کس کس کا نام لیں، محلے ہیں کہ پہچانے نہیں جاتے

Updated: May 21, 2020, 10:23 AM IST | Khalid Abdul Qayyum Ansari

اس صنعتی شہر بھیونڈی میں امسال لاک ڈاؤن کی وجہ سے رمضان کے وہ روحانی مناظر دیکھنے کو نہیں مل رہے ہیں جو یہاں کا خاصہ ہیں

Ramadan - Pic : INN
رمضان ڈائری ۔ تصویر : آئی این این

اس صنعتی شہر بھیونڈی میں امسال لاک ڈاؤن کی وجہ سے رمضان  کے وہ روحانی مناظر دیکھنے کو نہیں مل رہے ہیں جو یہاں کا خاصہ ہیں۔مساجد سے آنیوالی روح پرور آواز سے پورا شہر مسحور رہتا تھا۔ مساجد میں  تلاوت،تراویح کی نماز، عبادت، ریاضت، ذکر واذکار، توبہ و استغفار اوردعاؤں کا ماحول رہتا تھا۔  آج مسجدوں میں صرف اذان  ہورہی ہے۔ ان تمام محلوں اور علاقوں میں سناٹا چھایا  ہوا ہے جو رمضان کی رونقوں کیلئے خاص ہیں۔ درگاہ روڈ، ہندوستانی مسجد، کوٹر گیٹ مسجد، ونجار پٹی ناکہ، دھامنکر ناکہ، غیبی نگر، کھنڈوپاڑہ اور شہر کے تقریباً ہر مسلم محلے میں افطار کا سامان خریدنے کیلئے لوگ باگ ایک دوسرے پر ٹوٹے پڑتے تھے۔ آج ان تمام جگہوں پر چند ایک ٹھیلے والے پولیس کے خوف کے سائے میں اپنا سامان فروخت کرتے ہیں۔ کئی ’’افطار بازاروں‘‘  میں دھول اُڑ رہی ہے۔ کس کس کا نام لیں، محلے ہیں کہ پہچانے نہیں جاتے۔ اس ڈائری نگار نے بچپن سے لے کر آج تک رمضان میں ان محلوں کو ویسا نہیں دیکھا  جیسا کہ  لاک ڈاؤن کے اس رمضان میں نظر آ رہے ہیں۔  نظر لگی ہوتی تو اُتار دی جاتی، یہ تو وباء لگی ہے اور صرف شہر بھیونڈی کو نہیں لگی پوری دُنیا کو لگی ہے۔ انسان تو عاجز ہے۔ مدد رب العالمین ہی کرسکتا ہے۔ 
 محنت کشوں کے اس شہر میں رمضان المبارک کے استقبال کی تیاریاں شب برأت ہی سے شروع ہوجاتی تھیں۔ عام مسلمان  ذہنی، جسمانی اور معاشی طور پر عبادتوںریاضتوں کیلئے تیار ہوجاتا تھا۔ مساجد میں رنگ و روغن لگتا تھا، در و دیوار صاف کئے جاتے تھے، لاؤڈاسپیکرکی درستگی ہوتی اور اس کی کارکردگی چیک کی جاتی تھی۔ مساجد کو اضافی لائٹس اورقمقموں سے   سجایا جاتا تھا۔تقریباً ایک ماہ تک  پوراشہر  بقعہ نور بنا رہتا۔ شہر کے تقریباً سبھی علاقوں میں افطار کے بازار سج جاتے تھے۔ جگہ جگہ مسواک، ٹوپی، رومال، تسبیح اور عطر فروخت ہوتا تھا۔ خواتین اپنے اور بچوں کے  ملبوسات اور جوتے چپلوں کی خریداری میں مصروف ہوجاتی تھیں۔ گھروں میں نئے پردوں کا اہتمام ہوتا تھا، کانچ کے برتنوں کی خریداری ہوتی تھی۔ شہر میںفینسی جویلری کے بینرس، رمضان سیل کی ہورڈنگ اور پمفلٹ کی تقسیم کی بھی بڑی ہلچل رہتی تھی۔
 لذت کام و دہن سے رغبت رکھنے والے حضرات چٹور گلی میں حاضری لگانا ضروری سمجھتے تھے، جس کی شہرت  دور دور تک ہے۔یہاں عشاء کی نماز کے بعد سے سحری تک تانتا بندھا رہتا تھا۔ اس گلی سے کچھ ہی دوری پر ایوب بھائی کی مٹھائی کی برسوں پرانی دکان ہے۔ یہاں کی فیرنی دور دور تک شہرت رکھتی ہے۔تراویح کے بعد سے یہاں لوگوں کا اژدہام ہوتاتھا۔ کھانے کے شوقین  ونجار پٹی ناکہ، غیبی نگراور شہر کے دیگر مقامات کے ساتھ ڈھابوں پربھی ٹوٹ پڑتے تھے۔ مساجد میں مصلیان کی تعداد میں کئی گنا اضافہ ہوتا تھا تو بازاروں میں بھی خریداروں کا ہجوم امڈ پڑتا تھا۔ برانڈیڈ شوروم، گارمینٹ کے مشہور برانڈکے ساتھ دیگر اہم کمپنیوں کے آؤٹ لیٹس کھل جانے کے بعد بھی یہاں قدیم شاپنگ کے مراکز کا ہی بول بالا  رہتا تھاجن میں سب سے اہم نام تین بتی اور بازار پیٹھ ہے۔ یہاں تل دھرنے کی جگہ نہیں ہوتی تھی۔
 گزشتہ دنوں جب یہ ڈائری نگار شہر کے دورے پر نکلا تو کوٹر گیٹ مسجد، میراکل مال، لالہ شاپنگ سینٹر، تین بتی، بازار پیٹھ، منڈئی اور وہ سبھی کاروباری مراکز جہاں راتیں جگمگایا کرتی تھیں، اندھیرے میں ڈوبی ہوئی نظرآئیں۔ ہر طرف ویرانی اور سناٹے کا راج تھا۔ پورے بازار میں ہُو کا عالم تھا۔ ہندوستانی مسجد سے آگے  رائل ٹاور کے نیچے حافظ معاذ شاہد اختر سے ملاقات ہوگئی۔ افسردہ تھے۔ ملتے ہی پہلا  سوال لاک ڈاؤن اور مسجدوں میں عبادت کے شروع ہونے سے متعلق کیا۔ میں کیا جواب دیتا؟ میری خاموشی ہی اُن کا جواب تھا۔ ایک سرد آہ  کے ساتھ انہوں نے کہا کہ شاید تاریخ میں ایسا رمضان  پہلے کبھی نہیں آیا ہوگا۔ آسمان کی جانب دیکھ کر کہا کہ پروردگاراُمت مسلمہ کو اس بحران سے جلدی نکال، ہماری خطاؤں کو معاف کردے اور ہمیں اپنے گھر میں عبادت کی اجازت دے دے۔  اس دعا پر ہم نے بھی صدق دل سے آمین کہا۔جانے سے قبل حافظ معاذ نے سنجیدگی سے کہا کہ یہ وقت دراصل ہمارے اپنے احتساب کا ہے۔ 
 قریب سے گزرنے والے چند راہگیر بھی حافظ معاذ کی باتیں سن کر متاثر ہوئے کہ واقعی یہ خود احتسابی کا وقت ہے مگر  .......کتنے لوگ ہیں جو اس کیلئے  تیار ہیں؟ شاید بہت کم مگر اپنی قوم کی ایک دلچسپ  بات بتائیں: ہم لوگ دوسروں کے احتساب کیلئے ہمیشہ تیار رہتے ہیں، خود احتسابی کیلئے نہیں

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK