پونے میں ایم پی ایس سی کے امتحانات کی تیاری کرنے والے طلبہ کے احتجاج کو غیر اردو اخبارات نے نوجوانوں میں بڑھتے ہوئے شعور، اپنے حقوق کے تئیں بیداری اور مستقبل کے حوالے سے ان کے عزم و حوصلے کی علامت قرار دیا ہے۔
EPAPER
Updated: October 11, 2026, 6:30 PM IST | Ejaz Abdul Gani | Mumbai
پونے میں ایم پی ایس سی کے امتحانات کی تیاری کرنے والے طلبہ کے احتجاج کو غیر اردو اخبارات نے نوجوانوں میں بڑھتے ہوئے شعور، اپنے حقوق کے تئیں بیداری اور مستقبل کے حوالے سے ان کے عزم و حوصلے کی علامت قرار دیا ہے۔
پونے میں ایم پی ایس سی کے امتحانات کی تیاری کرنے والے طلبہ کے احتجاج کو غیر اردو اخبارات نے نوجوانوں میں بڑھتے ہوئے شعور، اپنے حقوق کے تئیں بیداری اور مستقبل کے حوالے سے ان کے عزم و حوصلے کی علامت قرار دیا ہے۔ دوسری جانب مراٹھی اداکار نانا پاٹیکر کے انتقال پر رنج و غم کا اظہار کرتے ہوئے انہیں ہندی اور مراٹھی فلمی صنعت کا ایک باصلاحیت اور ممتاز اداکار قرار دیا گیا اور ان کی فنی خدمات کو خراجِ عقیدت پیش کیا گیا۔ ادھر غزہ پر اسرائیلی حملوں کے تین سال مکمل ہونے کے تناظر میں اس جنگ کو پوری انسانیت کیلئے ایک ناسور قرار دیتے ہوئے اس کے تباہ کن اثرات اور انسانی المیے پر تشویش ظاہر کی گئی ہے۔ معاشی محاذ پر بھی بیشتر اخبارات نے اداریے تحریر کرتے ہوئے شرحِ سود میں اضافے کو عام آدمی کے لیے نقصان دہ قرار دیا ہے۔
کیا حکومت طلبہ کے واقعی سنجیدہ ہے؟
لوک ستہ( مراٹھی، ۷؍اکتوبر )
’’مسابقتی امتحانات کی تیاری کرنے والے نوجوانوں کے عزم و حوصلے اور اپنے مستقبل کے تحفظ کیلئے ان کی جدوجہد کو جتنا سراہا جائے کم ہے۔ اسکول اور کالج کی اعصاب شکن تعلیم، وسائل کی قلت، غربت کی تلخیاں، والدین کی توقعات کا بوجھ اور مستقبل کے حوالے سے پائی جانے والی غیر یقینی صورت حال۔ ان تمام آزمائشوں سے گزرنے کے باوجود اپنے حقوق کیلئے میدان عمل میں ڈٹے رہنا اور طویل جدوجہد کا حوصلہ برقرار رکھنا کوئی معمولی بات نہیں۔ پونے میں مہاراشٹر پبلک سروس کمیشن (ایم پی ایس سی) کے فرسودہ اور بدانتظامی کے شکار نظام کے خلاف گزشتہ کئی دنوں سے جاری طلبہ کا احتجاج اسی بیداری اور حق طلبی کا مظہر ہے۔ یہ احتجاج محض چند مطالبات کی منظوری کی تحریک نہیں بلکہ اس نظام کے خلاف نوجوانوں کی صدائے احتجاج ہے جو اُن کے خوابوں اور مستقبل سے وابستہ امیدوں کو مسلسل مجروح کر رہا ہے۔ مہاراشٹر میں اگر سرکاری اداروں کی کارکردگی، انتظامیہ کی بدانتظامی اور جواب دہی کے فقدان کا جائزہ لیا جائے تو ایم پی ایس سی کی صورتحال یقیناً کئی سنجیدہ سوالات کو جنم دیتی ہے۔ جس ادارےکی بنیادی ذمہ داری باصلاحیت نوجوانوں کو شفاف اور بروقت مسابقتی امتحانات کے ذریعے سرکاری خدمات میں مواقع فراہم کرنا ہے اگر وہی ادارہ بےضابطگیوں اور انتظامی ناکامیوں کا شکار ہو جائے تو نوجوانوں کا اعتماد متزلزل ہونا فطری ہے۔ وزیراعلیٰ فرنویس اس صورتحال کی سنگینی سے ناواقف نہیں ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ انہوں نے کمیشن میں اصلاحات کا جائزہ لینے کیلئے محکمۂ عمومی انتظامیہ کی سیکریٹری وی رادھا کی سربراہی میں ایک کمیٹی تشکیل دی۔ بظاہر یہ اقدام اصلاحات کی جانب ایک مثبت پیش رفت تھا، لیکن اصل سوال یہ ہے کہ کیا حکومت واقعی ایم پی ایس سی کے نظام کو بہتر بنانے کیلئے سنجیدہ ہے یا کمیٹیوں کی تشکیل اور جائزوں کے اعلانات کے ذریعے وقتی طور پر طلبہ کے غصے کو ٹھنڈا کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے؟‘‘
نانا پاٹیکر:بے باک اور زندہ ضمیر کا نام تھے
لوک مت( مراٹھی، ۹؍اکتوبر )
’’فن اور فنکار کے مابین تعلق محض پردۂ سیمیں تک محدود رہے تو شہرت کا چراغ وقت کی دھول میں مدھم پڑ جاتا ہے لیکن جب کوئی اداکار سماج کا درد بن کر دھڑکنے لگے تو وہ تاریخ کے سینے پر ثبت ہو جاتا ہے۔ نانا پاٹیکر محض ایک اعلیٰ پائے کے اداکار نہیں تھے بلکہ وہ اس عہد کے سب سے بے باک اور زندہ ضمیر کا نام تھے۔ وہ کسی دباؤ، کسی خوف اور کسی رو رعایت کے قائل نہ تھے۔ جو دل میں ہوتا وہ بے باکی کے ساتھ زبان پر آ جاتا۔ تکلفات اور مصلحتوں کے اس دور میں وہ ایک ایسی شخصیت تھے جنہیں کوئی صاحب سلامت کے روایتی آداب میں مقید نہ کر سکا۔ بچے، بوڑھے، نوجوان ہر ایک کیلئے نانا کسی پرائے جہان کا ستارہ نہیں بلکہ اپنے ہی گھر کا ایک فرد تھے۔ بدعنوانی کے خلاف سلگتے جذبات ہوں، سماجی زبوں حالی پر اٹھتے سوالات ہوں یا پھر دھرتی کے سینے کو سیراب کرنے والے بے بس کسانوں کی خودکشیاں۔ عوام کو ہمیشہ محسوس ہوتا تھا کہ ان کے دبے ہوئے غصے اور تڑپ کو زبان دینے کیلئے نانا جیسا ہی کوئی مرد جری چاہیے۔ فلم کرانتی ویر میں جب انہوں نے دو انسانوں کی انگلیاں کاٹ کر ان کا لہو ملایا اور للکار کر پوچھا کہ’بتا اس میں ہندو کا خون کون سا ہے اور مسلمان کا کون سا‘ تو وہ کوئی محض فلمی مکالمہ نہیں تھا بلکہ نفرت کی سیاست کے منہ پر ایک زوردار طمانچہ تھا۔ حمیدہ بائی چی کوٹھی اور مہا ساگر جیسے اسٹیج ڈراموں سے کندن بن کر نکلنے والا یہ فنکار جب فلمی افق پر چمکا تو پرندہ کے انا سیٹھ کرانتی ویر کے پرتاپ تلک اور اب تک چھپن کے سادھو آگاشے جیسے لافانی کرداروں کو امر کر گیا۔ تین قومی فلم ایوارڈ اور پدم شری جیسے اعلیٰ اعزازات بھی ان کے پاؤں کی زنجیر نہ بن سکے اور نہ ہی وہ کبھی نمود و نمائش کا شکار ہوئے۔ ‘‘
نیتن یاہو کا فسطائی ایجنڈا پوری طرح واضح ہے
دی انڈین ایکسپریس( انگریزی، ۷؍اکتوبر )
’’غزہ جنگ کو تین برس بیت چکے ہیں مگر خطۂ مشرقِ وسطیٰ میں بارود کا جو الاؤ سلگایا گیا تھا، وہ بجھنے کے بجائے مزید پھیل کر خطے کے وجود کو نگل رہا ہے۔ ایک طرف ۱۲۰۰؍ اسرائیلیوں کی ہلاکت اور ۲۵۱؍یرغمالیوں کا المیہ تھا تو دوسری جانب انتقام کے نام پر برپا کی جانے والی وہ جارحیت ہے جس نے غزہ کو کھنڈر بنا کر ۷۰؍ ہزار سے زائد معصوم انسانوں کا قبرستان بنا دیا۔ مگر سوال یہ ہے کہ اس تمام تر تباہی کے بعد نیتن یاہو حکومت اور اس کے سرپرستوں کے ہاتھ کیا آیا؟ عالمی سطح پر اسرائیل کی اخلاقی اور سفارتی تنہائی اس نہج پر پہنچ چکی ہے کہ کئی روایتی مغربی اتحادی بھی اب ریاستِ فلسطین کو باضابطہ تسلیم کرنے پر مجبور ہو چکے ہیں۔ تل ابیب کی عسکری قیادت اور واشنگٹن کی منافقت کا سب سے بڑا ثبوت یہ نام نہاد جنگ بندی ہے جس کاڈھنڈورا پچھلے ایک سال سے پیٹا جا رہا ہے۔ زمینی حقیقت یہ ہے کہ بمباری کا سلسلہ تھما نہیں۔ غذائی قلت اور نقل مکانی کا عذاب جوں کا توں مسلط ہے۔ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کا امن معاہدہ محض سیاسی شعبدہ بازی کے سواکچھ ثابت نہیں ہوا۔ طاقت کے اس کھیل میں نیتن یاہو کا فسطائی ایجنڈا پوری طرح عیاں اور واضح ہے۔ ٹرمپ معاہدہ نے اگرچہ پہلے مرحلے میں ہی اسرائیل کو ۵۳؍ فیصد غزہ پر قابض رہنے کا ناجائز جواز فراہم کیا تھا مگر صہیونی فورس نے اپنی حدود کو دو تہائی پٹی تک پھیلا کر تمام معاہدوں کی دھجیاں اڑا دیں۔ سب سے سنگین المیہ وائٹ ہاؤس کا مجرمانہ کردار ہے۔ امریکی قیادت ایران کے خلاف محاذ آرائی اور اس کے پیدا کردہ سیاسی گرداب میں اس قدر الجھی ہوئی ہے کہ اسے اس انسانی المیے سے کوئی سروکار نہیں۔ البتہ یہ اطمینان بخش پیش رفت ضرور ہے کہ تاریخ میں پہلی بار خود امریکی عوام کے اندر اسرائیل کے لیے غیر مشروط حمایت کم ترین سطح پر آ چکی ہے۔ ‘‘
ریپو ریٹ میں اضافہ منصوبوں پر پانی پھیر دیگا
جن ستہ( ہندی، ۸؍اکتوبر )
’’آر بی آئی کی جانب سے اہم پالیسی شرح سود یعنی ریپو ریٹ میں ۰ء۲۵؍ فیصد اضافہ کرکے اسے۵ء۵۰؍ فیصد مقرر کرنے کا فیصلہ بظاہر بڑھتی ہوئی مہنگائی اور روپے کی قدر میں مسلسل تنزلی کو روکنے کی روایتی کوشش ہے۔ مرکزی بینک کا یہ استدلال اپنی جگہ درست ہو سکتا ہے کہ قیمتوں پر قابو پانے اور معاشی نمو کے درمیان توازن قائم رکھنا کٹھن مرحلہ ہے مگر بنیادی سوال یہ ہے کہ کیا مانیٹری سختی کا یہ روایتی نسخہ موجودہ معاشی مرض کا حقیقی علاج ہے؟جب مرکزی بینک مانگ کو دبانے کیلئے شرح سود میں اضافہ کرتا ہے تو اس کی سیدھی زد قرض، سرمایہ کاری، صنعتی کھپت اور مجموعی شرحِ نمو پر پڑتی ہے۔ پالیسی سازوں کا یہ فیصلہ سب سے پہلے متوسط اور نچلے طبقے کیلئے سوہانِ روح ثابت ہوتا ہے۔ رہائش اور گاڑیوں سمیت تمام اقسام کے قرضوں پر شرح سود میں اضافہ نہ صرف نئے خریداروں کے منصوبوں پر پانی پھیر دیگا بلکہ پرانے قرض داروں پر ماہانہ اقساط کا بوجھ بھی مزید بڑھ جائے گا۔ پہلے سے ہی روزمرہ کی اشیاء کی قیمتوں سے بے حال عام آدمی اب اس دہرے بحران کی چکی میں پسنے پر مجبور ہوگا۔ آر بی آئی نے اپنے مؤقف کو غیر جانبدار سے بدل کر سوچ سمجھ کر سخت کرنے کا عندیہ دیا ہے جس کا سیدھا مطلب یہ ہے کہ مستقبل قریب میں شرح میں کمی کے تمام دروازے بند کر دیے گئے ہیں اور مزید اضافے کا خدشہ بدستور موجود ہے۔ المیہ یہ بھی ہے کہ یہ اقدام عین اس وقت اٹھایا گیا جب تہواروں کے باعث معیشت میں نئی جان پڑنے اور عام شہریوں کی خریداری بڑھنے کی امید تھی۔ ‘‘