو سوال کی صورت میں ہے اس کا جواب کیا ملے گا اس بارے میں پہلے سے فیصلہ نہیں کیا جا سکتا  لیکن جس سے مکالمہ کرنا ہے اس کی خدمت میں ممکنہ یا پوچھے جانے والے سوالات کو بھیج دینا مکالمہ نگاری کی تہذیب کو نقصان پہنچانا ہے لیکن اب بھی سیاسی اور سماجی نوعیت کے سوالات لوگوں کو پریشان کرتے ہیں اور وہ یہ چاہتے ہیں کہ ان سے سیدھے سیدھے سوالات کئے جائیں۔ یہ وہ سوالات ہیں جو تقویت پہنچاتے ہیں۔ جھوٹ پر پردہ ڈالتے ہیں اور مکالمہ کرنے والا اس امید کے ساتھ صاحب کے سامنے سے اٹھتا ہے کہ اسے بھی کچھ انعام مل جائے گا۔ ایسے نامہ نگار کے چہرے پر خوشی کے آثار بہت ہوتے ہیں۔ کبھی سوال کرنے والے کے چہرے پر بہت تناؤ ہوتا تھا اور جواب دینے والا بیچ بیچ میں رک جانے اور چائے کی طرف اشارے کرتا تھا۔ وہ سوال ہی کیا جو مفاہمت اور منافقت کی کوکھ سے جنم لیا ہو۔ پھر بھی کبھی کبھی اور کہیں کہیں سے ایسے سوالات کرنے والے بھی مل جاتے ہیں جنہیں دیکھ کر اور سن کر تہذیب کا چہرہ نکل جاتا ہے۔ خوف زدہ آدمی بھلا کیسے مشکل سوالات پوچھ سکتا ہے۔ ایک اسکرپٹ ہے جو پہلے سے تیار کر دی جاتی ہے اور تقسیم بھی۔ ایسا لگتا ہے کہ جیسے سب کچھ مشینی عمل کا حصہ ہے۔ فیض نے کہا تھا

 دل سے تو ہر معاملہ کر کے چلے تھے صاف ہم 

 کہنے میں ان کے سامنے بات بدل بدل گئی 

 یہ شعر بہت اچھا ہے مگر عام زندگی میں اگر اسی طرح کسی کے سامنے بات بدلتی رہی تو وہ بات کیسے سامنے آئے گی جس کا مدت سے انتظار ہے۔ وہ بات ایک بھی ہو سکتی ہے اور ہزار بھی۔ لیکن ایک بات سے نکلنے والی ہزار بعد ایک ہی مرکز پر ہوتی ہے۔ یہ وہ مرکز ہے جسے عام زندگی کا مرکزی علاقہ کہنا چاہئے جو سب سے زیادہ پامال ہوتی ہے۔

یہ بھی پڑھئے: یوپی پولیس سوالات کے گھیرے میں

 سوال یہ ہے کہ اقرار کی ٹھنڈک میں انکار کی گرمی کیوں ہے۔ کیا اسے ہم اپنی تہذیبی زندگی کا سب سے بڑا مسئلہ قرار دے سکتے ہیں یا پھر اسے عام انسانی ضرورت کا نام دینا چاہئے۔ میرا خیال ہے کہ اقرار اپنے وقت اور صورتحال کے ساتھ اقرار ہی رہتا ہے اسے کوئی اور نام نہیں دیا جا سکتا۔ یہ بھی کہا جا سکتا ہے کہ اقرار ہمیشہ انکار کے سائے میں تشکیل پاتا ہے اور یہی بات انکار کے بارے میں بھی کہی جا سکتی ہے۔ عام طور پر جو پریس کانفرنس کا نقشہ ہے وہ بہت حوصلہ افزا بھی ہے اور حوصلہ شکن بھی۔ مگر فرق کیا پڑتا ہے اگر کسی کے لئے کوئی پریس کانفرنس حوصلے کے ٹوٹنے کا سبب ہے۔ تضاد سے بھری ہوئی مراسلت یا مکالمہ سیاست اور حکومت کو اندرونی طور پر مضبوط کرتا ہے۔ مگر یہ اس وقت ممکن ہے جب سوالات کو کھلی فضا میں رکھا جائے اور یہ نہ سمجھا جائے کہ سوالات چاہے جو بھی ہوں گے ہمارے پاس ایک ہی جواب ہے اور وہ یہ کہ ہم عوام کے تین ذمہ دار ہیں۔ عوام کا بار بار حوالہ دینا داخلی طور پر خود کو مضبوط کرنے کے بجائے اپنے خوف کو چھپانا بھی ہو سکتا ہے۔ لفظ کی حرمت اور عزت اسی طرح سیاست پامال کرتی ہے۔ دنیا کے تمام بڑے جدید مفکرین نے تھوڑے فرق کے ساتھ اسی طرح سیاست کو دیکھا تھا۔ یعنی کسی لفظ سے کیا معنی پیدا کیا جائے یہ معاشرہ طے نہیں کرے گا بلکہ حکومت طے کرے گی۔ فراق نے کہا تھا

 اقرار کی ٹھنڈک میں ہے انکار کی گرمی

 سائے میں تری ہاں کے نہیں جاگ رہی ہے

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK