شریعت کا امتیاز یہی ہے کہ ہر شعبۂ زندگی میں اس کےقوانین تقاضۂ عدل کو پوراکرتے ہیں

Updated: September 11, 2021, 11:17 AM IST | Maulana Khalid Saifulah Rahmani

اسلامی قانون کا اصل موضوع انسانی فطرت ہے نہ کہ اسباب و وسائل ، وہ انسان کی فطری خواہشات اور جذبات کنٹرول کرتا ہے اور اس کی رہنمائی کرتا ہے ، وہ کہتا ہے کہ طاقت کا استعمال ظلم کو دور کرنے کیلئے کرو ، نہ کہ خود ظلم کرنے کیلئے۔

Picture.Picture:INN
اسلام کیا ہے، یہ بندگان خدا سے کیا چاہتا ہے، اس چیز کا سمجھنا خود مسلمانوں کے لئے ازحد ضروری ہے۔۔ تصویر: آئی این این

ماں باپ اپنے بچوں کی فطرت اور ان کی ضرورتوں سے سب سے زیادہ واقف ہوتے ہیں اور شیر خوار بچوں کے اشاروں کو سمجھنے میں بھی انہیں مشکل نہیں ہوتی۔ یہ تو خیر انسان ہیں، جانور اور حیوانات، جو گویائی سے بھی محروم ہیں اور جن کو اشارہ کی بھی زبان نہیں آتی، ان کے مالکان اور پرورش کرنے والے بھی ان کی عادات و ضروریات سے بخوبی واقف ہوتے ہیں اور اسی لحاظ سے ان کے رہنے سہنے اور کھانے پینے کا انتظام کرتے ہیں۔  ظاہر ہے کہ کائنات کا خالق و مالک اس بستی میں بسنے والی تمام مخلوقات اور کائنات کے حاصل ’’حضرت انسان ‘‘ کے مصالح و مفاسد، ضروریات و  جذبات اور عادات و اطوار سے اس سے زیادہ واقف ہوگا؛ اس لئے خود خالق کائنات، انسان کے لئے جتنے بہتر اُصولِ زندگی اور جتنا مناسب قانونِ حیات وضع کر سکتا ہے، یقیناً کوئی اور طاقت نہیں کر سکتی۔ نظامِ زندگی کو مرتب کرنے کے لئے علم کی ضرورت ہے اور خدا سے بڑھ کر کوئی علیم نہیں، اور اس کیلئے قوتِ فیصلہ اور دانائی مطلوب ہے اور اس سے بڑھ کر کوئی حکیم نہیں۔ اسی لئے قرآن مجید نے فرمایا کہ فیصلہ کرنے کا اختیار صرف اسی کو ہے : ’’ اَلا لَہٗ الْحُکْمُ‘‘ ( انعام: ۶۲)
اللہ تعالیٰ نے جس طرح دُنیا میں انسان کے کھانے پینے، لباس و پوشاک اور دیگر ضروریات کا نظم کیا ہے، اسی طرح اس نے انسان کو اپنے نظامِ زندگی کے بارے میں بھی اندھیرے میں نہیں رکھا؛ کیوںکہ ایک شخص یا چند اشخاص کا ایک گروہ پوری انسانیت کے جذبات، ضروریات اور فطری تقاضوں سے آگاہ نہیں ہوسکتا، اور اس سے اس بات کی بھی اُمید نہیں کی جاسکتی کہ مختلف انسانی طبقات میں مفادات کا جو ٹکراؤ ہے اور جس سے بحیثیت ِانسان خود اس کے مفادات بھی متعلق ہیں، وہ ان کے درمیان عدل اور انصاف سے کام لے سکے گا، اسی لئے خدا کے  ’’رب ‘‘ اور ’’ رحمٰن  و رحیم ‘‘ ہونے کا تقاضا تھا کہ وہ انسان کو زندگی گزارنے اور جینے اور مرنے کا طریقہ بھی بتائے ۔ 
اسی طریقہ کی رہنمائی کے لئے ہر دور میں اللہ کے نبی اور رسول آتے رہے۔ حضرت آدم علیہ السلام جہاں پہلے انسان تھے، وہیں انسانوں کے بیچ خدا کے پہلے پیغمبر بھی تھے، یہ سلسلہ آخری پیغمبر جناب محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر مکمل ہوگیا،  اللہ تعالیٰ کی طرف سے انسان کے لئے جو قانون بھیجا جاتارہا ، اسی کو ’’ شریعت ‘‘ کہتے ہیں، انسان کا ابتدائی دور چوں کہ علمی اور تمدنی ناپختگی کا تھا؛ اس لئے اللہ تعالیٰ اسی زمانے کے احوال کے لحاظ سے احکام دیتے رہے، پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم اس عہد میں تشریف لائے، جب انسان اپنے تہذیبی، تمدنی اور علمی کمال و پختگی کے مرحلہ میں قدم رکھ چکا تھا؛ اس لئے آپ کو وہ احکام دیئے گئے، جو قیامت تک باقی رہیں گے، جیسے ایک انسان کے جوان ہونے تک جسم میں بڑھوتری جاری رہتی ہے اور سال ڈیڑھ سال پر اس کے کپڑے تنگ ہونے لگتے ہیں؛ لیکن جب آدمی پوری طرح جوان ہو جائے تو اب جسم کی افزائش تھم جاتی ہے اور اس وقت وہ جو بھی کپڑے سلوائے، آئندہ چھوٹے نہیں پڑتے۔  اسی طرح شریعت ِمحمدی اس وقت دُنیا میں آئی، جب انسان کی صلاحیت اپنے آخری مرحلہ پر آگئی، اسی لئے یہ شریعت ہمیشہ کے لئے ہے اور کبھی انسان اس میں تنگ دامانی کا احساس نہیں کرے گا، قرآن کی زبان میں اسی کا نام ’’اکمالِ دین‘‘ اور ’’ اتمام نعمت ‘‘ ہے۔ ( المائدۃ: ۳)
یہی خدا کا بھیجا ہوا نظامِ حیات ہے، جو ’’شریعت ِالہامی ‘‘ یا  ’’ اسلامی قانون ‘‘ کہلاتا ہے ، یہ قانون فلاسفہ ٔ یونان کے افکار کی طرح محض ’’نظریہ‘‘ نہیں، جس کا خواب دیکھا جاتا ہے اور اس کی تعبیر کبھی دیکھنے میں نہ آئے، اور نہ یہ اشتراکی نظامِ زندگی کی طرح کوئی ایسا قانون ہے کہ ستّر سال کی معمولی سی مدت اسے بے نام و نشان کر دے؛ بلکہ یہ ایک ایسا متوازن ، معتدل اور فطرتِ انسانی سے ہم آہنگ نظام ہے، جس نے کم و بیش ایک ہزار سال ایشیاء، افریقہ اوریورپ کے بڑے حصہ پر حکمرانی کی ہے، مختلف تہذیبوں اور سماجی اکائیوں کا سامنا کیا ہے اور نہایت ہی خوبی کے ساتھ ہر عہد کے مسائل کو حل کیا ہے۔ دُنیا میں جب بھی اس قانون کی آزمائش کی گئی، اس کی افادیت، قانونِ فطرت سے مطابقت اور امن و سلامتی پیدا کرنے کی صلاحیت کا اعتراف کیا گیا ہے۔ بدقسمتی سے خلافت ِعثمانیہ، ترکی کے سقوط (۱۹۲۴ء ) کے بعد سے اسلام کی حکمرانی کا دائرہ مساجد اور زیادہ سے زیادہ سماجی زندگی کے کچھ مسائل تک محدود کر دیا گیا؛ لیکن آج بھی دُنیا کے جن ملکوں میں اسلامی قانون کے اطلاق کو وسعت دی گئی ہے، وہاں لوگ اس کی افادیت کا احساس کر رہے ہیں اور امن و سلامتی کی ٹھنڈی چھاؤں یعنی اسلام کی برکت  ان کو حاصل ہے۔ 
اسی احساس نے گزشتہ چند برسوں میں خاص طور پر ایشیاء وافریقہ میں کروٹ لی ہے اور بعض ملکوں میں اسلامی قوانین کے نفاذ کے لئے رائے عامہ کا اتنا شدید دباؤ ہوا، جسے نظر انداز کرنا ممکن نہیں تھا، وہاں بتدریج ان قوانین کو نافذ کرنے کی کوشش کی گئی۔
حقیقت یہ ہے کہ اسلامی شریعت کا اصل امتیاز دوباتیں ہیں: عدل اور اعتدال۔ عدل سے مراد یہ ہے کہ ہر آدمی کی ذمہ داری اس کی صلاحیت کے لحاظ سے متعین کی جائے، جیسے ملک کا دفاع یا امن وامان کا قیام۔ اس طرح کی ذمہ داریاں مردوں سے متعلق ہوں گی؛ کیوں کہ وہی اس کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ اس کے برخلاف، اُمورِ خانہ داری کی انجام دہی اور بچوں کی پرورش عورتوں کے ذمہ رہے گی؛ کیوں کہ وہ ان کاموں کو زیادہ بہتر طور پر انجام دے سکتی ہیں۔  اعتدال سے مراد یہ ہے کہ حقوق وفرائض کی تعیین میں افراط و تفریط نہ ہو جائے، جیسے یہی خواتین کے حقوق کا مسئلہ ہے، بعض قوموں نے عورتوں کو اس درجہ گرایا کہ ان کو انسانیت کی آخری صف میں بھی جگہ نہیں دی اور بعض نے اتنا اونچا اٹھایا کہ جن ذمہ داریوں کا بوجھ اُٹھانے کی صلاحیت ان میں نہیں تھی، وہ ذمہ داریاں بھی ان سے متعلق کردیں، یہی حال مزدور طبقہ کے معاملہ میں ہوا ، کچھ لوگوں نے مزدوروں کو سرمایہ داروں کا زرخرید غلام بنا دیا اور کچھ لوگوں نے کہا کہ حکمرانی مزدوروں ہی کا حق ہے، اس افراط و تفریط نے ہمیشہ سماج کو نقصان پہنچایا ہے۔  شریعت ِاسلامی کا اصل امتیاز یہی ہے کہ ہر شعبۂ زندگی میں اس کے قوانین تقاضۂ عدل کو پورا کرتے ہیں اور افراط و تفریط اور بے اعتدالی سے پاک ہیں، خود حدود و قصاص کے قوانین، جو جرائم اور سزاؤں سے متعلق ہیں ، کو بہ نظر انصاف دیکھا جائے تو یہ اعتراف کرنا پڑے گا کہ نہایت متوازن اور قانونِ فطرت سے ہم آہنگ ہیں ۔ 
کہا جاتا ہے کہ دنیا کتنے ہی معاشی، سماجی اور سیاسی تغیرات سے گزر چکی ہے، جو انسان بیل گاڑیوں پر سفر کرتا تھا، اب ہوا کے دوش پر اُڑتا ہے اور سمندر کی تہوں میں غواصی کرتا ہے، ایسے فرسودہ عہد کے قوانین اس ترقی یافتہ اور متمدن عہد کے لئے کیوں کر کفایت کر سکتے ہیں؟ لیکن یہ خیال محض غلط فہمی پر مبنی ہے، دراصل انسان سے دو چیزیں متعلق ہیں، ایک: اس کی فطرت، دوسرے: وہ وسائل و ذرائع، جو اس کے چاروں طرف بکھرے ہوئے ہیں۔ غور کیا جائے تو جو کچھ تبدیلیاں نظر آتی ہیں، ان سب کا تعلق اسباب اور وسائل کی دنیا سے ہے، انسان کی فطرت اور اس کے اندرون میں کوئی تبدیلی نہیں، پکوان کے طریقے ضرور بدل گئے ہیں، کھانے پینے کا ڈھنگ ضرور بدلا ہے؛ لیکن بھوک اور پیاس جیسے پہلے ہوتی تھی، ویسے اب بھی ہے، انسان نے تلوار اور تیر کی جگہ ایٹم بم اور میزائل بنا لیا ہے؛ لیکن اس کے پس پردہ جو جذبۂ انتقام ومدافعت پہلے کار فرما تھا، اب بھی ہے، یہی حال زندگی کے دیگر تمام شعبوں میں ہے۔
اسلامی قانون کا اصل موضوع انسانی فطرت ہے، نہ کہ اسباب و وسائل، وہ انسان کی فطری خواہشات اور جذبات کو کنٹرول کرتا ہے اور اس کی رہنمائی کرتا ہے، وہ کہتا ہے کہ طاقت کا استعمال ظلم کو دور کرنے کے لئے کرو ، نہ کہ خود ظلم کرنے کے لئے، وہ کہتا ہے کہ دولت غریبوں کے گھر چراغ روشن کرنے پر صرف کرو، نہ کہ اپنی بڑائی کے اظہار کے لئے، وہ چاہتا ہے کہ انسان اپنی ذہنی اور فکری قوت انسانیت کی فلاح و بہود کیلئے خرچ کرے ، نہ کہ  ہلاکت خیز وسائل کی ایجاد میں، وہ چاہتا ہے کہ ذرائع ابلاغ کا استعمال سچی حقیقتوں کے اظہار اور سچائی کی مدد کیلئے ہو، نہ کہ جھوٹے پروپیگنڈے اور سچائی کو دبانے کے لئے؛ اس لئے جوں جوں وسائل و اسباب کی دُنیا میں ترقی ہوتی جائے گی، اسلامی قانون کی اہمیت اور ضرورت بھی اسی نسبت سے بڑھتی جائے گی، یہی وجہ کہ آج دنیا کا کوئی قانون نہیں ، جس نے اسلام سے خوشہ چینی نہ کی ہو ، خاص کر سماجی قانون میں تو اسلامی قانون سے اتنا فائدہ اُٹھایا گیا ہے کہ اس کا شمار نہیں، اور یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ جہاں کہیں اور جس قدر اسلامی شریعت سے اعراض اور گریز کا راستہ اختیار کیا گیا ، وہاں اسی قدر لوگ مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں ۔ 
اس لئے اسلامی شریعت ایک رحمت ہے ، نہ کہ زحمت، اس سے نہ کسی کو خطرہ ہے اور نہ اس پر دُنیا کو اندیشہ میں مبتلا ہونے کی ضرورت، اسلام سراپا رحمت اورامن و سلامتی ہے، مسلمانوں کے لئے بھی، مسلم ممالک کی غیر مسلم اقلیتوں کے لئے بھی اوران کے پڑوسیوں کے لئے بھی ، خدا کرے کہ کچھ مسلم ممالک اس بات کے لئے تیار ہوں کہ وہ اپنی زمین پر صرف خدا کی رضا کے لئے قانونِ شریعت کو اس کی تمام وسعتوں کے ساتھ، مصلحت اور حکمت کی رعایت کرتے ہوئے نافذ کریں، اگر واقعی انہوں نے ایسا کرلیا  تو یہ ایک ایسا تجربہ ہوگا، جس سے دنیا سبق لے گی اور بہت سی زبانیں جو محض عناد اور حسد سے کھلتی ہیں، گنگ ہوجائیں گی، ان کے پاس مخالفت کا جواز یا عقلی استدلال نہیں ہوگا 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK