بھارئی چارہ کا مفہوم ہے اپنے اُن ہموطنوں کی فکر کرنا جو ہمارے جیسے نہیں ہیں۔ اس لفظ کے معنی میں ہمدردی، غمگساری اور تعاون بھی شامل ہے۔ مضمون نگار نے چند مثالیں دے کر پوچھا ہے کیا یہی بھائی چارہ ہے؟
EPAPER
Updated: May 09, 2021, 10:24 AM IST | aakar Patel | Mumbai
بھارئی چارہ کا مفہوم ہے اپنے اُن ہموطنوں کی فکر کرنا جو ہمارے جیسے نہیں ہیں۔ اس لفظ کے معنی میں ہمدردی، غمگساری اور تعاون بھی شامل ہے۔ مضمون نگار نے چند مثالیں دے کر پوچھا ہے کیا یہی بھائی چارہ ہے؟
تمہید (پری ایمبل) آئین کا ابتدائی بیان ہے جس میں کہا گیا ہے کہ آئین کا مقصد کیا ہے اور قوانین کے ذریعہ کیا حاصل کرنا مقصود ہے۔ ہندوستان کا آئین کہتا ہے کہ بھارت کے عوام (نہ کہ حکومت) نے عزم کیا ہے کہ ہندوستان ایک جمہوری ملک ہوگا جو اپنے شہریوں کو سماجی انصاف، معاشی انصاف اور سیاسی انصاف کی ضمانت دے گا۔ ہم (ہندوستان کے شہری) اس بات کو یقینی بنائیں گے کہ ہمیں فکر و خیال کی آزادی، مذہب کی آزادی اور اظہار خیال کی آزادی حاصل رہے گی۔ ہمیں سماج میں مساوی حیثیت اور مواقع برابر حاصل رہیں گے۔ مگر افسوس کہ ہم نے ان تمام اوصاف کو فراموش کردیا جبکہ تاریخ میں اب تک کوئی وقت ایسا نہیں آیا جب ہمیں وہ آزادی حاصل ہو جس کی آئین میں ضمانت دی گئی ہے۔ آج اگر آئین کی پوری تمہید نہیں تو کم از کم اس کا آخری جملے کو پڑھنے اور ذہن نشین کرنے کی ضرورت ہے۔
اس جملے میں کہا گیا ہے کہ ملک کے عوام خود کو بھائی چارہ کی ڈور سے باندھیں گے جسے انگریزی میں Fraternityکہا جاتا ہے۔ سوال یہ ہے کہ بھارئی چارہ (فریٹرنٹی) کیا ہے۔ ہندی میں اسے بندھوتا کہتے ہیں۔ اس کا مطلب ہے اُن لوگوں کے ساتھ ہمدردانہ جذبات رکھنا جو ہمارے جیسے نہیں ہیں۔ یہ ایسا جذبہ ہے جسے بروئے کار لانے کیلئے ہمیں حکومت کی ضرورت نہیں ہے۔ ہندوستانی عوام برادری پر یقین رکھنے والے ہیں۔ ہم برادری ہی میں شادیاں کرتے ہیں۔ برادری کے لوگوں میں خود کو پاکر ہمیں اپنائیت کا احساس ہوتا ہے۔ ووٹنگ کرتے وقت بھی ہمارے ذہن میں جو باتیں ہوتی ہیں اُن میں برادری کا ایک زاویہ بھی شامل رہتا ہے۔ بھائی چارہ کا مطلب ہوتا ہے، جیسا کہ عرض کیا گیا، سماج کے اُن جیسے لوگوں تک پہنچنا اور اُن کی فکر کرنا جو ہمارے جیسے نہیں ہیں،خواہ وہ لوگ ہمارے فرقے یا برادری سے تعلق نہ رکھتے ہوں اور اُن کا معاشی پس منظر ویسا نہ ہو جیسا ہمارا ہے۔ غور فرمائیے کیا ہم اپنے ملک کے آئین کی تمہید کے اس جملے اور لفظ کو عمل میں لاتے ہیں، انہیں جیتے ہیں؟
اس سوال کا جواب نفی میں ہے۔ ہم بھائی چارہ کو کسی بھی زاویئے سے فروغ نہیں دے رہے ہیں۔ ہماری حالیہ تاریخ بتاتی ہے کہ ہم بھائی چارہ کو تو فروغ نہیں دیتے بلکہ اس کے برخلاف کرتے ہیں۔ لاک ڈاؤن کے نفاذ سے پہلے جب ملک میں کووڈ کے مریضوں کی تعداد ۱۰۰؍ سے زیادہ نہیں تھی اور کووڈ پروٹوکول جاری نہیں ہوا تھا، ایک فرقے کی مذہبی تقریب میں شامل لوگو ں کو ’’کورونا دہشت گرد‘‘ قرار دیا گیا مگر یہی لیبل اُس وقت نہیں لگایا گیا جب دوسرے فرقہ کی بہت بڑی بلکہ غیر معمولی دھارمک تقریب ہوئی جبکہ اس وقت کورونا کے روزانہ ایک لاکھ کیسیز سامنے آرہے تھے۔ اس تقریب کو ہدف تنقید نہیں بنایا گیا۔ کیا یہی ہے بھائی چارہ؟
ہمارے ملک میں ہر سال سیکڑوں اموات اُن لوگوں کی ہوتی ہے جو اپنے ہاتھوں سے انسانی فضلہ ٹھکانے لگاتے ہیں اور بیت الخلاء صاف کرتے ہیں۔ ان کارکنان میں اکثریت دلت خواتین کی ہے۔ حکومت نے صفائی کے اس طریقہ کو ممنوع قرار دیا ہے اس کے باوجود یہ جاری ہے۔ گندے پانی کی نکاسی کے راستوں (ڈرینیج) کی صفائی کرنے والوں میں اکثریت دلت مردوں کی ہے۔ اس دوران زہریلی گیس کی وجہ سے بہتوں کی موت واقع ہوجاتی ہے ۔ یہ کام بھی انسانوں کے ذریعہ نہیں ہونا چاہئے مگر کئی عدالیت احکام کے باوجود ہوتا ہے۔ آپ ہی بتائیے ہم میں سے کتنے لوگوں کو اس کا علم ہے اور اگر علم ہے تو فکر بھی ہے؟کیا یہی ہے بھائی چارہ؟
جس وقت میں یہ سطور لکھ رہا ہوں، حکومت نے اُن لوگوں کیلئے ویکسین کا انتظام کردیا ہے جو نجی اسپتالوں میں اس کا چارج ادا کرسکتے ہیں۔ ان اسپتالوں میں کوویکسین کے ایک ٹیکے کیلئے ۱۲۰۰؍ روپے ادا کرنے ہوتے ہیں۔ چھ ہفتوں کے بعد دوسرا ٹیکہ لگے گا چنانچہ مجموعی رقم ہوگی ۲۴۰۰؍ روپے۔ کسی کنبے میں پانچ افراد ہیں تو سب کی ٹیکہ کاری کیلئے ۱۲؍ ہزار روپے درکار ہوں گے۔ ملک میں کتنے ۵؍ نفری کنبے ہوں گے جو ۱۲؍ ہزار روپے ادا کرنے کی استطاعت رکھتے ہیں؟ اس لئے سوال پیدا ہوتا ہے کہ ملک کے غریب خاندان کیا کریں گے؟کہاں جائیں گے؟ مرکزی حکومت نے ریاستوں سے کہہ دیا ہے کہ وہ ٹیکہ کاری کی ذمہ داری لیں مگر تفویض ذمہ داری کے ساتھ انہیں نہ تو پیسے دیئے نہ ہی ٹیکے فراہم کئے۔ جو لوگ اس سے پہلے کے جمعہ کو عدالتی کارروائی کا مشاہدہ کررہے تھے وہ یہ دیکھ کر دنگ رہ گئے کہ سپریم کورٹ نے وہ سوال پوچھ لیا جس کی حکومت نے وضاحت نہیں کی تھی۔ سوال تھا: ’’آخر ہندوستانی عوام کووڈ سے بچنے کی الگ الگ قیمت کیوں ادا کررہے ہیں؟ کیا یہ مرکز کی ذمہ داری نہیں ہے؟‘‘ بے شک یہ مرکز کی ذمہ داری ہے مگر سماجی بھائی چارہ پر اس کا یقین نہیں ہے چنانچہ عالم یہ ہے کہ ملک میںجس کے پا س پیسہ ہے وہ ٹیکہ لگوالے گا ۔ ظاہر ہے کہ یہ مساوات نہیں ہے اور اسے تسلیم کیا جانا چاہئے۔ کیا یہی ہے بھائی چارہ؟
۲۰۱۴ء سے اب تک ۲۸؍ ہزار ’’ڈالر ملینئر‘‘ یعنی وہ جن کے پاس ۷ء۵؍ کروڑ روپے سے زیادہ پیسے ہیں) ہندوستان چھوڑ چکے ہیں۔ یہ حیرت کی بات نہیں ہے۔ ہم ایسے راستے پر چل پڑے ہیں جس پر خوش گمانی کے سایہ دار درخت نہیں ہیں۔ آج ہم ایسے قوانین پر ووٹ مانگ رہے ہیں جو مذہب کی بنیاد پر اپنے ہی لوگوں کا ناطقہ بند کرتے ہیں۔ ہم قدیم عمارتوں کو منہدم کرکے اُن پر مندر کی تعمیر کا جشن منا رہے ہیں۔ ہمارے پیش نظر دہلی کی تعمیر نو پر ۲۰؍ ہزار کروڑ خرچ کرنے کا منصوبہ ہے جس میں وزیر اعظم کی رہائش گاہ ہوگی جبکہ ملک کے کروڑوں غریب خاندانوں کے پاس اپنے بچوں کو کووڈ سے بچانے کیلئے ٹیکہ لگوانے کے پیسے نہیں ہیں۔
سچائی یہ ہے کہ ہم غیر معمولی نوعیت کے قومی بحران سے دوچار ہیں۔ آزاد ہندوستان کی تاریخ میں ہم کبھی کسی وائرس کی وجہ سے اتنے بڑے بحران کا شکار نہیںہوئے جس نے ہم سب پر اپنا سایہ دراز کردیا ہے اور کئی ایسے لوگ بھی نہیں بچ پائے جنہیں اسپتال میں بیڈ مل گیا تھا، آکسیجن مل گئی تھی، وینٹی لیٹر مل گیا تھا۔ بنگلور میں میرے ایک رفیق کار کو، جس کی ملازمت چھن گئی تھی، ۲۲؍ ہزار روپے یومیہ پر اسپتال میں بستر ملا۔ اس کے باوجود وہ خوش قسمت قرار پایا کہ اُسے بیڈ مل گیا جبکہ بیشتر ہندوستانی اس سے محروم رہے، اُنہوں نے اپنے گھروں میں آخری سانس لی۔ ظاہر ہے کہ یہ بھائی چارہ نہیں ہے۔ بھائی چارہ تو دور، یہ اس لفظ کی توہین ہے۔ افسوس اس بات کا بھی ہے کہ ہمیں نہ تو بھائی چارہ کا احساس ہے نہ اس کے ختم ہوجانے کا۔ آئین بھائی چارہ پر زور دیتا ہے مگرہم سمجھتے کہاں ہیں۔n