’رمضان‘ نامی کسی آدمی سے بھی ملتا ہوں تو ’محمد علی روڈ ‘ یاد آجاتا ہے

Updated: May 20, 2020, 7:05 AM IST | Ejaz Abdul Ghani

ہمارے ایک غیر مسلم کرم فر ما کا رات بارہ بجے اچانک فو ن آیا ۔ کہنے لگے بھائی کچھ یاد ہے؟ اس سے پہلے کہ ہم کچھ کہتے، خود ہی جواب کہا: ’’آج انیسواں روزہ ہے ،اسی شب ہم سب پترکار دوست آپ کے ساتھ ممبئی کے محمد علی روڈ اور مینارہ مسجد گئے تھے اور پہلی بار رات کے ۲؍ بجے فیر نی، مالپوہ، بکرے کے پائے کا سوپ اور فالودہ پیا تھا

Mohammed Ali Road - Pic : MidDay
محمد علی روڈ ۔ تصویر : مڈ ڈے

ہمارے ایک غیر مسلم کرم فر ما کا رات بارہ بجے اچانک فو ن آیا ۔ کہنے لگے بھائی کچھ یاد ہے؟ اس سے پہلے کہ ہم کچھ کہتے، خود ہی جواب کہا: ’’آج انیسواں روزہ ہے ،اسی شب ہم سب پترکار دوست آپ کے ساتھ ممبئی کے محمد علی روڈ اور مینارہ مسجد گئے تھے اور پہلی بار رات کے ۲؍ بجے فیر نی، مالپوہ، بکرے کے پائے کا سوپ اور فالودہ پیا تھا۔‘‘ میں نے خوشی کا اظہار کرتے  ہوئے پو چھا کہ ’’ آپ کو اتنی رات میں اچانک محمد علی روڈ کی یاد کیوں آئی؟ ‘‘  کہنے لگے :’’بھائی برسوں ممبئی کی نائٹ لائف کا مزہ لیا لیکن پہلی بار رمضان میں ایسا نظارہ دیکھا جو دل ودماغ پر کچھ اسطر ح سے نقش ہو گیا ہے کہ ’رمضان‘ نامی کسی آدمی سے بھی ملتا ہوں تو ’محمد علی روڈ ‘ یاد آجاتا ہے۔ مگر افسوس اس سال لاک ڈاؤن کے سبب رمضانی پکوانوں کا مزہ نہیں لے سکتا۔‘‘ 
کورونا کی آفت کے اس دور میں، غیر مسلم دوست کے کفِ افسوس ملنے پر خیال آیا کہ صرف لذت کام و دہن سے سرشار ہو نے والا شخص اگر رمضان کا اتنی بے چینی سے انتظار کررہا تھا  تو بحیثیت مسلمان ہمیں اس مبارک ماہ کا کتنی شدت سے انتظار کر نا چاہئے کیونکہ اس ماہ میں ادنیٰ سی نیکی کا ثواب بھی کئی گنا بڑھ کر ملتا ہے،مسجد یں مصلیان سے بھر جاتی ہے اور ہر شخص عبادت میں مشغول ہو جاتا ہے ، بازاروں کی رونق بڑ ھ جاتی ہے اور سب سے بڑھ کر کئی ایسے افراد ہیں جن کی اس ماہ ِ مقدس میں سال بھر کی آمدنی ہو جاتی ہے۔ مگر موجودہ حالات میں جب پوری دنیا ایک حقیر اور نادیدہ جر ثو مہ سے پر یشان ہے، ایسے میں عقیل بھائی کیونکر خوش رہتے۔ دودھ ناکہ پر’ لکی ٹیلر‘ کی معروف دکان کا آ دھا شٹر گِرا ہوا تھا۔ ہم نے عقیل بھائی کی خیر یت در یافت کی تو ہمیشہ کی طر ح مسکراتے ہوئے بولے،’’کہو بھائی ! آج کیسے آنا ہوا؟‘‘ ہچکچاتے ہوئے ہم نے پوچھا:  ’’کیا گاہک کپڑے سلوانے آ رہے ہیں ؟ ‘‘ کہا:  ’ایک روپیہ میں چار آنے، کاریگر بھی بیماری کے ڈر سے گاؤں چلے گئے۔ لاک ڈاؤن کے سبب مٹیریل کی دکان کبھی کھلتی ہے، تو اکثر بند رہتی ہے، اس پر کبھی کاج ہے تو بٹن غائب، کبھی کالر ہے تو کف غائب۔ کون کون سی پر یشانی بیان کرو ں سمجھ میں نہیں آتا۔‘‘ اپنی بات جاری رکھتے ہوئے  انہوں نے مایوسی کے عالم میں کہا: ’’ اس سال لاک ڈاؤن کے سبب شادی اور رمضان دونوں سیزن بالکل خالی چلے گئے،  سال بھر کی کمائی کی بھر پائی کیسے ہوگی؟‘‘ ٹیلر صاحب  کے ان سوالوں کا میرے پاس کوئی جواب نہیں تھا ۔
ذرا آگے بڑ ھا تو جامع مسجد سے اعلان ہو نے لگا :
’’ اس سال مسلمان ساد گی سے عید منائیں، شاپنگ کیلئے ہر گز باہر نہ نکلیں ور نہ میڈیا مسلمانوں کو بدنام کرنے کیلئے کیل کانٹوں سے لیس بیٹھا ہے، خدارا! اپنے گھروں میں رہیں اور غر یبوں، بیواؤں اور مسکینوں کا خیال رکھیں۔‘‘قریب کھڑے ایک شخص سے پوچھا کہ مسجد سے یہ اعلان کب سے ہورہا ہے تو معلوم ہوا کہ پہلے روزہ سے لاک ڈاؤن کی پاسداری کا اعلان ہو رہا تھا، اب کچھ دنوں سے عید سادگی سے منانے پر زور دیا جارہا ہے۔مسجد کے لاؤڈ اسپکر سے اذان اور میت کا اعلان تو ہوہی رہا تھا، آج یہ اہم  اپیل سن کر یک گونہ خوشی کا احساس ہوا۔ 
ہم جب پارسی گلی کے پاس پہنچے تو برسوں کا ساتھی اور ہم جماعت جعفر شیخ ایک ٹھیلے پر پیاز اور سبزی فرو خت کر تا ہوا ملا۔ ہم اسے دیکھ کر حیران ہی رہ گئے، پوچھا : ’’ارے جعفر، رکشا چھوڑ دیا؟‘‘ یہ سن کر اس نے نحیف آواز میں جواب دیا: ’’ لاک ڈاؤن میں کھانے پینے کے بھی واند ے ہوگئے  تھے، گھر پر ہی بیٹھا رہتا تو بال بچوں کو کیا کھلاتا۔ اس لئے باپ دادا کا  دھندہ  چالو کردیا، دو پیسے مل جائیں بس۔ لاک ڈاؤن میں تو قسمت بھی لاک ہوگئی ہے

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK