یونیورسٹی طلبہ کے امتحانات پر جاری سیاسی رسہ کشی

Updated: July 26, 2020, 9:17 AM IST | Jamal Rizvi

یو جی سی اورمرکزی حکومت نے سالانہ امتحانات سے متعلق جو گائیڈ لائن جاری کی ہے،اس پر نظر ثانی کرنے کی ضرورت ہے۔ یونیورسٹی اور کالجوں میں زیر تعلیم طلبہ کے مستقبل کے متعلق کوئی بھی فیصلہ کرتے وقت متفقہ طور پر کوئی ایسا راستہ نکالنے کی ضرورت ہے جو طلبہ کے اندر تعلیمی نظام کے تئیں یقین کو مستحکم بنا سکے۔ ایسا کوئی فیصلہ کرتے وقت طلبہ اور اساتذہ کی صحت اور ان کے تحفظ کو ترجیح دیا جانا چاہئے

Exam - Pic : INN
امتحان ۔ تصویر : آئی این این

کورونا کی وبا نے تعلیمی نظام کو بھی وسیع پیمانے پر متاثر کیا ہے ۔مارچ میں نافذ کئے گئے ملک گیرلاک ڈاؤن اور اس کے بعد مختلف ریاستوں میں مقامی صورتحال کے مد نظر کئے جانے والے اس طرز کے اقدامات کے سبب اسکول سے لے کر اعلیٰ تعلیمی اداروں کی تعلیمی سرگرمیاں متاثر ہو ئی ہیں۔ ملک گیر سطح پر اعلیٰ تعلیمی نظام کی نگہداشت کرنے اور تعلیمی مسائل و معاملات سےمتعلق فیصلے اور منصوبے بنانے والے ادارے یوجی سی نے گزشتہ ۶؍جولائی کو جو نوٹس جاری کیا ہے، اسے لے کر طلبہ ، اساتذہ اور والدین تذبذب کا شکار ہیں۔اس نوٹس کے مطابق ملک کی تمام یونیورسٹیوں اور ان سے ملحق کا لجوں کو مختلف کورسیز کے فائنل ایئر کے امتحان ستمبر مہینے کے آخر تک لازمی طور پر کروانے ہوں گے۔اس سے قبل یوجی سی نے امتحانات کی منسوخی کی بات کہی تھی اور یہ کہا تھا کہ سابقہ امتحانات میں طلبہ کی کارکردگی کی بنیاد پر ان کے سال آخر کا نتیجہ ترتیب دیا جائے گا۔اب یوجی سی کی ترمیم شدہ گائیڈ لائن کے بعد فائنل ایئر کے امتحانات کے متعلق ماہرین تعلیم اور مختلف یونیورسٹیوں کے حکام دوگروپ میں تقسیم ہو گئے ہیں ۔ ان میں ایک گروپ سال آخر کے امتحانات کے حق میں ہے جبکہ دوسرا گروپ ان امتحانات کی منسوخی کی وکالت کر رہا ہے ۔ماہرین تعلیم اور یونیورسٹی حکام کے علاوہ سیاست داں بھی اس اہم اور حساس موضوع پر سیاست کرنےمیں  ایک دوسرے پر سبقت لے جانے کی کوشش کررہے ہیں۔
 یوجی سی کے اس حالیہ نوٹس کو اگر زمینی حقائق کے تناظر میں دیکھا جائے تو ستمبر کے آخر تک فائنل ایئر کے امتحان منعقد کروانا ناممکن کی حد تک مشکل نظر آرہا ہے ۔اس نوٹس کے جاری ہونے کے بعد سے اب تک ملک میں کورونا وائرس سے متاثرہ افراد کی تعداد کسی بھی دن ۲۵؍ ہزار سے کم نہیں رہی ہے۔اگر کورونا متاثرین کی تعداد کا جائزہ روزانہ کی بنیاد پر لیا جائے تو یہ ظاہرہوتا ہے کہ ملک گیر سطح پر اس میں  روزانہ کچھ نہ کچھ اضافہ ہی ہوا ہے ۔ ملک میں اس وبا کی موجودہ صورتحال کے مد نظر انڈین میڈیکل اسوسی ایشن کے چیئر مین ڈاکٹر وی کے مونگا نے گزشتہ دنوں کہا تھا کہ ہندوستان میں یہ وبا اجتماعی منتقلی کے دور میں داخل ہوتی نظر آر ہی ہے ۔ انھوں نے کہا تھا کہ شہروں کے علاوہ ملک کے دیہی علاقوں میں اس وبا کا پھیلاؤجس رفتار سے ہورہا ہے اس کے مد نظرمزید احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کی ضرورت ہے۔ اس طرح کے حالات میں یونیورسٹیوں کیلئے ستمبر کے آخر تک امتحانات منعقد کروانا آسان نہیں ہوگا۔دوسرے یہ کہ یوجی سی نے جو گائیڈ لائن جاری کی ہے اس میں امتحان کے انعقاد کے متعلق کوئی واضح مشورہ یا ہدایت نہیں دی گئی ہے ۔
 یوجی سی کی ترمیم شدہ گائیڈلائن میں کہا گیا ہے کہ یونیورسٹیاں فائنل ایئر کے امتحانات آن لائن ، آف لائن یا ان دونوں طریقوں کے امتزاج سے کروا سکتی ہیں۔جہاں تک آن لائن امتحانات کا معاملہ ہے تو اکا دکا یونیورسٹیوں کے علاوہ بیشتر کے پاس اس طرز کے امتحانات کے انعقاد کیلئے خاطر خواہ وسائل دستیاب نہیں ہیں۔وسائل کی  اس کمی کو ان یونیورسٹیوں کی کوتاہی نہیں سمجھنا چاہئے۔ملک گیر سطح پر یونیورسٹیوں کے تعلیمی نظام کو جدید تکنیکی سہولیات سے آراستہ کرنے کا سلسلہ جاری ہے لیکن اچانک پیدا ہونے والے ہنگامی حالات کے سبب ان سہولیات سے تمام طلبہ کوفیض پہنچانا ممکن نہیں ہوگا۔ دوسرے یہ کہ آن لائن امتحان کیلئے طلبہ کے پاس بھی وہ بنیادی وسائل ہونے چاہئیں جو اس عمل میں ان کی شراکت کی راہ ہموار کر سکیں ۔ یوجی سی نے آف لائن امتحان کا مشورہ بھی دیا ہے لیکن ملک میں کوروناوائرس کے پھیلاؤ کی جو رفتار ہے، اس کے پیش نظر یہ سمجھنا کہ والدین اپنے بچوں کو امتحان کیلئے تعلیمی مراکز پر بھیجیں گے ،عقلمندی کی بات نہ ہوگی ۔اس کے علاوہ آن لائن اور آف لائن کے امتزاج سے امتحان کا بندوبست کرنا بھی کچھ آسان نہ ہوگا۔یوجی سی کی ترمیم شدہ گائیڈ لائن کے جاری ہونے سے قبل ہی کئی ریاستوں کی یونیورسٹیوں نے فائنل ایئر کے امتحانات کی منسوخی کا اعلان کردیا تھا۔ دہلی، مہاراشٹر، ادیشہ،پنجاب، مغربی بنگال، تمل ناڈو اور مدھیہ پردیش کی ریاستی حکومتوں نے سال آخر کے امتحانات کی منسوخی کی تائید بھی کی تھی ۔ اب یوجی سی کے اس نئے نوٹس نے اس معاملے کو پیچیدہ بنادیا ہے ۔اب یہ معاملہ صرف تعلیم ، طلبہ اور اساتذہ کا معاملہ نہیں رہا بلکہ اس معاملے کے حوالے سے جو سیاست کی جارہی ہے وہ طلبہ کے مستقبل کیلئے کسی طرح بھی سود مند نہیں ہے ۔
 یہ واضح ہے کہ جن ریاستوں نے سال آخر کے امتحان کی منسوخی کا اعلان کیا تھا، ان میں بیشتر غیر بی جے پی حکومت والی ریاستیں ہیں۔یوجی سی مرکزی وزارت برائے انسانی وسائل کے دائرہ ٔ اختیار میں ہے لہٰذا یہ آسانی سے سمجھا جا سکتا ہے کہ طلبہ کے امتحانات کے معاملے پر سیاسی انا کی جنگ جاری ہے ۔ادھر گزشتہ کچھ دنوں سے اس معاملے نے جو رنگ اختیار کیا ہے، اسے دیکھتے ہوئے یہ کہا جا سکتا ہے کہ اب یہ معاملہ پوری طرح سے سیاسی ہوگیا ہے اور فریقین ایک دوسرے کو نچلا بٹھانے کی کوشش میں مصروف ہیں۔ ان کی ان کوششوں کی زد پر طلبہ کا مستقبل ہے جس کی پروا سیاست دانوں کو نہیں ہے ۔
 کورونا کی وبا کے علاوہ بہار، آسام،اترپردیش اور ملک کی دوسری ریاستوں میں سیلاب کی وجہ سے انسانوں کو کئی طرح کے مسائل کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ ان ریاستوں کے سیکڑوں گاؤں اور شہر سیلاب میں گھرے ہوئے ہیں۔ ان سیلاب زدہ علاقوں میں واقع کالجوں اور یونیورسٹیوں میں سال آخر کے امتحانات کا انعقاد کچھ آسان نہ ہوگا۔ اگر چہ یوجی سی نے اس کیلئے ستمبر کے آخر تک کا وقت دیا ہے لیکن سیلاب کے بعد زندگی کے معمول پر آنے میں بھی خاصا وقت لگتا ہے۔ ایسی صورت میں طلبہ اپنے امتحانات کی تیاری کس طرح کریں گے ؟دوسرے یہ کہ ان علاقوں میں انٹر نیٹ اور بجلی کی فراہمی بھی ایک مسئلہ ہے کیوں کہ سیلاب کی وجہ سے ان وسائل کی دستیابی بھی ایک مسئلہ ہے ۔اس کے علاوہ اس پہلو کو بھی مد نظر رکھنے کی ضرورت ہے کہ شہروں میں پڑھنے والے بہت سے طلبہ کورونا کی وبا سے محفوظ رہنے کی خاطر اپنے آبائی وطن جا چکے ہیں ۔ ان میں ایسے طلبہ  کثیر تعداد میں ہوں گے، جن کے آبائی وطن میں بجلی اور انٹر نیٹ کی سہولت شہروں کی مانند نہیں ہوگی ۔ ایسی صورت میں ان طلبہ کا آن لائن امتحان میں شریک ہونا ممکن نہ ہو سکے گااور ایسے طلبہ کا آف لائن امتحان میں شرکت کرنا تب تک ممکن نہ ہو سکے گا جب تک کہ وہ ان شہروں میں واپس نہ آجائیں جہاں وہ تعلیم حاصل کر رہے ہیں۔شہروں میں اس وبا کے پھیلاؤ کی جو صورت ہے اس کے مد نظر ستمبر تک حالات کا معمول پر آنا مشکل ہی نظر آتا ہے ۔ 
 ۶؍جولائی کو جاری ہونے والی یوجی سی کی ترمیم شدہ گائیڈ لائن کے باوجودسال آخر کے امتحانات کے متعلق اب تک کوئی واضح تصویر سامنے نہیں آ سکی ہے ۔اب یہ معاملہ عدلیہ میں پہنچ چکا ہے ۔ دہلی ہائی کورٹ نے گزشتہ دنوں ایک عرضداشت پر شنوائی کرتے ہوئے یوجی سی سے پوچھا ہے کہ وہ سال کے آخر کے امتحانات کس طرز پر کروائے گی، اس کی وضاحت کرے۔ اس کے علاوہ عدالت عظمیٰ میں بھی یوجی سی کی ترمیم شدہ گائیڈ لائن کو کالعدم قرار دینے کی اپیل کی گئی ہے۔یوجی سی کے سابق چیئر مین سکھ دیو تھوراٹ اور  مختلف یونیورسٹیوں کے اساتذہ نے بھی واضح طور پر کہا ہے کہ یوجی سی کو اپنی ترمیم شدہ گائیڈ لائن پر نظر ثانی کرنی چاہئے۔
 یونیورسٹی اور کالجوں میں زیر تعلیم طلبہ کے مستقبل کے متعلق کوئی بھی فیصلہ کرتے وقت پارٹی سیاست سے بالاتر ہو کر متفقہ طور پر کوئی ایسا راستہ نکالنے کی ضرورت ہے جو طلبہ کے اندر تعلیمی نظام کے تئیں یقین کو مستحکم بنا سکے۔ ایسا کوئی فیصلہ کرتے وقت طلبہ اور اساتذہ کی صحت اور ان کے تحفظ کو ترجیح دینے کی ضرورت ہے ۔ مرکزی وزیر برائے وسائل انسانی نے یو جی سی کی اس گائیڈ لائن کے جاری ہونے سے قبل واضح طور پر کہا تھا کہ اعلیٰ تعلیم کے متعلق جو بھی فیصلہ کیا جائے گا، اس میں طلبہ، اساتذہ اور یونیورسٹی کے دیگر اہلکاروں کی صحت کو مد نظر رکھا جائے گا۔ملک کے حالات کو مد نظر رکھتے ہوئے اس ضمن میں جلد از جلد کوئی ایسا فیصلہ لینے کی ضرورت ہے جو اس اہم اور حساس معاملے کے متعلق پیدا ہونے والے تذبذب کو ختم کر سکے

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK