Inquilab Logo Happiest Places to Work

اے آئی کے اثرات کو بڑھا چڑھا کر پیش کیا جا رہا ہے : رگھورام راجن

Updated: March 15, 2026, 5:14 PM IST | New Delhi

آرٹیفیشل انٹیلی جنس (اے آئی) کے اثرات کو بڑھا چڑھا کر دکھایا جا رہا ہے اور اگلے چند برسوں میں وہائٹ کالر نوکریاں ختم نہیں ہونے والی ہیں۔ یہ بیان ہندوستانی ریزرو بینک کے سابق گورنر رگھورام راجن نے دیا ہے۔

Raghuram Rajan.Photo:INN
رگھورام راجن۔ تصویر:آئی این این

آرٹیفیشل انٹیلی جنس (اے آئی) کے اثرات کو بڑھا چڑھا کر دکھایا جا رہا ہے اور اگلے چند برسوں میں وہائٹ کالر نوکریاں ختم نہیں ہونے والی ہیں۔ یہ بیان  ہندوستانی ریزرو بینک کے سابق گورنر رگھورام راجن نے دیا ہے۔پروجیکٹ سنڈیکیٹ میں شائع ہونے والے ایک حالیہ مضمون میں انہوں نے لکھا کہ ٹیکنالوجی کو اپنانے کی رفتار، مارکیٹ میں مقابلہ اور حکومتی پالیسیاں یہ طے کریں گی کہ یہ تبدیلی کس طرح سامنے آئے گی۔
راجن نے مزید کہاکہ ’’نئی ٹیکنالوجی کو مختلف صنعتوں میں پھیلنے میں عام طور پر پیش گوئیوں سے زیادہ وقت لگتا ہے۔‘‘ انہوں نے کہا کہ ’’سافٹ ویئر جیسے کچھ شعبوں کو چھوڑ کر، مختلف چیلنجز اور تبدیلی کے خلاف مزاحمت اکثر نئی ٹیکنالوجی کو اپنانے کے عمل کو سست کر دیتی ہے۔‘‘ اپنی بات کو واضح کرنے کے لیے، راجن نے خودکار ٹیلی فون ایکسچینجز کی مثال دی، جنہوں نے انسانی آپریٹرز کی جگہ مکمل طور پر لینے میں دہائیاں لگیں۔ انہوں نے دلیل دی کہ کئی صنعتوں میں اے آئی کے وسیع استعمال میں بھی اسی طرح کی تاخیر ہو سکتی ہے۔
راجن نے بعد میں لنکڈ ان پر ایک پوسٹ میں اپنے خیالات شیئر کیے، جہاں انہوں نے کہا کہ اے آئی سے متعلق کئی پیش گوئیاں معاشرت اور سیاست کے کردار کو نظر انداز کرتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ’’عوامی رائے اور سیاسی ردعمل بھی یہ طے کریں گے کہ اے آئی نوکریوں اور وسیع معیشت پر کس طرح اثر انداز ہوتا ہے۔‘‘ اپنے تجزیے میں، راجن نے اے آئی پر مبنی معیشت کے لیے کئی ممکنہ راستے بتائے۔

یہ بھی پڑھئے:کیا ہے ’آسکر‘ کا اصل نام؟ فاتحین ٹرافی فروخت نہیں کر سکتے

اپنے آؤٹ لک میں راجن نے کہا کہ اینتھروپک اور میٹا پلیٹ فارمز جیسی کمپنیوں کے تیار کردہ کچھ طاقتور اے آئی پلیٹ فارمز مضبوط تکنیکی برتری حاصل کر سکتے ہیں اور یہ کمپنیاں اپنے اے آئی سسٹمز پر منحصر کاروباروں سے زیادہ قیمتیں وصول کر سکتی ہیں۔اگر ایسا ہوتا ہے، تو مختلف صنعتوں کی کمپنیاں کئی کاموں کو خودکار بنانے اور وہائٹ کالر ملازمین کی تعداد کم کرنے کے لیے اے آئی کا استعمال کر سکتی ہیں۔ ایسے میں، جن ملازمین کی نوکریاں جائیں گی، وہ ریٹیل یا ہوٹل و ضیافت جیسے سروس شعبوں میں جا سکتے ہیں، جس سے مقابلہ بڑھ سکتا ہے اور ان شعبوں میں تنخواہ کم ہو سکتی ہے۔

یہ بھی پڑھئے:میدویدیف نے الکاراز کو ہرا دیا: فائنل میں سنر سے ٹکراؤ

راجن نے ایک اور امکان کا بھی ذکر کیا، جس میں کئی اے آئی سسٹمز مارکیٹ میں مقابلہ کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ’’ایسے منظرنامے میں، پیداوار میں اضافہ چند کمپنیوں تک محدود رہنے کے بجائے معیشت میں وسیع پیمانے پر پھیل سکتا ہے۔‘‘ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK