رمضان ڈائری: صاحبو ! دل چھوٹا نہ کیجئے

Updated: May 23, 2020, 4:12 AM IST | Sharjeel Qureshi | Jalgaon

جلگاؤں ضلع شدت کی دھوپ کیلئے مشہور ہے ۔ان دنوں یہاں پارہ ۴۴؍ ڈگری پر ہے۔ ایسے میں روزہ بھی ہے اور لاک ڈاؤن بھی۔ دوگنا صبر کے ثواب کی اُمید ڈھارس بندھاتی ہے۔ رمضان کی روایتی رونق توکہیں نہیں ہے مگر جیسے جیسے افطار کا وقت قریب آتا ہے یہاں روزہ کھولنے کی کچھ ہماہمی روایتی رونق کی یاد دلا ہی دیتی ہے۔

For Representation Purpose Only. Photo INN
علامتی تصویر۔ تصویر: آئی این این

جلگاؤں ضلع شدت کی دھوپ کیلئے مشہور ہے ۔ان دنوں یہاں پارہ ۴۴؍ ڈگری پر ہے۔ ایسے میں روزہ بھی ہے اور لاک ڈاؤن بھی۔ دوگنا صبر کے ثواب کی اُمید ڈھارس بندھاتی ہے۔ رمضان کی روایتی رونق توکہیں نہیں ہے مگر جیسے جیسے افطار کا وقت قریب آتا ہے یہاں روزہ کھولنے کی کچھ ہماہمی روایتی رونق کی یاد دلا ہی دیتی ہے۔ شہر میں کہیں کھاؤ گلی وغیرہ نہیں ہے لیکن مغرب کی نماز کے بعدچائے کی ہوٹلوں پر لوگوں کا ہجوم رہتا تھا جو اَب نہیں ہے۔ سبھی ’ناگوری چائے‘ کی چسکی لیتے تھے۔ جلگاؤں کا گوشت مانڈہ خاندیش کے علاوہ ملک کے دیگر علاقوں اور شہروں میں بھی مشہور ہے۔ یہ مخصوص پکوان شادیوں کی دعوت کا لازمی جزو تو ہے ہی، عام دنوں اور رمضان میں بھی پکایا جاتا ہے۔ یہ علاقہ کیلے (موج )کی پیداوار کیلئے خاص طور پر مشہور ہے، اسلئے کوئی سوال ہی پیدا نہیں ہوتا کہ شہریوں کو بہترین کوالیٹی کا کیلا میسر نہ آئے ۔
 چالیس گاؤں شہر میں پرانے ہائی وے گھاٹ روڈ پر افطار بازار لگتا ہے لیکن لاک ڈاؤن کی وجہ سے اس کی جگہ تبدیل کردی گئی ہے۔ فی الحال افطار بازار میونسپل منگل کاریالیہ کے گراؤنڈ پر لگ رہا ہے۔ روزہ دار سوشل ڈسٹنسنگ کے ساتھ افطاری خرید رہے ہیں ۔ مچھلی اورچکن کےبنے پکوان شہر کے خاص پکوانوں میں شامل ہیں ۔ ہر سنیچر عشائیہ میں دستر خوان پر یہ پکوان موجود ہوتے ہیں ۔ رمضان المبارک میں یہاں سحری میں روٹ ( ایک قسم کی نان خطائی ) کا استعمال ہوتا ہے۔ ماہ رمضان کی آمد ہوتے ہی خواتین بڑی تعداد میں روٹ بنانے کی تیاری میں لگ جاتی ہیں ۔ گیہوں کا آٹا، گھی، شکر، ایلائچی وغیرہ سے بنائے گئے روٹ کو سینکنے کی غرض سے بیکریوں کا رُخ کرنا پڑتا ہے۔
 شہر اور ضلع (جلگاؤں ) کورونا کی وباء میں جکڑے ہوئے ہیں ۔ مریضوں کی تعداد ۴۰۰؍ تک پہنچ گئی ہے۔ شہر کے ہر علاقہ کو کنٹینمنٹ زون بنا دیا گیا ہے۔ مہرون کی ایک معتبر شخصیت نے بتایا کہ علاقے میں چند لوگوں نے خود کو اس وباء سے محفوظ رکھنے کیلئےاپنے مکانوں کو تالا لگا لیا ہے۔ مسلم اکثریتی علاقے مہرون، تانبہ پور اور اسلام پورہ میں افطار بازار بہت محدود پیمانے پر لگ رہا ہے کیونکہ یہ علاقے کنٹیمنٹ زون میں آتے ہیں ۔
 لاک ڈاؤن اور کورونا وائرس کی وجہ سے رحمتوں ،برکتوں اور نوازشوں کے اس مبارک مہینے میں ہمیں گھروں پر عبادت کرنی پڑی، بہت عجیب لگا۔ مسجدوں کے وضو خانوں میں وہ بھیڑ، وہ نمازیوں کا اژدہام، وہ نکڑوں اور گلیوں کی گپ شپ کچھ بھی نہیں تھا۔ مگر ہم تو یہی کہیں گے کہ صاحبو ! دل چھوٹا نہ کیجئے، یہ وبائی دور ہے، امتحان اور آزمائش کا دور ہے۔ ماہ رمضان کی برکتوں اور رحمتوں سے اس امتحان میں ہمیں کامیابی ضرور ملے گی۔ جس طرح رات کی تاریکی کے بعد صبح روشن ہوتی ہے، ٹھیک اسی طرح یہ وبائی دور بھی ایک خوشگوار اور صحت بخش ماحول میں بدلے گا۔ اس وبائی دور سے ہمیں بہت کچھ سیکھنے کو ملا۔ سب سے اہم یہ کہ طبّی سہولیات اوراسپتالوں میں بہتر نظم کے متعلق ہم اب تک غفلت برتتے آئے ہیں ، اس کی قیمت ہم نے چکائی، ہمیں از خود اپنی غفلت، کوتاہی اور لاپروائی کاجائزہ لینا چاہئے ۔
 لاک ڈاؤن کے دور میں آنے والا یہ رمضان تو زندگی بھر یاد رہے گا مگر عیدالفطر بھی موقع موقع سے یاد آتی رہے گی۔ اللہ کے نیک بندے ہر سال غرباء و مساکین کو عید کی خوشیوں میں شریک کرتے ہیں مگر اس بار ہر طبقے کے افرادکسی کے کہنے سے پہلے ہی دست تعاون دراز کررہے ہیں ۔ یہ سلسلہ رمضان کے پہلے ہی شروع ہوگیا تھا کیونکہ لاک ڈاؤن میں لوگوں کے کھانے پینے کا شدید مسئلہ پیدا ہوگیا تھا۔ دوران رمضان اس جذبۂ خیر کو نئی سمت و رفتار ملی اور اب اُمید کی جارہی ہے کہ ماہِ مبارک کی رخصتی کے ساتھ یہ جذبہ رخصت نہیں ہوگا بلکہ جاری رہے گا۔ لاک ڈاؤن کے سبب کام دھندا متاثر ہونے سے کیا امیر کیا غریب سبھی کی کمر ٹوٹی ہے۔ اس کے باوجود لوگ باگ ایک دوسرے کی مدد کیلئے تیار ہیں ۔ کئی تنظیموں نے راشن کٹ بھی تقسیم کی ہیں ۔
 ماہ صیام رخصت ہوا چاہتا ہے اورعید الفطرکی آمدآمد ہے ۔ہماری ایک بے چینی یہ بھی ہے کہ یہ لاک ڈاؤن کب ختم ہوگا؟ فیلڈ ورک کے دوران جو چند لوگ راہ چلتے مل جاتے ہیں اُن میں سے کوئی شناسا ہو تو پوچھ بیٹھتا ہے’’ آخر یہ لاک ڈاؤن کب ختم ہوگا ؟‘‘ اس سوال پر غالب یاد آجاتے ہیں جو اس مصرعے کے ذریعہ ہماری مشکل آسان کرگئے ہیں : کوئی بتلاؤ کہ ہم بتلائیں کیا۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK