• Sat, 24 February, 2024
  • EPAPER

Inquilab Logo

مراٹھی اخبارات سے : فون کی جاسوسی کا معاملہ، مرکزی حکومت ایک بار پھر الزامات کے کٹہرے میں

Updated: November 05, 2023, 1:10 PM IST | Ejaz Abdul Gani | Mumbai

پیگاسس اسپائی ویئر معاملے میں بی جے پی شتر مرغ کی طرح ریت میں سر چھپائے دلیل دے رہی تھی کہ یہ فرضی کہانی ہے اور حکومت کو بد نام کرنے کی ایک سازش ہے۔

Rahul Gandhi showing the list which has been received by his office from Apple company. Photo: INN
راہل گاندھی وہ فہرست دکھاتے ہوئے جو ایپل کمپنی کی جانب سے ان کے دفتر کو موصول ہوا ہے۔ تصویر:آئی این این

پیگاسس اسپائی ویئر معاملے میں بی جے پی شتر مرغ کی طرح ریت میں سر چھپائے دلیل دے رہی تھی کہ یہ فرضی کہانی ہے اور حکومت کو بدنام کرنے کی ایک سازش ہے لیکن دنیا کے بیشتر جمہوری ممالک نے اسرائیل اور پیگاسس بنانے والے این او ایس گروپ پر دباؤ بناتے ہوئےجواب طلب کیا تھا جس کے بعد مرکزی حکومت نے سپریم کورٹ سے جانچ کروانے کا فیصلہ کیا تھا۔ایک بار پھر ملک کے سرکردہ اپوزیشن لیڈروں کےآئی فون ہیک کرنے کی کوششوں کے حوالے سے انتباہی پیغامات موصول ہونے کے بعد جس طرح کا ہنگامہ برپا ہوا وہ غیر فطری نہیں ہے۔ آئیے دیکھتے ہیں کہ اس موضوع پر مراٹھی اخبارات نے کیا کچھ لکھا ہے؟
سامنا (۲؍ نومبر )
 اخبار اپنے اداریہ میں لکھتا ہے کہ ’’مودی سرکار پر اپوزیشن لیڈران کے فون ہیک کرنے کا الزام نیا نہیں ہے۔اب دوبارہ اسی طرح کے الزامات نے حکومت کو ایک بار پھر ملزم کی صف میں کھڑا کردیا ہے۔ چند اپوزیشن لیڈران کے آئی فون پر ’اسٹیٹ اسپانسرڈ سائبر اٹیک‘کا پیغام موصول ہونے کا معاملہ انتہائی سنگین نوعیت کا ہے۔اپوزیشن لیڈران نے ایپل کے نوٹیفکیشن کا اسکرین شارٹ بطور ثبوت سرکار کو بھیجا ہے۔ اس کے باوجود حکومت ڈھٹائی کا مظاہرہ کر رہی ہے اور اس طرح کے تمام الزامات کی تردید کر رہی ہے۔ایسے میں اب مزید کون سا ثبوت دیا جائےکہ حکومت کو یقین آجائے؟مرکزی آئی ٹی وزیر نے اپوزیشن کے الزامات کو مسترد کردیا ہے۔ساتھ ہی یہ وضاحت بھی کی ہے کہ معاملے کی جانچ کی جائے گی۔ایسے میں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر پہلے ہی جھٹکے میں الزامات کو جھوٹا قرار دے دیا گیا ہے تو تحقیقات کس بات کی ہوگی؟ حالانکہ ایپل کمپنی کی جانب سے دی گئی وارننگ میں سب کچھ بیان ہے۔جب کوئی فون آپریٹر فون مالک کو مطلع کرتا ہے کہ آپ کے اپیل آئی ڈی کو ہیک کرکے معلومات حاصل کی جا رہی ہے تو اس شک کو تقویت ملتی ہے کہ حکومت کی نیت صاف نہیں ہے اور دال میں یقیناًکچھ کالا ہے۔پچھلے ۹؍ برسوں سے مودی سرکار اپنے مخالفین کے فون کو ہیک اور ٹیپ کروا رہی ہے۔ مودی سرکار نے ابتدائی دنوں میں نہ صرف اپوزیشن بلکہ حکمراں جماعت کے کچھ لیڈروں کے بھی فون ہیک کروائے تھے۔دو سال قبل پیگاسس جاسوسی معاملے میں مودی سرکار کی اچھی خاصی فضیحت ہوئی تھی اور معاملہ سپریم کورٹ تک پہنچ گیا تھا۔اس وقت بھی مودی حکومت نے دعویٰ کیا تھاکہ وہ شہریوں کےبنیادی حقوق کا احترام کرتی ہے۔اب ایک بار پھر اپوزیشن کے فون ہیک کئے جانے کا انکشاف ہونے پر جانچ کرنے کی یقین دہانی کرائی جارہی ہے۔بی جے پی کے اقتدار میں آنے کے بعد سے سیاسی مخالفین کی نگرانی اور سرکاری ایجنسیوں کے ذریعہ انہیں ہراساں کرنے کا قابل مذمت ایک سلسلہ سا چل پڑا ہے۔ سیاسی مخالفین کی نگرانی کرنا ٬ان کے فون ٹیپ کرنا محبوب مشغلہ بن گیا ہے۔مہاراشٹر کی فرنویس سرکار بھی اس سے مستثنیٰ نہیں ہے۔‘‘
سکال (۲؍نومبر)
  اخبار نے لکھا ہے کہ’’ مسلسل اقتدار پر قابض رہنے کی خواہش میں اپوزیشن لیڈروں کی نگرانی کرنا اور ان کے فون ہیک کرنا ایک عام سی بات ہے۔آمرانہ حکومت ڈنکے کی چوٹ پر مخالفین کی ہر حرکت پر نظر رکھتی ہے جبکہ جمہوری طرز حکومت میں یہ کام خفیہ طریقہ سے انجام پاتا ہے۔نگرانی کرنے کے الزام میں کئی حکومتیں گر بھی چکی ہیں ۔متعدد تنازعات پیدا ہوئے مگر نگرانی کا سلسلہ جاری رہا۔۱۹۸۸ء میں کرناٹک کے وزیر اعلیٰ رام کرشن ہیگڑے کو فون ٹیپنگ معاملے میں استعفیٰ دینا پڑا تھا۔اتنا ہی نہیں کانگریس کی حمایت یافتہ چندر شیکھر سرکار سے حمایت صرف اسلئے واپس لی گئی تھی کہ اس پر راجیو گاندھی کے گھر کی جاسوسی کا الزام تھا۔ایسی کئی مثالیں موجود ہیں ۔نگرانی کرنا سیکورٹی ایجنسیوں کا کام ہے لیکن جب سیاسی بدنیتی کے تحت مخالفین کی نگرانی کی جائے تو معاملہ سنگین ہو جاتا ہے۔پچھلے۲؍ دنوں سے اپوزیشن لیڈروں کو ان کے ایپل فون ہیک کرنے کی پیغامات موصول ہورہے ہیں ۔موبائل کی دنیا میں فون ہیکنگ کرنا عام بات ہے۔دنیا کے کسی بھی کونے میں بیٹھا نامعلوم اور ماہر ہیکر کسی اور کے نجی معلومات چوری کرنے کی بھر پور کوشش کرتا ہے۔ایپل کی اسی طرح کی وارننگ کے باعث اپوزیشن سے تعلق رکھنے والے لیڈروں نے ایک بار پھر مرکزی حکومت کو نشانہ بنایا ہے۔‘‘
نو راشٹر(۲؍نومبر)
 اخبار نے اداریہ لکھا ہے کہ’’ ایپل جیسی بڑی کمپنیاں منصوبہ بند طریقے سے حملہ آوروں پر نظر رکھنے کا کام کرتی ہیں اور تکنیکی طور پر حملہ کس ملک سے ہوا اور کون کررہا ہے اس کی مکمل معلومات بھی ان کمپنیوں کےپاس ہوتی ہے لیکن تجارتی نقطہ نظر سے وہ کسی کا نام ظاہر نہیں کرتیں لیکن اس بار ایپل نے اپوزیشن لیڈران کو ایک نوٹیفکیشن جاری کرکے انہیں آگاہ کردیا ہے۔ عیاں رہے کہ اس وقت حزب مخالف کے لیڈران کےفون ہیک کرنے کا معاملہ سرخیوں میں ہے جس سےپورے ملک میں ہلچل مچی ہوئی ہے۔ایپل کی جانب سے الرٹ میسیج موصول ہونے کے بعد اپوزیشن نے مودی سرکار پر الزام عائد کیا کہ سرکاری سر پرستی میں ہیکرس انہیں نشانہ بنا رہے ہیں ۔ عیاں رہے کہ اس سے قبل بھی سرکار، اپوزیشن سے تعلق رکھنے والے لیڈروں کو ٹارگیٹ بنا چکی ہے۔یہ اور بات ہے کہ سرکار نے اس معاملے پر صفائی پیش کرتے ہوئے بتایا کہ ایپل نے ۱۵۰؍ ممالک میں کچھ اسی طرح کی ایڈوائزری جاری کی ہے۔ اس معاملے میں کانگریس لیڈر راہل گاندھی نے براہ راست مودی سرکار پر حملہ کرتے ہوئے کہا کہ وہ ایسی سرگرمیوں سے نہیں ڈرتے ہیں ۔یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ بغیر کسی مطالبے کے حکومت نے اس معاملے کی جانچ کا حکم کیوں جاری کیا؟وہیں بی جے پی کے کسی وزیر یا لیڈر کو ایپل نے نوٹیفکیشن بھیج کر آگاہ کیوں نہیں کیا؟‘‘

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK