مزاحمت کا استحکام اور تقویت پانا ضروری ہے

Updated: February 13, 2020, 4:14 PM IST | Prabhat Patnaik

عوامی مزاحمت، جمہوریت اور آمریت (یا فاشزم) کے درمیان سب سے بڑی دیوار ہوتی ہے۔ وطن عزیز میں جمہوریت کے دفاع میں شاہین باغ، پارک سرکس،گھنٹہ گھر اور دیگر مقامات کی خواتین کا آگے آنا خوش آئند ہے

شہریت ترمیمی قانون اور این آر سی کیخلاف احتجاج جاری ہے
شہریت ترمیمی قانون اور این آر سی کیخلاف احتجاج جاری ہے

ہمارا ملک فاشزم کے دہانے پر آکھڑا ہوا ہے۔ یہ پہلا موقع ہے ورنہ اب تک ہم نے یہ تو دیکھا ہے کہ جمہوری نظام میں فاشسٹ عناصر کو اقتدار کے مناصب پر فائز ہونے کا موقع مل گیا مگر پورے نظام کو فاشزم کی جانب دھکیلنے کا سلسلہ جو ابتداء میں مدھم رفتار سے جاری تھا، اب خاصا تیز ہوگیا ہے۔ عوام کو گمراہ کرنے کیلئے جھوٹ اور آدھی سچائی کا سہارا لینا، مخالفین کو ’’گولی مارنے‘‘ کا نعرہ، اُنہیں  غدار، ملک دشمن اور ’’ٹکڑے ٹکڑے گینگ‘‘ سے وابستہ قرار دینے کا مضبوط ہوتا چلا جانا، یہ فرض کرلیناکہ ’’ایک لیڈر‘‘ اور ’’ایک پارٹی‘‘ ہی ’’ملک‘‘ کی واحد ترجمان ہے، آئین کی بالادستی کو متاثر کرنا اور ملک کی سب سے بڑی اقلیت کو حاشئے پر لانے کی کوشش تاکہ اس کے افراد  دوسرے درجے کے شہری بن جائیں، وغیرہ، یہ ساری باتیں یہ سمجھانے کیلئے کافی ہیں کہ حکمراں جماعت ملک کو فاشزم کی طرف لے جارہی ہے اور اپنے اس من چاہے ایجنڈے کو نافذ کرنے میں غیر لچکدار رویہ  اپنائے ہوئے ہے۔ 
 اس پس منظر میں بلاشبہ یہ دریافت کیا جائیگا کہ سارا زور تو ہندو راشٹر بنانے پر صرف کیا جارہا ہے لہٰذا یہ کیسے کہا جاسکتا ہے کہ فاشزم کی طرف دھکیلا جارہا ہے؟ پوچھنے والا یہ سوال ضرور پوچھ سکتا ہے مگر اس کی ضرورت اسی لئے پیش آرہی ہے کہ حکومت ایک خاص پروپیگنڈہ  کے ذریعہ عوام میں غلط فہمی پھیلا رہی ہے۔ وہ یہ کہ ہندو راشٹر سے ہندوؤں کو بہت فائدہ ہوگا جس میں اُنہیں برتری حاصل ہوگی چنانچہ سی اے اے وغیرہ سے اکثریتی طبقے کو نہیں بلکہ اقلیتی طبقے کو فکرمند ہونا چاہئے یعنی  ہندوؤں کو سی اے اے، این پی آر اور این سی آر کا خیرمقدم کرنا چاہئے۔
 یہاں یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ ہندو راشٹر سے ہندوؤں کی سماجی و معاشی حالت بہتر ہونے کا ہلکا سا بھی امکان نہیں ہے کیونکہ ہندوتوا کے عناصر کے پاس نہ تو کوئی پروگرام ہے نہ ہی یہ بصیرت کہ عوامی زندگیوں کو کس طرح بہتر بنایا جاسکتا ہے۔ یہ ہوئی ایک بات۔ دوسری بات یہ ہے کہ ہندو راشٹر کی فکر اور نظریہ آمریت سے قریب ہے اسلئے اگر اس راشٹر کی تشکیل ہوئی بھی تو ہندوؤں کو اسی آمریت کے زیر سایہ رہنا پڑے گا جیسا کہ دیگر ملکوں میں نظام ِآمریت اُنہیں بے دست و پا کرکے رکھ دیتا ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ اقلیتی فرقوں یا اقلیت کے ایک فرقے کو بڑی آزمائشوں سے گزرنا پڑسکتا ہے لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ اکثریتی فرقہ ان آزمائشو ں سے آزاد رہے گا۔ 
 ممکنہ طور پر جو نظام ِ آمریت عوام کی آزمائشوں کا سبب بنے گا، اس کا ہر فرمان غیر منطقی ہوگا بالکل اُسی طرح جیسا کہ ہندوتوا کا نظریہ اور فلسفہ ہے۔ یہاں غیر منطقی ہونے سے مراد یہ کہ جو کوئی فرمان جاری کیا جائیگا وہ حقائق اور شواہد پر مبنی نہیں ہوگا بلکہ عقائد پر مبنی ہوگا۔ اس سلسلے میں کہا جائیگا (مثال کے طور پر) کہ میں اسے صحیح سمجھتا ہوں اس لئے اس کا صحیح ہونا لازمی ہےاور چونکہ کسی چیز کو صحیح ٹھہرانے کا کوئی پیمانہ نہیں ہے اس لئے آپ غلط ہوسکتے ہیں، میرا فرمان صحیح اور درست ہے۔ ظاہر ہے کہ اس طرز عمل سے ملک کو نقصان ہی پہنچے گا، فائدہ تو نہیں ہوسکتا۔ یہی سوچ اور طرز فکر ہے جس کے تحت سیاسی جماعتوں اور سیاستدانوں کو خواہ وہ روشن خیال پارٹیاں ہوں یا بائیں محاذ کے لوگ ہوں، سب کو ملک دشمن یا باغی کہہ دیا جاتا ہے۔ یہ ہے بے جواز اور غیر منطقی طرز عمل جو بنیادی طور پر غیر جمہوری ہے۔
 موجودہ ماحول میں  ہندو راشٹر کا مفہوم ہے  ایک خاص ’’لیڈر‘‘ اور اس کے ٹولے کا اُسی چیز کو درست کہنا اور کہلوانا جو اُن کی اپنی دانست میں درست ہے اور جسے سرکاری محکموں اور بھیڑ کے ذریعہ  نافذ کیا جاسکے۔ اس میں ایک امکان یہ بھی ہے کہ بھیڑ کے اپنے بھی خیالات اور نظریات ہوسکتے ہیں جو ’’لیڈر‘‘ کے سوچنے سمجھنے کے ڈھنگ سے مشابہ بھی ہوںگے اور مختلف بھی۔ مختصر یہ کہ ہندو راشٹر میں متاثرین کوئی بھی ہوسکتے ہیں خواہ وہ اقلیتی فرقے سے تعلق رکھنے والے لوگ ہوں یا اکثریتی فرقے سے۔ وہ اپنی برتری ہی کو عقلیت پسندی تصور کریں گے اور اسی لئے میں نے کہا کہ جو ہندو راشٹر ہوگا وہ فاشزم کے زیر اثر ہوسکتا ہے۔ 
 اگر اب تک ایسے راشٹر کی تشکیل میں مزاحمت ہوتی رہی اور یہ خواب شرمندۂ تعبیر نہیں ہوسکا ہے تو اس کی وجہ وہ عوام ہیں جو اس کے خلاف سخت مزاحمتی دیوار بنے ہوئے ہیں۔ ان میں خواتین ہیں، غریب طبقات ہیں، مذہبی اقلیتیں ہیں، مزدور طبقہ ہے، طلبہ ہیں اور دانشور حضرات ہیں۔ ان کی مزاحمت کی بنیاد میں یہ مطالبہ شامل ہے کہ ملک سیکولر رہے گا، جمہوری رہے گا اور سب کو ساتھ لے کر چلنے کی روش پر قائم رہے گا۔ یہ وہی نظریہ اور فلسفہ ہے جو سامراج مخالف سرگرمیوں کی روح رواں تھا اور جس کو بڑی تقویت بابائے قوم مہاتما گاندھی نے بخشی تھی۔
 مذکورہ عوامی طبقات کی یہ مزاحمت آمریت اور فاشزم کے خلاف آخری صف ِ دفاع ہے کیونکہ تمام جمہوری ادارے جنہیں بہترین دفاع کا ذریعہ بننا چاہئے تھا اور جن پر عوام کا بھرپور اعتماد ہے، اپنا فرض اولین بھول رہے ہیں۔ میڈیا اور پارلیمنٹ کا طرز عمل تو سب کے سامنے ہے ہی، عدلیہ کا انداز بھی بدلا بدلا سا ہے جسے بابری مسجد کیس میں دیئے گئے ’’غیر منطقی‘‘ فیصلے میں دیکھا جاسکتا ہے اور  دفعہ ۳۷۰؍ کے ہٹائے جانے کے بعد اس کیس کی شنوائی میں تاخیر سے سمجھا جاسکتا ہے۔حیرت انگیز بات یہ ہے کہ وطن عزیز میں جمہوریت سے فاشزم کی طرف بڑھنے والے قدموں کی رفتار کافی تیز ہے جبکہ یہ سفر عموماً اتنا آسان نہیں ہوتا۔ جرمنی میں نازی کو اقتدار میں آنے کے باوجود کئی شرائط کو پورا کرنا پڑا تھا تب کہیں جاکر فوج اُس کے تابع ہوسکی تھی۔ ہمارے ملک میں چونکہ حکمراں طبقہ جانتا ہے کہ عوامی مزاحمت سد ِ راہ بنے گی اس لئے وہ ہر ممکن ذریعہ سے اسے بے اثر کرنے کیلئے کوشاں ہے۔ اس کیلئے طاقت کا بھی استعمال کیا جارہا ہے اور فرقہ وارانہ تفریق بھی پیدا کی جارہی ہے۔ 
 ایسے ماحول میں مزاحمتی تحریک کے  باقی رہنے اور کامیاب ہونے کیلئے لازمی ہے کہ مزاحمت مستحکم ہو، اس کا دائرہ بڑھے، جمہوریت نواز لوگوں کو طاقت ملے بالخصوص اُن جمہوریت نوازوں کو جو اقتدار کے ڈھانچے کا حصہ ہیں۔ ویسے جو منظرنامہ ہر خاص و عام کے سامنے ہے وہ یہ ہے کہ بہت سے لوگ جمہوریت کے دفاع میں اُٹھ کھڑے ہوئے ہیں۔ اُن کے عزم اور جرأت کی ستائش کی جانی چاہئے کہ اُن سے بڑی اُمیدیں بندھی ہیں۔ ترکی کے مشہور انقلابی شاعر ناظم حکمت نے ۱۹۴۹ء میں، جب وہ جیل میں تھے، لکھا تھا کہ ’’چینی فوج نے مجھے بھی بچایا۔‘‘ ناظم حکمت ہی کی تحریر سے استفادہ کرتے ہوئے کہا جاسکتا ہے کہ ’’شاہین باغ، پارک سرکس، گھنٹہ گھر اور دیگر مقامات پر موجود خواتین نے، جو مزاحمت اور احتجاج کی توانا آواز ہیں، مجھے بھی بچایا ہے۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK