Inquilab Logo

سلام بن رزاق کے افسانوں کے حوالے سے: مرکز میں کھڑے حاشیائی کردار

Updated: May 12, 2024, 3:43 PM IST | Muhammad Aslam Parvez | Mumbai

سلام بن رزاق، جو منگل ۷؍ مئی ۲۴ء کو اِنتقال کرگئے، ہمارے عہد کے صف اول کے افسانہ نگارتھے۔ سماج کے دبے کچلے اور مظلوم و محروم طبقے کے افراد اُن کی کہانیوں میں مرکزی کردار کی جگہ پاتے تھے۔ اِس مضمون میں اُن کے فن کی متعدد خوبیوں کو اُجاگر کیا گیا ہے۔

Authentic name of Urdu fiction: Salam bin Razzaq. Photo: INN
اُردو افسانے کا معتبر نام: سلام بن رزاق۔ تصویر : آئی این این

۷۰ء کی دہائی میں جب پورے ملک میں علامتی اور تجریدی افسانہ پورے طمطراق سے فروغ پا رہا تھا اس وقت کی ایک عجیب لیکن خاص بات یہ کہ ممبئی کےسلام بن رزاق، انور خان، انور قمر، ساجد رشید، علی امام نقوی، مشتاق مومن اور مقدر حمید جیسے افسانہ نگار جدیدیت کے ہائی وولٹیج گلیمر سےقطعی متاثرنظر نہیں آتے تھے۔ جدیدیت کی پیداکردہ ذہنی آزادی کی فضا کواِن افسانہ نگاروں  نے کھلی بانہوں سے قبول ضرور کیا تھا مگرکہانی کو افسانے کے صفحے پر ذبح ہونے نہیں دیا۔ نام نہاد جدیدیت خالص کہانی پیدا کرنے کی جھونک میں جس کہانی پن کو قتل کرنے کے درپے تھی، وہی کہانی پن ’’سروائیول کٹ‘‘کی طرح ممبئی کے اِن افسانہ نگاروں کے پاس موجود تھا۔ جدید اردو فکشن کی تاریخ شاہد ہے کہ افسانہ نگاروں کی اس پیڑھی نے معاشرتی صورتحال پر جس طرح معنی خیزمکالمے کو قائم کیا اس میں بمبئی کے افسانہ نگاروں کا رول رہا ہے۔ کہنے کی ضرورت نہیں کہ سلا م بن رزاق نے بھی اس میں اپنی حصّے داری بخوبی نبھائی۔ زیرِ نظر مضمون کا مقصد سلام بن رزاق کے فنی مرتبے کا تعین کرنا نہیں بلکہ اردو فکشن کے قاری او ر طالب علم کی حیثیت سے ان کے فنی رویے کو سمجھنا ہے۔ 
  ایمرجنسی کے زمانے میں سلام بن رزاق نے ایک مختصر سا افسانہ بہ عنوان ’’روشنی کا سراب ‘‘ تحریر کیا تھا جو ’’اظہار‘‘ کے اولین شمارے میں شائع ہوا تھا۔ سات سطری یہ مختصر افسانہ یا افسانچہ میرے خیال میں سلام بن رزاق کے فنی رویے کا بلو پرنٹ ہے۔ افسانہ کچھ اس طرح ہے کہ شہر کی بجلی فیل ہو جانے کےسبب اچانک چاروں طرف اندھیرا چھا جاتا ہے۔ آنکھیں ناکارہ ہوجاتی ہیں اور ہاتھ کو ہاتھ تک سجھائی نہیں دیتا۔ مگر کچھ وقت گزرنے کے بعدلوگوں کو محسوس ہوتاہے کہ اندھیرا کم ہو رہا ہے اور انہیں کچھ کچھ دکھا ئی دے رہا ہے جبکہ اندھیرا کم نہیں ہو رہا تھا بلکہ حقیقت یہ تھی کہ لوگوں کی آنکھیں اندھیرے میں دیکھنے کی عادی ہو رہی تھیں۔ غور کریں توسلام کے بیشتر افسانوں کا موضوع زندگی اور زمانے کے مختلف منطقوں میں بڑھتا ہوا یہی اندھیرااور اس اندھیرے سے مانوس ہونے والی آنکھیں ہیں۔ گھنے سے گھنے اندھیرے کو کسی حکم ِ نادیدہ کی طرح قبول کرنے کی انسانی سائیکی کو سلام بن رزاق نے افسانوں کا موضوع اور مظروف بنایا۔ ان کے خلق کئے گئے کردار بھی اسی سائیکی کی آہنی فریم کے حصار میں ہیں۔ یہ اندھیرا کبھی تقدیر بن کر اُن پر مسلط ہوتا ہے تو کبھی مُراد بن کران کی زندگی پر چھا جاتا ہےاور کبھی کبھی سراب بن کر ان کے خوابوں کو نت نئی تعبیر عطا کرتا ہے۔ گویا ’’روشنی کا سراب ‘‘ کو ہم سلام بن رزاق کے افسانے کی دُنیا میں داخلے کی کلید قرار دے سکتے ہیں۔ 

یہ بھی پڑھئے: افسانہ: رِنگ ماسٹر

ادبی حلقوں میں بحیثیت افسانہ نگار سلام بن رزاق کافی شہرت رکھتے ہیں اور گزشتہ پچاس برسوں سے ان کا قلم لگاتارتخلیقی مرقعے کھینچتا چلا آرہا ہے۔ ان پانچ دہائیوں  میں بدلتے ہوئے فنی اسالیب اورادبی و تخلیقی محرکات کی جو مثالیں سلام بن رزاق کے افسانوں میں موجود ہے وہ ممبئی کے کسی دیگر افسانہ نگار کے یہاں اتنے واضح انداز میں نہیں ملتی۔ افسانہ نگاری کے علاوہ مراٹھی اور ہندی سے ترجمے کا کام بھی انہوں نےخلاقانہ انہماک سے کیاہے۔ عام طور پر ترجمے اصل تحریر کو ناگوار بنا دیتے ہیں، لیکن جی اے کلکرنی کے افسانوں اور مدھو منگیش کارنک کے مراٹھی ناول ’’ماہم چی کھاڑی ‘‘کی مراٹھی مقامیت، ڈکشن اور اسلوب کوانہوں نےاردو زبان کے محاورے میں اس طرح  ڈھالاہے کہ دونوں زبان کی روحیں ایک دوسرے سے گلے ملتی ہوئی نظر آتی ہیں۔ مراٹھی فکشن کے گہرے مطالعے نے زمین سے سلام کے رشتے کو نہ صرف مستحکم رکھا بلکہ آس پاس کی صداقتوں سے انہیں منحرف بھی نہیں ہونے دیا۔ سلام بن رزاق کا فنی و تخلیقی کام ہی ان کے ادبی مقام کی دلیل ہے۔ اُن کے چار افسانوی مجموعے (ننگی دوپہر کا سپاہی، معبر، شکستہ بتوں کے درمیان اور زندگی افسانہ نہیں ) منظر عام پر آ چکے ہیں۔ مختلف ناقدین نے ان پر جو رائے تبصروں، تجزیوں، تاثراتی مضامین اور علمی مقالوں کی شکل میں دی ہے اسے پڑھ کر اندازہ ہوتا ہے کہ تمام تر تخلیقی و فنی حدود کے باوجود وہ اپنی نسل کے اہم اور نمائندہ افسانہ نگار ہیں۔ حال ہی میں نوجوان ناقد اور اسکالر شاکر تسنیم نے ان کے بارہ افسانوں کے چودہ تجزیوں پر مشتمل ایک کتاب ’’سلام بن رزاق: اپنے افسانوں کے آئینے میں ‘‘ مرتب کی ہے۔ اس میں گوپی چند نارنگ، وارث علوی، قمر رئیس، مہدی جعفر اور حامدی کاشمیری کے علاوہ دوسرے کئی نقادوں کی تحریریں شامل ہیں۔ بقول اسیم کاویانی مذکورہ کتاب سلام شناسی کی طرف پہلا قدم ہے۔ سلام بن رزاق کے افسانوں کی ایک خوبی / خامی یہ ہے کہ موضوع، کرافٹ اوراسلوب کے نقطہ نظر سے ان کے زیادہ تر افسانے ایک ہی زنجیر کی کڑیاں معلوم ہوتے ہیں۔ زندگی کی بساط پر مہرے کی طرح جینے والے بے بس، لاچار اور مجبور انسان کوجسے سسٹم نے پیس ڈالا ہے، سلام نے نہ صرف اپنے افسانے کاشاہ کردار بنایابلکہ اسے اپنا ہمزاد بھی قرار دیا۔ وہ خود کہتے ہیں :
’’میری ذات سے میرے کردار وجود میں آتے ہیں اور میرے کرداروں سے مل کر ہی میری ذات مکمل ہوتی ہے۔ غالب نے قطرے میں دریا اور جُز میں کُل کی حقیقت دریافت کی تھی۔ میں اپنی ذات کے آئینے میں اپنے اطراف کے لوگوں کی حرکات و سکنات کا مشاہدہ کرتا رہتا ہوں۔ ان کی محبتیں، ان کی نفرتیں، ان کی شرافت، ان کی کمینگی، ان کی سرکشی، ان کی بزدلی، ان کے سکھ، ان کے دکھ، غم و غصّہ، سختی اور نرمی سب میرے ہی جذبے کے مختلف عکس ہیں۔ ‘‘
 ’’بے چہرہ بھیڑ‘‘ میں بے نام چہرے والے اس عام آدمی کو سلام بن رزاق نے اپنے ہی حوالے سے فنی سانچوں اور لسانی ساختوں میں اس طرح باندھا کہ شخصی حیثیتوں سے محروم ہونے / رہنے کے باوجود افسانے کے صفحہ پروہ مرکزی جگہ گھیر لیتا ہے۔ عام آدمی کی سادگی، کمینگی، بزدلی، نامردی، اس کا جھوٹ، خود غرضی، منافقت، اس کی ذہنی، جذباتی کشاکش، الجھنیں، اس کا غصہ، حالات کی ستم ظریفیاں، محفوظ زندگی بسر کرنے کی شدید خواہش اور عدم تحفظ کا احساس، گویاعام آدمی کی زندگی میں، اس کے باطن اور اس کے آس پاس جاری مہابھارت سے پڑھنے والوں کو روبرو کرانے کا کام انہوں نے فریضے کے طور پر انجام دیا ہے۔ سلام بن رزاق کے زیادہ تر افسانوں میں ہماری ملاقات ایک ایسے ہیرو سے ہوتی ہے جو اپنی اصل میں نان ہیرو ہے، اپنے اس نان ہیرو کوانہوں نے مخصوس نام کے ساتھ ہی افسانوں میں ٹیگ کیا ہے۔ اُن کی شکلیں اور الگ الگ صورتیں وضع کی ہیں، عادات و اطوار بھی متعین کئے ہیں جس کی وجہ سے انہیں پہچاننے اور ان میں تفریق و امتیاز قائم کرنے میں قاری کو کوئی دقّت پیش نہیں آ تی۔ لیکن افسانوی رنگ منچ پر الگ الگ ناموں، چہروں اور کاسٹیوم کے ساتھ نمودار ہونے والا اصل میں ایک ہی آدمی ہے جسے تلاشنے، تراشنے اور پانے کاجتن افسانہ نگارمسلسل کرتا رہا ہے۔ 
 ابولکلام قاسمی نے اُن کے پہلے افسانوی مجموعہ ’’ننگی دوپہر کا سپاہی‘‘ پر تبصرہ کرتے ہوئے لکھا تھا : ’’اس مجموعہ میں پندرہ کہانیاں  شامل ہیں، جن میں چار پانچ حیرت انگیز حد تک موضوع کی یکسانیت کی غمازی کرتی ہیں۔ ‘‘ موضوع کی اس یکسانیت کی شکایت سلام بن رزاق کے بیشتر ناقدین نے کی ہے۔ خود سلام کو بھی اس کا احساس ہے، شاید یہی وجہ ہے کہ موضوع کی یکسانیت کے اثر کو زائل کرنے کیلئے انہوں نے تکنیک، بُنت اور ساخت پر خصوصی توجہ دی ہے۔ 
(اس طویل مضمون کا اگلا حصہ آئندہ اتوار کو اسی صفحہ پر ملاحظہ فرمائیں ) 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK