ہوگیا سب سماں سُونا سُونا ،الوداع الوداع ماہِ رمضاں

Updated: May 22, 2020, 12:26 PM IST | Mukhtar Adeel

عالم تصورات سے آواز آتی ہے ’قلب عاشق ہے اب پارہ پارہ: الوداع الوداع ماہ رمضاں ‘۔ جوش وخروش کے ساتھ جیسے استقبال ِماہ صیام ہوتا ہے ویسے ہی آہ وزاری کے ساتھ اس ماہ کو الوداع کہا جاتا ہے

Ramadan - Pic : INN
رمضان ڈائری ۔ تصویر : آئی این این

عالم تصورات سے آواز آتی ہے ’قلب عاشق ہے اب پارہ پارہ: الوداع الوداع ماہ رمضاں ‘۔ جوش وخروش کے ساتھ جیسے استقبال ِماہ صیام ہوتا ہے ویسے ہی آہ وزاری کے ساتھ اس ماہ کو الوداع کہا جاتا ہے۔الوداعی منظومات دل پزیر ترنم سے گائی جاتی ہیں۔ مسجدوں میں جمعۃ الوداع کا خطبہ ہوتا ہے۔ شہید فلسطینیوں کو خراج عقیدت پیش کرنے کے ساتھ ساتھ مظلومین، محروسین اور بے بس لواحقین کے ساتھ اظہار ہمدردی کیا جاتا ہے۔ ہم دیکھ رہے ہیںکہ جذبات تو ہیں مگر لاک ڈائون کی سختی اور کووڈ۔۱۹؍کے قہر نے افراد کی طرح جذبات کو بھی محصور کردیا ہے۔
 شب کا دوسرا پہر ہے۔ مسجد میں داخل ہوکر وضو خانے پر بیٹھا ہوں۔ نل سے پانی کی بوندیں ٹپکنے کی آواز صاف سنائی دیتی ہے۔ لگتا ہے کوئی رو رہا  ہے۔ دفعہ۱۴۴؍کی وجہ سے چار سے زیادہ لوگ ایک جگہ جمع نہیں ہوسکتے۔ یہی ضابطہ عبادت گاہ کیلئے بھی نافذ العمل ہے۔ وضو خانے کے نل سے ٹپکنے والے پانی کی آواز نمازیوں کی تعداد محدود کئے جانے پر گریہ معلوم ہوتی ہے۔ سوچتا ہوں،  خدایا! نل سے گرنے والی پانی کی بوندوں کی طرح تیرے نیک بندوں کی آنکھوں سے آنسو بھی ٹپکتے ہیں۔ یہ تیرے بندے مسجدوں میں سجدے کی لذتوں کو ترس رہے ہیں۔ ان میں کئی ایسے ہوں گے جو تیرے مقرب ہوں گے۔ جو رات کے تیسرے پہر روزانہ جاگ جاتے ہوں گے تاکہ تیرے دربار میں حاضر ہوسکیں۔ ممکن ہے یہ اُن کا روزانہ کا معمول ہوخواہ رمضان ہو یا نہ ہو۔ تیرے ایسے بندوں نے بھی لاک ڈائون کے سبب اب تک ۷؍ مرتبہ جمعہ نہیں،جمعہ کے دن نماز ظہر ادا کی۔ رب العالمین اُن نیک بندوں کی آہ وفغاں ہی سُن لے اور اس وبائی قہر سے نجات عطا فرمادے ۔آمین 
  تیسرا عشرہ قریب الختم ہے۔ مالیگائوں کے حالات بہتر نہیں ہوئے ہیں۔ عید گاہوں پر نماز کی ادائیگی کیلئے گہار لگائی گئی مگر لاک ڈائون کی وجہ سے اجازت نہیں ملی۔ پورا رمضان لاک ڈائون کی نذر ہوگیا۔ آخری عشرے میںماحول اور سُونا ہوگیا۔ ہر طرف سناٹا ہے۔ ہو‘  کا عالم۔ مسجدیں ویران ہیں۔ نمازیوں کی تعداد ۵؍سے زیادہ نہیں ہے۔ معتکفین بھی انگلیوں کی تعداد سے زیادہ نہیں۔ دینی مدارس کے سفراء نے اِدھر کا رُخ نہیں کیا۔ دف بجاکر حمدونعت کے  اشعار سنانے والے ندارد ہیں۔ سحری کیلئے مخصوص صدائیں دینے والے بھی اوجھل ہیں۔ بزرگ کہتے ہیں ایسا رمضان تو ہم نے دیکھا نہ سنا۔ ہم نے کہا دُعا کیجئے ایسا رمضان ہمارے بعد کوئی نہ دیکھے۔
 عارضی قرنطینہ میں سحرکے وقت پہنچا۔ دیکھا کہ چند نوجوان رکشا میں آئے، اُن کے ساتھ سحری کیلئے خوردونوش کا سامان تھا۔ جلدی سے اُترے، قرنطینہ کے مرکز میں داخل ہوئے اور سونے والوں کو سحری کیلئے جگانا شروع کیا۔ جاگنے والوں کو کھانے کا سامان دیا اور جانے لگے، ڈائری نگار نے اُنہیں  روکا، پوچھا: آپ لوگ کون ہیں؟ جواب:  اللہ کے بندے ہیں اور اُس کی رضا کیلئے قرنطینہ میں رکھے گئے لوگوں کو سحری و افطاری فراہم کرتے ہیں۔ سبحان اللہ، افطاری بھی دیتے ہو؟ ہاں بھئی۔ اتنا کہہ کر وہ آگے بڑھنے لگے تو ڈائری نگار نے پھر روکا: اپنا نام تو بتادیتے۔جواب ملا ہمارے ناموں کا اندراج اللہ کے رجسٹر میں ہے۔ اُس کی خوشنودی کیلئے پریشان حال بندوں کی خدمت کرتے ہیں۔ ڈائری نگار کو اُن کا انداز گفتگو اچھا لگا۔ اس کے چہرے پر مسکراہٹ کھیل گئی۔ وہ لوگ بھی مسکرائے اور وہاں سے روانہ ہوگئے۔
 آخری عشرہ دیکھنے سے تعلق رکھتا ہے مگر امسال  دیکھنے کیلئے کچھ نہیں ہے۔ گلیاں بلاک کی گئی ہیں،  اہم راستے مسدود ہیں۔ جگہ جگہ پولیس اہلکار  تعینات ہیں۔ ماہ مبارک کی ساری رونقیں لاک ڈائون اور وبائی بیماری کی نذر ہوگئی ہیں۔ ہنستا مسکراتا شہر خاموش ہے۔ شرح اموات بڑھنے سے حالات اَبتر ہیں۔ سیاسی لیڈروں کو کیچڑ اچھالنے سے فرصت نہیں ملتی۔ دواخانوں میں صورتحال دگرگوں ہے۔ سڑکوں پر خوانچے نہیں ہیں، نانبائی کے یہاں کام کاج ٹھپ اور تندور سرد پڑے ہیں۔ ان حالات میں محسن نقوی کے الفاظ یاد آتے ہیں: ’’اس دشت میں ایک شہرتھا۔‘‘

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK