یوپی سیاسی طور پر بہت اہم ریاست ہے۔ اس کی اپنی پہچان ہے۔ مگر حالیہ برسو ں میں نظم و نسق کی صورت حال ہی خراب نہیں ہوئی، قانون و انصاف کے معاملات بھی بگڑ گئے۔ ہونا تو یہ چاہئے کہ حکومت ریاست کی شبیہ سنوارے مگر دلیل نہ ماننا اور دعوے کرنا اس حکومت کا شعار بن چکا ہے۔
بلند شہر میں چھیڑ چھاڑ اور مارپیٹ کے معاملے میں ۳۰؍ ستمبر کو سپریم کورٹ کے سخت تبصروں نے یوپی پولیس کے کام کاج پر دوبارہ بحث چھیڑ دی ہے۔ جسٹس سنجے کمار اور سنجیو سچدیو کی بینچ نے سوال کیا کہ جس شخص/ ملزم کو مبینہ طور پر موقعہ ٔ واردات پر ہی پکڑ کر پولیس کے حوالے کیا گیا تھا، اس کے خلاف درج کردہ ایف آئی آر میں اسے ایک نامعلوم موٹر سائیکل سوار کیوں لکھا گیا؟ عدالت نے یہ بھی وضاحت طلب کی کہ بعد میں اسی شخص کا نام پولیس ریکارڈ میں کیوں شامل کیا گیا؟ سماعت کے دوران بینچ نے پولیس کے تفتیشی عمل اور اس پر عوام کے اعتماد کے بارے میں سخت تبصرہ کیا۔ عدالت نے یہاں تک کہا کہ اگر تحقیقات اسی طرح جاری رہیں تو بہتر ہوگا کہ تمام معاملات سی بی آئی کو سونپ دیے جائیں اور یوپی پولیس کو ختم کردیا جائے! تاہم، یہ تبصرہ محض ناراضگی کا اظہار تھا، پولیس فورس ختم کرنے کا حکم نہیں تھا۔
یہ بھی پڑھئے: بہار کی اُردو تحریک اور شاہد محمود پوری
سپریم کورٹ نے فی الحال متعلقہ افسر کو بہتر حلف نامہ داخل کرنے اور اگلی سماعت پر پیش ہونے کی ہدایت دی ہے۔ درخواست گزار نے ایف آئی آر کے وقت، موٹر سائیکل نمبر اور تفتیشی عمل پر بھی سوالات اٹھائے۔ پولیس کو ان الزامات کا جواب دینا ہوگا۔اپنے حکم میں، سپریم کورٹ نے خاص طور پر یہ سمجھنے کی کوشش کی کہ ملزم کا نام ابتدائی طور پر ایف آئی آر میں کیوں شامل نہیں کیا گیا اور بعد میں کیوں شامل کیا گیا۔ اس کا مطلب ہے کہ عدالت کی موجودہ توجہ پولیس کے طریق کار اور ریکارڈ میں تضاد کی وضاحت پر ہے۔بلند شہر کا یہ معاملہ کوئی الگ تھلگ نہیں ہے۔ ستمبر میں الہ آباد ہائی کورٹ میں یوپی پولیس کے کام کاج سے متعلق کئی مقدمات داخل کئے گئے جن میں عدالت نے ایف آئی آر، حراست، تھانوں میں سی سی ٹی وی، روک تھام کے قوانین اور پولیس کمشنریٹ کو دئیے گئے مجسٹریٹ اختیارات کے استعمال پر سوال اٹھائے۔ ان کیسوں پر ایک ساتھ غور کیا جائے تو عدالت کی فکر کسی ایک واقعے سے زیادہ پولیس ایکشن کے عمل، ریکارڈ اور جوابدہی پر ہوتی ہے۔اگرچہ یوگی حکومت نے وقتاً فوقتاً محکمہ پولیس کو اس کے مطابق عمل کرنے کا حکم دیا ہے مگر عدالتی تبصرے بتاتے ہیں کہ ان ہدایات پر ابھی تک عمل نہیں ہوا ہے۔
بلند شہر کیس کے کچھ ہی دیر بعد، الہ آباد ہائی کورٹ نے دیوریا کے گوری بازار پولیس اسٹیشن سے منسلک ایک معاملے میں تھانے میں پولیس حراست اور سی سی ٹی وی سسٹم کے بارے میں اہم ہدایات جاری کیں۔ مہندر گوڑ اور تین دیگر کی طرف سے دائر کی گئی حبس بے جا کی عرضی میں الزام لگایا گیا کہ پولیس نے ایف آئی آر درج کئے بغیر اور انہیں گرفتار کئے یا مجسٹریٹ کے سامنے پیش کئے بغیر انہیں کئی دن حراست میں رکھا۔ سی سی ٹی وی فوٹیج اس مدت میں دستیاب نہیں تھا جس کے سبب حراست کو ریکارڈ نہیںکیاجاسکا۔ پولیس کا دعویٰ ہے کہ کیمرہ خراب تھا۔ تاہم عدالت کو یہ بھی معلوم ہوا کہ اس کا بھی ریکارڈ نہیں رکھا گیاکہ کیمرہ خراب ہے اورپھرعدالت کو یہ ریکارڈ بھی نہیں ملا کہ کیمرے کی مرمت کی گئی یا نہیں۔ ہائی کورٹ نے واضح کیا ہے کہ پولیس تھانوں میں نصب سی سی ٹی وی کیمرے سال بھر۲۴؍ گھنٹےفعال رہنے چاہئیں۔ اگر وہ کسی تکنیکی یا بجلی سپلائی کے مسئلے کی وجہ سےکام کرنا بند کردیں تو اس کا پورا ریکارڈرکھنا چاہئے اور انہیں با تاخیر بحال کرنے کے اقدامات کو بھی دستاویزی شکل دینا چاہیے۔
یہ بھی پڑھئے: ناول کے صفحات پہ اُبھری کس کی دُنیا، کون ہے یہ!
یہ حکم پولیس کی نگرانی کیلئے اہم ہے کیونکہ سی سی ٹی وی فوٹیج پولیس اسٹیشن میں ملزم کی موجودگی یا حراست کا آزاد الیکٹرانک ریکارڈ ہو سکتا ہے۔ فوٹیج دستیاب نہ ہو اور پولیس کے پاس کسی شخص کو پوچھ گچھ کے بعد رہا کرنے کا ٹھوس ریکارڈ نہ ہو تو عدالت پولیس کے موقف کو قبول نہ کرکے حالات کی بنیاد پر جائزہ لے سکتی ہے۔
ہائی کورٹ نے کچھ معاملات میں معاوضے کا بھی حکم دیا تھا۔ حکومت کو غیر قانونی حراست کی مدت کی بنیاد پر متاثرین کو معاوضہ دینےکی ہدایت دی گئی اور ذمہ دار اہلکاروں سے رقم کی وصولی کا راستہ بھی کھلا رکھا گیا۔ یہ انتظام بتاتا ہے کہ (پولیس تحویل، حراست اور تشدد کے معاملات میں) اب عدالتیں محض زبانی وارننگ تک محدود نہیں ہیں بلکہ انفرادی احتساب کے قیام کی طرف بھی بڑھ رہی ہیں۔حکومت اور پولیس انتظامیہ کیلئے اس میںعملی پیغامات ہیں۔ تھانوں میں سی سی ٹی وی لگانا کافی نہیں ہے۔ ریکارڈنگ کو محفوظ رکھنا، خرابی کے وقت کو ریکارڈ کرنا، تکنیکی خرابی کو دور کرنے کیلئے کئے گئے اقدامات کا ریکارڈ رکھنا اور ضرورت پڑنے پر عدالت یا تفتیشی ایجنسی کو فوٹیج فراہم کرنا بھی اتنا ہی ضروری ہے۔
۹؍ جون کو پریاگ راج (الہ آباد) کمشنریٹ سے منسلک ایک معاملے میں، ہائی کورٹ نے پولیس کمشنر کے مجسٹریٹ جیسے اختیارات کے استعمال پر تشویش کا اظہار کیا۔ منصور احمد عرف للو کو امن کی خلاف ورزی کے شبہ میں حراست میں لے کر مجسٹریٹ کے سامنے پیش کیا گیا تھا۔ عدالت کے مطابق اسے اگلے روز سماعت کی تاریخ دینے کے بجائےکئی دن بعد سماعت کی تاریخ دی گئی اور وہ جیل میں ہی رہا۔ ہائی کورٹ نے۸؍ دن کی نظر بندی کو غیر قانونی قرار دیا اور ۲؍ لاکھ روپے ہرجانے کا حکم دیا۔ عدالت نے اس معاملے میں پریاگ راج کمشنریٹ کے اعدادوشمار پر بھی غور کیا۔ حکم نامے میں کہا گیا کہ۲۰۲۵ء میں۱۳۲۱؍افراد کو ایک سے دو ہفتے یا اس سے زیادہ عرصے کیلئے اور۲۰۲۶ء میں اتنی ہی مدت تک۷۲۱؍ افراد کو امن کی خلاف ورزی کے شبہ میں حراست میں لیا گیا تھا۔ عدالت نے اس انتظام پر وضاحت طلب کی اور رپورٹ طلب کر لی۔یہ کیس خاص اہمیت کا حامل ہے کیونکہ کمشنریٹ سسٹم کے تحت پولیس افسران کو بعض اوقات مجسٹریٹ کے اختیارات بھی حاصل ہوتے ہیں۔ ان اختیارات کا مقصد امن و امان کے معاملات میں کارروائی کو تیز کرنا ہوتا ہے لیکن عدالتیں توقع رکھتی ہیں کہ ایسے اختیارات کا استعمال بھی طے شدہ قانونی عمل اور فرد کے حقوق کے مطابق ہونا چاہئے۔
یہ بھی پڑھئے: ایس آئی آر، احتجاج اور پریشانیاں
گونڈہ کے زاہد علی کے معاملے میں عدالت نے پولیس کے ذریعے اسےغنڈہ قرار دینے اور ۶؍ ماہ کیلئے ضلع بدری کا حکم منسوخ کر دیا۔ عدالت کے سامنے۲؍ مقدمات اور ایک بیٹ انفارمیشن رپورٹ کا حوالہ رکھا گیا۔ ہائی کورٹ نے نوٹ کیا کہ زاہد علی پہلے ہی ۲۰۱۰ء کے ایک مقدمے میں ۲۰۱۷ء میں بری ہو چکے تھے، پھر بھی اس کیس کو کارروائی کی بنیادوں میں شامل کیا گیا۔
دوسرے کیس اور ۲۰۲۶ءکے غنڈہ ایکٹ کی کارروائی کے درمیان بھی کافی وقت کا فرق تھا۔ عدالت نے دستیاب مواد کی بنیاد پر کسی شخص کو عادی مجرم قرار دینے کے معیار پر بھی سوال اٹھایا۔ عدالت کا پیغام تھا کہ غنڈہ ایکٹ جیسے سخت قوانین کو واضح حالات میں اور ضروری احتیاط کے ساتھ استعمال کیا جانا چاہئے۔ پرانی یا کمزور بنیادوں پر کسی شخص کے خلاف کارروائی عدالتی جانچ پڑتال کے سامنے ٹھہر نہیں سکتی۔اتر پردیش پولیس کے لئے چیلنج صرف جرائم کے خلاف کارروائی کرنا نہیں ہے، بلکہ ہر کارروائی کو ایک ایسے عمل سے گزارنا یقینی بنانا ہے جس کی جانچ میں عدالت کوبھی کوئی مشکل نہ آئے، انتظامیہ کیلئے کوئی دعویٰ کرنے کی مضبوط بنیاد ہو اور عام شہری بھی اس پر اعتماد کرسکیں۔