سشانت سنگھ معاملہ ، اونٹ کس کروٹ بیٹھے گا؟

Updated: October 01, 2020, 12:04 PM IST | Khalid Shaikh

سشانت سنگھ کے گھر والوں نے پہلے تو افواہوں کی بنیادپر ممبئی پولیس کی تفتیش پر شک کیا۔ بہار میں الگ سے ایف آئی آر درج کی اور پھر سی بی آئی جانچ کا مطالبہ کرڈالا۔ ایسے میں سیاستداں کیسے چپ بیٹھتے۔

Sushant SIngh Rajput - Pic : INN
سشانت سنگھ راجپوت ۔ تصویر : آئی این این

  ہم جس سماج میں رہتے ہیں اس میں بھلے برے کا تمیز اٹھ گئی ہے یا سیاست کے زیر اثر ہماری ترجیحات بدل گئی ہیں۔ ایک ایسے وقت جب ملک مختلف النوع بحرانوں میں مبتلا ہے، کووڈ ۔۱۹؍ کی قہر سامانی عروج پر ہے اور اندیشہ ظاہر کیاجارہا ہے کہ اگر مریضوں اور اموات کی تعداد یونہی بڑھتی رہی تو چند ہفتوں میں ہندوستان، امریکہ کو پیچھے چھوڑ کر اول نمبر پرآجائے گا۔ ان پر توجہ دینے کے بجائے ہمیں سشانت سنگھ راجپوت کیس میں الجھادیاگیا ہے۔ستمبر کے ۱۷؍ دنوں میں کووڈ مریضوں کی تعداد میں ۱۵؍ لاکھ  کا اضافہ ہوا جبکہ امریکہ اور برازیل میں یہ تعدادکل ملاکر بارہ لاکھ تھی۔ اسی طرح ان ممالک کے مقابلے ہندوستان میں مرنے والوں کی تعداد پانچ ہزار زیادہ تھی۔ لداخ میں چینی فوجوں کی ریشہ دوانیاں جاری ہیں۔ گلوان پر دعوے کے بعد اب چین نے پورے لداخ پر دعویٰ ٹھوک دیا ہے اس کے باوجود مودی ، قومی اور بین الاقوامی سطح پر چین کا نام لینے سے کتراتے ہیں۔ گزشتہ چھ مہینے میں لاک ڈاؤن کی وجہ سے معیشت اور معاش کی جو درگت بنی، جگ ظاہر ہے ۔ کریڈٹ اور مالیاتی ریٹنگ ایجنسیاں جو ہندوستان کو تیز ترین اکنامک پاور کی سند دیتے  نہیں تھکتی  تھیں، اس میں کیڑے نکال رہی ہیں۔ اپریل ۔جون کی سہ ماہی میں جی ڈی پی منفی ۲۴؍فیصدہوگئی ۔ مانسون سیشن میں حکومت  نے جس دھاندلی کے ساتھ زرعی اور لیبربلوں کو منظورکیا۔ وہ کسانوں اور مزدورتنظیموں کو راس نہیں آیا۔ بیروزگاری الگ منہ چڑارہی ہے اور لیبربل کے پاس ہونے سے ملازمین کی چھٹنی کا خطرہ بڑھ گیا ہے ۔ زرعی بلوں کے خلاف کسان اور اپوزیشن پارٹیاں سڑکوں پر اترآئی ہیں۔  آنے والے دنوں میں انہیں مزید شدت آئے گی۔ اس تعلق سے کسانوں اور اپوزیشن پارٹیوں کا اہم مطالبہ اقل ترین خامی قیمت (MSP) کولے کر ہے ۔ ان کا مطالبہ ہے کہ اگر حکومت ایم ایس پی کے خلاف نہیں تو اس نے اسے بل میں کیوں نہیں شامل کیا۔
 یہی نہیںغیر ملکی دوروں سے انہوںنے جو شبیہ بنائی ، اس پر بھی انگلیاں اٹھنے لگی ہیں۔ ٹائم میگزین نے ۲۰۲۰ء کے لئے دنیا کے جن بااثر ۱۰۰؍لوگوں کو فہرست جاری کی ہے اُس میں شاہین باغ کی بلقیس  کے ساتھ مودی کو بھی شامل کیا ہے۔ بلقیس کی تعریف کی گئی لیکن  مودی پرکڑی  تنقید کی گئی ہے۔
 کورونا وائرس کی طرح ایک اور وائرس ملک میں تیزی سے پھیل رہا ہے اس کا تعلق ذہنی وفکری اور نفسیاتی صحت سے ہے اس کے روگی عموماً مایوسی ، افسردگی ،بے چینی اور دوقطبی شخصیت کا شکار ہوتے ہیں۔ اس سے بھی انکار نہیں کیاجاسکتا کہ لاک ڈاؤن کے بعد عام لوگ بھی ا س سے متاثر ہوئے ہیں۔ انڈین کونسل آف میڈیکل ریسرچ کے مطابق ہندوستان میں ہر سات میں سے ایک آدمی نفسیاتی مرض میں مبتلا نظر آتا ہے جسے ڈپریشن کہتے ہیں ۔ سشانت سنگھ  کا علاج کرنے والے ماہرین انہیں ایسا ہی ایک مریض بتاتے ہیں۔   ان میںخود اعتمادی کی کمی ہوتی ہے ۔ ان کیفیات پر قابو پانے کے لئے انہیں ڈرگس کا سہارا لینا پڑتا ہے جو انہیں وقتی راحت تو دیتا ہے لیکن نشہ اترنے کے بعد ان کی حالت غیر ہوجاتی ہے اور بعض اوقات کچھ لوگ خودکشی جیسا انتہائی قدم اٹھانے پر مجبور ہوجاتے ہیں۔ ۱۴؍ جون کو سشانت سنگھ کی خودکشی اس ذیل میں آتی ہے۔ 
 سشانت کی خودکشی کا معاملہ اپنی موت آپ مرجاتا اگراس کے گھر والوں نے قتل کا شبہ نہ ظاہر کیا ہوتا، اس کے ساتھ رہنے والی گرل فرینڈ ریاچکرورتی پر کروڑوں کے مالی خرد بُرد کا الزام نہ عاید کیا ہوتا اور بہتی گنگا میں ہاتھ دھونے کے لئے سستی شہرت کی خواہاں کنگنا رناوت اس میں نہ کود پڑتی۔سشانت سنگھ کے گھر والوں نے پہلے تو افواہوں کی بنیادپر ممبئی پولیس کی تفتیش پر شک کیا۔ بہار میں الگ سے ایف آئی آر درج کی اور پھر سی بی آئی جانچ کا مطالبہ کرڈالا۔ ایسے میں سیاستداں کیسے چپ بیٹھتے۔ بہار میں ہونے والے الیکشن نے انہیں ایک اچھا موضوع مہیا کردیا تھا چنانچہ سشانت کو بہار کا بیٹا اور ’سشانت ہم تجھے بھولے ہیں نہ بھولنے دیں گے‘ کا نعرہ اور پوسٹر لگاکر سیاسی روٹیاں سینکنا شروع کردیں۔ سشانت کے گھر والوں کے مطالبے پر سپریم کورٹ نے تفتیش کی ذمہ داری سی بی آئی کے سپرد کی۔ مالی خرد برد کے معاملے میں انفوسمنٹ ڈائرکٹوریٹ ( ای ۔ ڈی) کھوج میں لگ گیا اور فلم انڈسٹری میں ڈرگس کے استعمال کی جستجو میں این سی بی لگ گئی۔  مرکز سے فلم انڈسٹری کے تعلقات کھٹے میٹھے رہے ہیں۔ دہلی دربار سے قربت والوں کی پذیرائی ہوتی ہے اور اختلاف رکھنے والوں پر گاج گرتے دیر نہیں لگتی۔ ایمرجنسی کے دور میں اندرا گاندھی نے کشور کمار کے گانوں پر پابندی لگادی تھی اوراختلاف رائے رکھنے والوںکو جیل میں ٹھونس دیا تھا۔ مودی کے دور میں انتقامی کارروائیوں میں شدت آئی ہے۔مودی کے اقتدار میں آنے کے بعد ملک میں بڑھتی عدم رواداری اور مذہبی تشدد کے خلاف صدر جمہوریہ اور نائب صدر جمہوریہ سے لے کر سابق امریکی صدر اوبامہ نے مودی کو مذہبی رواداری اور عدم تشدد کا درس دیا۔ بڑی تعداد میں ملک کے مشاہیر، مصنفین ، مورخین ، فنکاروں اور سائنسدانوں نے حکومت کے خلاف آواز بلند کی اور ایوارڈلوٹائے۔ انہیں ملک دشمن نہیں کہا گیا لیکن جب یہی بات شاہ رخ اور عامرخان نے کہی تو انہیں ملک دشمن اور پاکستانی ایجنٹ کہا گیا۔ سب سے بُرا حال عالمی شہرت یافتہ مصور ایم ایف حسین کا ہوا ان کی چند پینٹنگز پر انہیں اتنا ہراساں کیا گیا کہ ان میں جلاوطنی اختیارکرنی پڑی اور دیار غیرمیں انکی موت ہوگئی۔
  سی بی آئی کی تفتیش جاری ہے۔ ایمس کی پورسٹ مارٹم اورViscera رپورٹ میں زہر کے ذریعے قتل کی تردید کی  گئی ہے۔ اس لئے اب ایجنسی اس پر غور کرے گی کہ سشانت کو خودکشی پر مجبور تو نہیں کیا گیا؟ ای ڈی کو کروڑوں کی خرد برد کا کوئی ثبوت نہیں ملا ۔  این سی بی ڈرگس کے استعمال اور ٹریفکنگ کے الزام میں ۱۶؍ افراد کو گرفتار کیا ہے۔ ہماری دانست میں جب تک بہار الیکشن نہیں ہو جاتے سیاسی فائدے اٹھانے کی غرض سشانت معاملے کو طول دیا جائے گا

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK