وہ وقت آنے والا ہے جب زمین کو خوب جھٹکے دیئے جائینگے

Updated: May 23, 2020, 4:10 AM IST | Maulana Nadeem Al Wajidi

سورۂ القدر میں فرمایا گیا کہ یہ قرآن (جس کا بار بار ذکر کیا جارہا ہے کوئی معمولی چیز نہیں ہے) ہم نے اسے قدر ومنزلت والی رات میں اتارا ہے (مراد شب قدر ) جو ہزار مہینوں سے بہتر ہے۔ اس (رات) میں فرشتے اور روح الامین (جبریلؑ) اپنے رب کے حکم سے (خیر و برکت کے) ہر امر کے ساتھ اترتے ہیں ۔

For Representation Purpose Only. Photo INN
علامتی تصویر۔ تصویر: آئی این این

 سورۂ القدر میں فرمایا گیا کہ یہ قرآن (جس کا بار بار ذکر کیا جارہا ہے کوئی معمولی چیز نہیں ہے) ہم نے اسے قدر ومنزلت والی رات میں اتارا ہے (مراد شب قدر ) جو ہزار مہینوں سے بہتر ہے۔ اس (رات) میں فرشتے اور روح الامین (جبریلؑ) اپنے رب کے حکم سے (خیر و برکت کے) ہر امر کے ساتھ اترتے ہیں ۔ یہ (رات) طلوعِ فجر تک سلامتی ہے۔ سورۂ البینہ میں فرمایا گیا کہ کفار اہل کتاب اور مشرکین ثبوت کے باوجود اللہ کے وجود اور اس کی ہدایت کے منکر ہیں ۔ اللہ کے رسولؐ نے مفید اور قیمتی باتوں والی سورتوں پر مشتمل کتاب ان کو پڑھ کر سنادی ہے، ان میں ان کو یہی حکم دیا گیا ہے کہ وہ ایک اللہ کی عبادت یک سوئی کے ساتھ کریں ، نماز قائم کریں اور زکوٰۃ ادا کریں ۔جو لوگ اہلِ کتاب میں سے کافر ہوگئے اور مشرکین (سب) دوزخ کی آگ میں (پڑے) ہوں گے وہ ہمیشہ اسی میں رہنے والے ہیں ، یہی لوگ بد ترین مخلوق ہیں ، اور جو لوگ ایمان لائے اور نیک عمل کرتے رہے وہی لوگ ساری مخلوق سے بہتر ہیں ۔
 سورۂ الزلزال میں فرمایا جارہا ہے کہ وہ وقت آنے والا ہے جب زمین کو خوب جھٹکے دیئے جائیں گے اور زمین اپنا سب کچھ اگل دے گی، زمین لوگوں کے کچے چھٹے بھی باہر نکال کر رکھ دے گی۔ اس دن لوگ مختلف گروہ بن کر (جدا جدا حالتوں کے ساتھ) نکلیں گے تاکہ انہیں ان کے اَعمال دکھائے جائیں ۔ جس شخص نے ذرہ برابر بھی اچھا عمل کیا ہوگا وہ اس کی جزا پائے گا اور جس نے ذرہ برابر بھی برا عمل کیا ہوگا اسے اس کی سزا ملے گی۔
سورۂ العادیات میں گھوڑوں کا ذکر کیا گیا ہے کہ وہ اپنے مالک کے ادنیٰ اشارے پر خطرناک سے خطرناک جگہوں پر سر پٹ دوڑے چلے جاتے ہیں اور (اس کے برخلاف) انسان اپنے رب کی سرکشی کرتا ہے، اسے بس مال ودولت کی ہوس ہے، اس کو احساس ہی نہیں کہ قبروں سے بھی اٹھنا ہوگا، اور دلوں کے راز بھی باہر آجائیں گے۔ بیشک ان کا رب اس دن ان (کے اعمال) سے خوب خبردار ہوگا۔
 سورۂ القارعہ میں کھڑکھڑا دینے والا شدید جھٹکا اور کڑک کے بارے میں بتاتے ہوئے پوچھا جارہا ہے کہ وہ کھڑ کھڑا دینے والا شدید جھٹکا اور کڑک کیا ہے، (اس سے مراد) وہ یومِ قیامت ہے جس دن (تمام) لوگ بکھرے ہوئے پروانوں کی طرح ہو جائیں گے۔ اس میں گزشتہ سورہ کی تائید کی گئی ہے کہ وہ دن نہایت ہولناک ہوگا، ہر چیز دہل جائے گی، لوگ پروانوں کی طرح منتشر ہوں گے، پہاڑروئی کے گالوں کی طرح اڑے پھریں گے، اس دن اعمال نامے پیش کئے جائیں گے، پس وہ شخص کہ جس (کے اعمال) کے پلڑے بھاری ہوں گے، تو وہ خوش گوار عیش و مسرت میں ہوگا، اور جس شخص کے (اعمال کے) پلڑے ہلکے ہوں گےتو اس کا ٹھکانا ہاویہ (جہنم کا گڑھا) ہوگا۔
 سورۂ التکاثر میں ان اسباب کی نشان دہی کی گئی ہے جن کی وجہ سے لوگ غفلت کا شکار ہیں ۔ فرمایا گیا کہ تم کو کثرت مال کی طلب میں ایک دوسرے سے سبقت لے جانے کی کوشش نے آخرت کی طرف سے غفلت میں مبتلا کردیا ہے۔ آگاہ کیا گیا ہے کہ مال و دولت تمہارے کام نہیں آئیں گے، تم عنقریب اس حقیقت کو جان لو گے، پھر اس دن تم سے (اﷲ کی) نعمتوں کے بارے میں ضرور پوچھا جائے گا (کہ تم نے انہیں کہاں کہاں اور کیسے کیسے خرچ کیا تھا)۔ 
سورۂ والعصر میں اس غفلت کا علاج تجویز کیا گیا ہے۔ زمانے کی قسم کھا کر اللہ رب العزت فرماتے ہیں کہ بیشک انسان خسارے میں ہے، سوائے ان لوگوں کے جو ایمان لائے اور نیک عمل کرتے رہے اور (معاشرہ میں ) ایک دوسرے کو حق کی تلقین کرتے رہے اور (تبلیغ حق کے نتیجے میں پیش آمدہ مصائب و آلام میں ) باہم صبر کی تاکید کرتے رہے۔
 سورۂ الہُمَزَۃ میں ان لوگوں کو لعن طعن کیاگیا ہے جو مال کی محبت میں گرفتار ہیں ، اسے جمع کرتے ہیں اور گن گن کر رکھتے ہیں اور یہ سمجھتے ہیں کہ مال ہمیشہ رہنے والی چیز ہے۔ انہیں آگاہ کیا گیا ہے کہ ہرگز نہیں ! وہ ضرور حطمہ (یعنی چورا چورا کر دینے والی آگ) میں پھینک دیا جائے گا۔ پھر پوچھا گیا کہ کیا آپ جانتے ہیں کہ یہ حطمہ کیا ہے؟ (یہ) اﷲ کی بھڑکائی ہوئی آگ ہے۔
 سورۂ الفیل میں ایک واقعے کا ذکر ہے۔ خانۂ کعبہ کو ڈھانے کے ناپاک ارادے سے یمن کا حاکم ابرہہ اپنے لاؤ لشکر کے ساتھ جس میں ہاتھی بھی تھے مکہ مکرمہ پہنچا۔ قدرت خداوندی حرکت میں آئی اور ابابیل نامی چھوٹے سے پرندوں نے طاقت ورلشکر کو دُم دباکر بھاگنے پر مجبور کردیا ۔یہ پرندے ان پر کنکریلے پتھر مارتے تھے، پھر (اﷲ نے) ان (ابرہہ اور اس کے لشکر) کو کھائے ہوئے بھوسے کی طرح کر دیا۔ سورۂ القریش میں بتلایا گیا کہ ابرہہ کو عبرتناک عذاب سے دو چار کیا گیا اور قریش کو امن وامان عطا کیا گیا۔ قریش مکہ کو یہ احسان یاد دلاکر فرمایا گیا کہ وہ اس گھر کے مالک کی عبادت کریں جس کے صدقے میں تمہیں بیٹھے بٹھائے یہ عظیم فتح نصیب ہوئی۔
 سورۂ الماعون میں دین کی تکذیب کرنے والوں کی شقاوت قلبی بیان کی جارہی ہے کہ یہ لوگ یتیموں کو بے آسرا چھوڑ دیتے ہیں ، ان لوگوں کی اخلاقی گراوٹ کا حال یہ ہے کہ وہ غریبوں اور مسکینوں کو کھانا کھلانے تک کے روا دار نہیں ہیں ، نماز سے غافل ہیں ، ریا کارہیں اور معمولی چیزیں بھی لوگوں کو دینے سے گریز کرتے ہیں ۔ ساتھ ہی ان نمازیوں پر افسوس کیا گیا ہے جو اپنی نماز (کی روح) سے بے خبر ہیں (یعنی انہیں محض حقوق اﷲ یاد ہیں ، وہ حقوق العباد بھلا بیٹھے ہیں )۔ وہ لوگ (عبادت میں ) دکھلاوا کرتے ہیں اور برتنے کی معمولی سی چیز بھی (مانگنے پر) نہیں دیتے۔
 سورۂ الکوثر میں اس اعتراض کے جواب میں ، کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے کوئی اولاد نرینہ نہیں ہے، فرمایا گیا کہ ہم نے آپ کو کوثر عطا کیا ، آپ ان کی گستاخیوں پر آزردہ نہ ہوں ، اپنے رب کے یہاں اپنے مقام و مرتبہ کی بلندی پر نظر رکھیں ، اپنے رب کیلئے نماز پڑھیں اور قربانی کریں ، آپ کا دشمن تو جڑکٹا ہے یعنی بیشک وہی بے نسل اور بے نام و نشاں ہوگا۔
 سورۂ الکافرون میں سرکار دو عالم ﷺسے خطاب کرتے ہوئے فرمایا گیا کہ ان (کافروں ) سے صاف صاف فرمادیں کہ ہمارا تمہارا عقیدہ الگ الگ ہے، تمہارے ساتھ مشارکت اور موافقت کی کوئی صورت ہی نہیں ہے۔ تمہیں تمہارا دین مبارک ہو ہمیں ہمارا دین عزیز اور محبوب ہے۔
 سورۂ النصر میں فرمایا گیا کہ جب اﷲ کی مدد اور فتح آپہنچے، اور آپ لوگوں کو دیکھ لیں (کہ) وہ اﷲ کے دین میں جوق دَر جوق داخل ہو رہے ہیں ، تو آپ (تشکراً) اپنے رب کی حمد کے ساتھ تسبیح فرمائیں اور (تواضعاً) اس سے استغفار کریں ، بیشک وہ بڑا ہی توبہ قبول فرمانے والا ہے۔ 
 سورۂ لہب میں ابولہب کے گستاخانہ کلام کے جواب میں فرمایا گیا کہ اے ابولہب تیرے دونوں ہاتھ ٹوٹ جائیں اور تو تباہ ہوجائے، اب تجھے برے انجام سے کوئی نہ بچا سکے گا، لگائی بجھائی کرنے والی اس کی (خبیث) عورت (بھی) جو (کانٹے دار) لکڑیوں کا بوجھ (سر پر) اٹھائے پھرتی ہے، (اور حضورؐ کی راہوں میں بچھا دیتی ہے)، اس کے گلے میں رسی کا پھندہ پڑے گا۔ سورۂ الاخلاص میں فرمایا گیا کہ اے پیغمبر آپ توحید کا اعلان کرتے رہیں ، حقیقتاً اللہ ایک ہے ،یکتا ہے، نہ اس سے کوئی پیدا ہوا اور نہ وہ کسی سے پیدا ہوا، اور نہ اس کا کوئی شریک وسہیم ہے۔
 سورہ فلق میں فرمایا گیا کہ کہو، میں پناہ مانگتا ہوں صبح کے رب کی ، ہر اُس چیز کے شر سے جو اُس نے پیدا کی ہے اور رات کی تاریکی کے شر سے جب کہ وہ چھا جائے ۔اور گرہوں میں پھونکنے والوں (یا والیوں ) کے شر سے ۔ اور حاسد کے شر سے جب کہ وہ حسد کرے ۔ سورہ الناس میں کہا گیا آپ عرض کیجئے کہ میں (سب) انسانوں کے رب کی پناہ مانگتا ہوں ، جو (سب) لوگوں کا بادشاہ ہےجو نسل انسانی کا معبود ہے، وسوسہ انداز (شیطان) کے شر سے جو پیچھے ہٹ کر چھپ جانے والا ہے، جو لوگوں کے دلوں میں وسوسہ ڈالتا ہے، خواہ وہ جنات میں سے ہو یا انسانوں میں سے۔ سورۂ الفلق اور سورۂ الناس دونوں سورتوں میں اللہ کی پناہ حاصل کرنے کی تعلیم دی جارہی ہے۔ ان د ونوں سورتوں کو قرآن کریم کے آخر میں لانے کی ایک حکمت یہ ہے کہ اس کتاب ہدایت کو سمجھنے اور عمل کرنے کا جب کوئی انسان ارادہ کرے گا تو شیطان اس کی راہ روکنے اور عمل میں مشکلات پیدا کرنے کی کوشش کرے گا۔ مومن قاری کو چاہئے کہ جب وہ قرآن کے ختم پر پہنچے تو یہ دعا کرے کہ اے اللہ! قرآن سے استفادے کی راہ کو شیطانی طاقتوں کے شر سے محفوظ فرمادیجئے اورمجھے اپنی پناہ میں لے لیجئے تاکہ میں برائیوں سے بچا رہوں اور اس کتاب ہدایت سے پورا پورا فائدہ اٹھا سکوں ۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK