ذیبی دلہن بن کر آئی تو ہماری حویلی میں بہار آگئی۔ اُسکے پیار نے ہم سب کو اس کا گرویدہ بنا لیا۔ تمہاری پھوپھی شہر میں بیاہی گئی تھیں۔ ذیبی نے بیٹی بن کر اس کی کمی پوری کر دی۔ تمہارے دادا کمزور ہو چکے تھے اسلئے گاؤں والوں حیدر کو سرپنچ بنا کر ساری ذمہ داریاں سونپ دیں۔
ڈاکٹر صبا مریضہ کو انجکشن دے رہی تھی کہ اچانک اُسے دوسری مریضہ کی چیخیں سنائی دیں۔ وہ چلّا رہی تھی ’’چھوڑو چھوڑو مجھے۔ مجھے جانے دو۔ وہ مجھے بُلار ہے ہیں۔‘‘ انجکشن دے کر صبا فوراً مڑی تو دیکھا کہ نرس ایک مریضہ کو پکڑ کر دوائی پلانے کی ناکام کوشش کر رہی ہے۔ صبا فوراً اس مریضہ کے پاس پہنچی۔ بڑے پیار سے اُسے بیڈ پر بٹھا کر کہا، ’’ہاں ہاں، ہم ضرور چلیں گے۔ مَیں آپ کو لے چلوں گی۔ پہلے آپ یہ دوائی کھا لیں، انجکشن لے لیں۔ پھر چلتے ہیں۔‘‘ مریضہ خوش ہو کر بیڈ پر بیٹھ گئی ’’بیٹا! تم کتنی اچھی ہو۔ کہاں چلی گئی تھی مجھے چھوڑ کر اب میری یاد آئی ہے۔‘‘ پھر اس نے نرس کے ہاتھ سے دوائی پی لی۔ ڈاکٹر صبا نے اُسے انجکشن دیا۔ اچانک مریضہ بستر سے اُٹھی ڈاکٹر صبا کو گلے لگا کر رونے لگی اور کہتی جا رہی تھی ’’مجھے چھوڑ کر مت جاؤ۔ بٹیا مجھے چھوڑ کر مت جاؤ!‘‘ اس کی آنکھوں سے آنسوؤں کے قطرے ٹپکنے لگے۔
درد کی ایک ٹیس سی ڈاکٹر صبا کے دل میں اُٹھی۔ اس کی ماں بھی تو اسے گلے لگا کر کہتی تھی ’’کہاں چلی گئی تھی؟ آ میرے پاس بیٹھ۔ وہ دیکھ، وہ مجھے بُلا رہے ہیں۔ تو مجھے اُن کے پاس لے چل۔ مجھے چھوڑ کر نہ جا!‘‘ مگر ماں تو خود اسے چھوڑ کر چلی گئی۔ کاش! مَیں اس کے درد کا مداوا کر پاتی۔ ماضی کے روح فرسا لمحے صبا کے دل و دماغ پر یلغار کرنے لگے۔
’’بیٹا اسکول سے آئی ہو۔ چلو کچھ کھا لو پھر اپنا ہوم ورک کر لو۔‘‘ دادی کی شفقت بھری آواز صبا کے گانوں میں شکر گھول رہی تھی۔ ’’ارے ارے کیا ہوا؟ یہ بستہ پھینک کر منہ چھپا کر کیوں بیٹھی ہو میری گڑیا رانی؟ کیا کسی سے لڑائی ہوئی ہے؟ کیا استاد نے ڈانٹ پلائی ہے؟ کیا ہوا میری صبو رانی کو منہ کے پھلا کر کیوں بیٹھی ہو۔‘‘ کہتے ہوئے دادی نے بڑھ کر پیار سے اُسے گلے لگا کر پوچھا۔ ’’دادی! مَیں کل سے اسکول نہیں جاؤں گی۔‘‘ کیوں بھئی کون سا پہاڑ ٹوٹ پڑا ہے ہماری بیٹا پر؟‘‘
صبا نے چڑ کر جواب دیا ’’دادی! لڑکیاں مجھے چھیڑتی ہیں۔ یہ کہہ کر ستاتی ہیں کہ تمہاری ماں پاگل ہے۔ دادی مَیں تنگ آگئی ہوں۔ آپ مجھے بتائیں کیا سچ مچ میری ماں پاگل ہے؟ وہ آپ کے ہاتھ سے کھانے کے برتن چھین کر کیوں پھینکتی ہے؟ کھانا کیوں نہیں کھاتی؟ آپ تو کتنا پیار کرتی ہیں مگر آپ کی بات بھی مانتی نہیں ہے۔ رجّی خالہ تو دن بھر اُن کے ساتھ رہتی ہیں پھر آپ ماں کو کمرے میں بند کرکے کیوں رکھتی ہیں۔ آبا کے پاس تو بگھی بھی ہے پھر ابا جان ان کو وہاں کیوں نہیں لے جاتے جہاں وہ جانا چاہتی ہیں؟ دادی، ماں کو کون بلا رہا ہے؟‘‘
’’او میری چھوٹی بٹیا! کتنے سارے سوالات کر ڈالے تم نے۔ ابھی تم بہت چھوٹی ہو بڑی ہو جاؤ گی تو سب سمجھ جاؤ گی۔ اب چُپ چاپ کھانا کھا لو۔‘‘ دادی نے اس کے بالوں کو پیار سے سہلاتے ہوئے جواب دیا۔
’’دادی میں چھوٹی کہاں ہوں۔ پرائمری میں نہیں سیکنڈری میں آگئی ہوں۔ آپ کو معلوم ہے اسکول کے وقفے میں، میں لائبریری میں جا کر جنرل نالج کی کتنی کتابیں پڑھتی ہوں۔ آج تو آپ کو مجھے بتانا ہی ہوگا کہ میری ممی کو کیا ہوا ہے۔ ورنہ مَیں کھانا نہیں کھاؤں گی، نہیں کھاؤں گی.... نہیں کھاؤں گی....‘‘ صبا نے ٹھنک کر کہا۔ ’’دادی! ابّا ہمیشہ کارندوں میں گھرے رہتے ہیں۔ آپ اُن سے کہئے کہ ممی کو وہاں لے جائیں جہاں وہ جانا چاہتی ہیں۔‘‘ صبا نے دادی سے سفارش کی۔
دادی نے صبا کو گود میں لے کر آہ بھرتے ہوئے جواب دیا ’’میری بیٹی! کوئی بھی ان کو وہاں نہیں لے جاسکتا جہاں وہ جانا چاہتی ہیں۔‘‘
’’دادی آج مَیں آپ سے یہ جان کر رہوں گی کہ وہ کہاں جانا چاہتی ہیں۔ بتائیں نا دادی میری پیاری دادی!‘‘ صبا نے یہ کہہ کر دادی کے ہاتھوں کو پیار سے پکڑ لیا۔ ’’اچھا.... اچھا سن! آج مَیں تمہیں تفصیل سے یہ بتاؤں گی کہ ذیبی، پاگل نہیں ہے۔‘‘ دادی نے اُسے گود میں بٹھا کر کہنا شروع کیا:
صبا تمہارے دادا گاؤں کے سرپنچ تھے اور زمین کے معاملات میں ان کو اکثر شہر جانا پڑتا تھا، اور وکیلوں کے چکر لگانے پڑتے تھے۔ ہمارے گاؤں میں کوئی وکیل نہیں تھا۔ تمہارے ابّا حیدر اس وقت اسکول میں تعلیم حاصل کر رہے تھے وہ بہت ذہین تھے۔ اُس وقت تمہارے دادا نے تہیہ کیا کہ وہ حیدر کو پڑھا لکھا کر وکیل بنائیں گے۔ حیدر نے اسکول کا امتحان نمایاں نمبروں سے پاس کیا تو انہوں نے حیدر سے اپنی خواہش کا اظہار کیا۔ حیدر بہت فرمانبردار اولاد تھی ہماری اور آج بھی ویسے ہی ہیں۔ اسی لئے وہ وکالت کی تعلیم حاصل کرنے کے لئے شہر روانہ ہوگئے۔ وکالت کی تعلیم کے دوران ان کی ملاقات تمہاری ماں ذیبی سے ہوئی۔ ذیبی مالدار گھرانے سے تعلق رکھتی تھی۔ اس کے والدین وکیل تھے اور اُس پر جان چھڑکتے تھے۔ ذیبی نہ صرف حسین تھی بلکہ بہت منکسر المزاج ذہین لڑکی تھی۔ حیدر اور ذیبی کی دوستی وکالت کی تعلیم کے دوران ہوئی۔ مزاج کی یکسانیت آہستہ آہستہ دونوں کو ایک دوسرے کے قریب لے آئی اور ان کی دوستی محبت میں تبدیل ہوگئی۔ وکالت کی تعلیم مکمل ہونے کے بعد ہم دونوں خاندانوں نے اُن کی محبت کو شرعی حیثیت دے کر اُن دونوں کی شادی کروا دی۔ ذیبی دلہن بن کر آئی تو ہماری حویلی میں بہار آگئی۔ اُس کے پیار نے ہم سب کو اس کا گرویدہ بنا لیا۔ تمہاری پھوپھی شہر میں بیاہی گئی تھیں۔ ذیبی نے بیٹی بن کر اس کی کمی پوری کر دی۔ تمہارے دادا کمزور ہو چکے تھے اس لئے گاؤں والوں حیدر کو سرپنچ بنا کر ساری ذمہ داریاں سونپ دیں۔ تم تو دیکھ رہی ہو کہ صبح سے شام تک کس طرح کاموں میں مصروف رہتے ہیں۔
وہ مطمئن تھے کیونکہ ذیبی نے گھریلو زندگی کی ساری ذمہ داریوں کو خوش اسلوبی سے اپنے سر لے لیا تھا۔ تمہارے دادا جان کے انتقال سے مَیں ٹوٹ گئی تھی۔ مگر ذیبی کی چاہتوں نے مجھ میں جینے کا حوصلہ پیدا کیا۔ حیدر اور ذیبی کی جوڑی تو چاند سورج کی جوڑی تھی۔ دونوں ایک دوسرے پر جان چھڑکتے تھے۔ پھر ایک دن دونوں کی زندگی مکمل کرنے تم آگئی میری لاڈلی۔ ہم سب کی خوشیوں کا کوئی ٹھکانا نہ رہا۔
وہ دن تو آج بھی مجھے یاد ہے۔ تمہارے عقیقے کی تقریب تھی۔ پوری حویلی بقعۂ نور بنی ہوئی تھی۔ گاؤں کے لوگوں نے حویلی کو پھولوں سے سجا دیا تھا۔
انواع و اقسام کے کھانوں سے مہمانوں کی تواضع کی جا رہی تھی۔ ذیبی کا حسن تو ممتا کے نور سے اور نکھر آیا تھا۔ مَیں اور حیدر مہمانوں کے استقبال میں لگے ہوئے تھے اور تمہارے نانا نانی کی آمد کے منتظر بھی تھے۔ وہ دونوں اس تقریب میں شرکت کیلئے شہر سے روانہ ہوچکے تھے۔ ذیبی گاؤں کی سہیلیوں کے درمیان گھری ہوئی خوشی سے پھولی نہ سمار ہی تھی مگر کاتب تقدیر کے نوشتے کو کون جان سکتا ہے۔ شہر سے مجھے اور حیدر کے کانوں میں سیسہ انڈیلنے والی خبر ہرکارے کے ذریعہ ہم تک پہنچی کہ ذیبی کے والدین کی کار شہر سے گاؤں آتے ہوئے بہت برے حادثے کا شکار ہوگئی اور وہ دونوں موقع واردات پر ہی فوت ہوگئے۔ ہم دونوں پر سکتہ طاری ہوگیا مگر ہمت سے کام لے کر ہم نے اس خبر کو راز ہی رکھا۔ تقریب کی گہماگہمی ختم ہوئی۔ مہمانوں کو رخصت کرکے حیدر نے اور مَیں نے یہ تہیہ کیا کہ ذیبی کو نہ بتاتے ہوئے تم کو اور ذیبی کو نانا نانی سے ملانے شہر چلا جائے۔ ذیبی نے تو خواب میں بھی اس حادثے کا تصور نہیں کیا تھا۔ ہاں البتہ ماں باپ کے نہ آنے کا تردّد ضرور تھا۔ بہرحال اس راز کو سینے میں دبائے ہم ذیبی کو لے کر شہر روانہ ہوگئے۔ ذیبی کا گھر لوگوں سے بھرا ہوا تھا۔ تم میری گود میں تھیں۔ ذیبی حیران پریشان گھر کے اندر دوڑی چلی گئی۔ اس سے پہلے کہ حیدر لپکیں ماں باپ دونوں کی کفن میں لپٹی میتوں کو دیکھ کر ذیبی ایک چیخ مار، بیہوش ہو کر گر پڑی۔ اُسے ہوش میں لانے کی کوشش کی گئی۔ شہر کے مشہور ڈاکٹر بلائے گئے مگر اسے ہوش میں لانے کی کوئی تدبیر کارگر نہ ہوئی۔ مجبور ہو کر تدفین کر دی گئی۔ ڈاکٹروں کی انتھک کوششوں سے چند دنوں بعد جب اسے ہوش آیا تو وہ چلانے لگی ’’دیکھو وہ مجھے بلا رہے ہیں۔ چھوڑو، چھوڑو مجھے جانے دو۔‘‘ لاکھ علاج کے بعد بھی اس کی وہ ہذیانی کیفیت ختم نہیں ہوئی ہے۔ وہ لمحہ اس کی زندگی کی اذیت بن گیا۔ وہ اسی لمحے میں جی رہی ہے۔ وہ پاگل نہیں ہے احساس کے مظلوم لمحوں کا شکار ہے۔
دادی نے ایک آہ بھری۔ اُن کی آنکھیں ڈبڈبا رہی تھیں۔ ڈاکٹر صبا کی آنکھوں سے بہتے ہوئے آنسو اس کے گالوں کو بھگو رہے تھے۔ دادی نے صبا کے گالوں سے آنسو پونچھ کر اسے گلے لگا کر کہا ’’اب ہماری بٹیا رانی پڑھ لکھ کر بڑی ڈاکٹر بنے گی اور ماں کا علاج کرے گی ہے نا میری لاڈو؟‘‘ صبا دادی کی گود میں سمٹ کر سکیاں بھرتے ہوئے بول پڑی ’’جی ہاں دادی! مَیں ڈاکٹر بن کر ماں کا علاج کروں گی اور ان کو لمحوں کی اذیت سے باہر نکالوں گی۔‘‘ ’’ان شاء اللہ میری گڑیا رانی، اب چپ چاپ کھانا کھا لو۔‘‘ دادی مسکرا کر بولی۔
اس دن کے بعد سے صبا اکثر ماں کے پاس بیٹھی رہتی۔ اس کو چومتی۔ اس کے ہاتھوں کو سہلاتی۔ اس کی بے نور آنکھوں کو دیکھتی۔ اپنی جیب سے چاکلیٹ نکال کر اسے کھلاتی۔ ماں کی ممتا کو جگانے کی ناکام کوشش کرتی۔ مایوس ہو کر پھر دادی کی محبتوں میں گم ہو جاتی۔
پھر دن مہینوں اور مہینے سالوں میں تبدیل ہوگئے۔ بیٹیاں تو یوں بھی بیل کی طرح بڑھتی ہیں۔ بہت جلد صبا نے اسکول کا امتحان نمایاں نمبروں سے پاس کیا۔ صبا پورے ڈسٹرکٹ میں اوّل نمبر سے کامیاب ہوئی۔ اور شہر کے بہترین کالج میں داخلے کی حقدار بھی۔ اگرچہ اپنی اکلوتی اولاد کو اسے اپنے سے جدا کرکے تعلیم حاصل کرنے کے لئے شہر بھیجنا حیدر کے لئے آسان نہ تھا مگر وہ آہنی ارادوں کا انسان تھا اور خود بھی تعلیم کی خاطر اپنوں سے دور رہا تھا۔ اسی لئے دل پر پتھر رکھ کر دونوں ماں بیٹے نے صبا کو شہر بھیجنے کی تیاری کر لی۔ جاتے ہوئے اس نے ماں کے گلے میں بانہیں ڈال کر بہت پیار کیا۔ ماں نے بھی پہلی دفعہ اپنے سینے سے چمٹایا اور رونے لگی ’’تو کہاں جا رہی ہے؟ مجھے چھوڑ کر نہ جا۔ مجھے لے چل۔ وہ مجھے بلا رہے ہیں....‘‘ ممتا کے لمس نے اپنے اچھوتے احساس سے دوچار کیا۔ اسے لگا کاش یہ لمحہ رُک جائے اور اس لمس کی سرشاری اس کے تن بدن میں مہکتی رہے۔ جذبات پر قابو پا کر وہ سب سے رخصت ہو کر اپنی منزل کی طرف چل پڑی۔
صبا کی ذہانت کا کرشمہ تھا کہ وہ کالج کے امتحان میں نمایاں کامیابی حاصل کرکے آل انڈیا میڈیکل طلبہ کی فہرست میں اول نمبر آگئی۔ میڈیکل کالج کے اساتذہ اس کی محنت، لگن اور خوش اخلاقی سے گرویدہ ہوگئے۔ آخرکار وہ دن آ ہی گیا جب اس کی محنتوں کا پھل اس کے فائنل رزلٹ کا منتظر تھا۔
گاؤں میں ذیبی کی ذہنی حالت دن بدن بگڑتی جا رہی تھی اس کی ہذیانی کیفیت میں اضافہ ہوگیا تھا۔ وہ روز بروز کمزور ہوتی جا رہی تھی۔ دادی سے بھی سنبھلتی نہیں تھی۔ خادماؤں کو کاٹنے دوڑتی تھی۔ سب کی گرفت سے نکل کر بھاگنے کی کوشش کرتی تھی۔ ایک دن سب کی گرفت سے چھوٹ کر دروازے کی طرف دوڑی۔ دیوار سے ٹکرائی۔ سَر پر چوٹ کھا کر بیہوش ہوگئی۔ گاؤں میں کوئی اسپتال نہیں تھا۔ ذیبی کو لے کر حیدر اور دادی شہر کی طرف دوڑے۔ اسپتال میں داخلے کے بعد اسے ہوش میں لانے کی ساری کوششیں نا کام ہوگئیں۔ دماغ پر گہری چوٹ تھی۔ خون بہت بہہ چکا تھا۔ زندگی اور موت کی کشمکش میں آخر کار موت جیت گئی اور ذیبی سب کو روتا بلکتا چھوڑ کر آخرکار وہاں چلی گئی جہاں وہ جانا چاہتی تھی۔ صبا کے لئے وہ لمحہ بہت اذیت ناک تھا کیونکہ ڈاکٹر بن کر بھی وہ ماں کو موت کے منہ سے بچا نہ پائی۔ کاش گاؤں میں بھی کوئی اسپتال ہوتا اور اُسی لمحے صبا نے عہد کیا کہ وہ گاؤں میں اسپتال کھول کر بے بس انسانوں کو اذیت ناک امراض سے نجات دلانے کے لئے اپنی زندگی وقف کر دے گی۔
ڈگری حاصل کرکے گاؤں میں آنے کے بعد اس نے اپنے والد اور دادی سے اپنی خواہش کا اظہار کیا۔ دونوں بہت خوش ہوئے۔
حیدر دل و جان سے اسپتال شروع کرنے میں جٹ گئے۔ بہترین مشینیں خریدی گئیں۔ جذبہ صادق ہو تو اللہ تعالیٰ کامیابی بھی عطا کرتے ہیں۔ اسپتال میں بہترین ڈاکٹروں کو یکجا کرکے بڑی شان سے ’’صبا اسپتال‘‘ شروع کیا گیا اور صبا ڈاکٹروں کی ٹیم کے ساتھ تن من اور دھن سے مریضوں کی خدمت میں جٹ گئی۔
’’بیٹا صبا! کھانا کھا لو۔ تم نے صبح سے کچھ نہیں کھایا۔‘‘ دادی کی میٹھی آواز صبا کو ماضی کے لمحوں سے باہر نکال لائی، ’’جی دادی! ابھی ایک مریضہ کو انجکشن دے کر کام پورا کرکے آتی ہوں۔‘‘ جواب دے کر ڈاکٹر صیا پھر اپنے مشن میں مشغول ہوگئی۔