جانے کتنی مدت سے تمہیں خط لکھنے کے بارے میں سوچ رہی ہوں۔ اتنے لمبے چوڑے خط کے جواب کیلئے کتنے ورق لکھنے پڑھیں گے تب تک، تومنی بھی نیند سے چونک پڑے گی۔
EPAPER
Updated: February 07, 2024, 12:49 PM IST | Najma Nikhat | Mumbai
جانے کتنی مدت سے تمہیں خط لکھنے کے بارے میں سوچ رہی ہوں۔ اتنے لمبے چوڑے خط کے جواب کیلئے کتنے ورق لکھنے پڑھیں گے تب تک، تومنی بھی نیند سے چونک پڑے گی۔
جانے کتنی مدت سے تمہیں خط لکھنے کے بارے میں سوچ رہی ہوں۔ اتنے لمبے چوڑے خط کے جواب کیلئے کتنے ورق لکھنے پڑھیں گے تب تک، تومنی بھی نیند سے چونک پڑے گی۔ اللہ جانے کیسے ڈراؤنے خواب ہوتے ہیں کہ منی گھبرا کے نیند میں مجھے ٹٹولنے لگتی ہے۔ میرے اوندھے سیدھے خواب ہی کیا کم ہیں کہ جن کا سلسلہ بچپن سے اب تک قائم ہے۔ ہر بار مستقبل کی نئی بشارت سمجھ کے سارے خوابوں کی تعبیریں سینے سے لگائے میں نے ایک ایک قدم دھیرے دھیرے اپنے ارمانوں کے راستے پر بڑھایا مگر وہ ساری تعبیریں آندھی میں اڑنے والی سوکھی پتیاں بن گئیں۔
میں کہاں تک ان کے پیچھے دوڑتی پھروں؟
تمہیں یاد ہے؟ ہمیشہ اپنے سجے سجائے کمرے میں کتابوں کا ڈھیر لگائے پڑھنے کا مجھے کتنا شوق تھا۔ اماں چڑ جاتیں، ’’مَیں کہتی ہوں ثمو بی! ذرا کمرے سے باہر بھی جھانک جایا کرو۔ کیا سارا دن سسرال میں کتابیں ہی سنبھالنے کو دی جائیں گی؟‘‘ ’’توبہ اماں کیسی باتیں کرتی ہیں جب دیکھو تب میرے پڑھنے لکھنے پر جلی کٹی سنانے بیٹھ جاتی ہیں۔ یہ بھی چھوڑ دوں تو اللہ قسم مر جاؤں۔ ‘‘ مَیں اکتا جاتی۔ ’’اچھا بابا! جا کے پڑھ۔ میرا سر نہ کھایا کر....‘‘ اماں شفقت میں گھلی مسکراہٹ میری طرف پھینک کے باورچی خانہ میں گھس جاتیں اور مَیں پھر کتاب کھول کے بیٹھ جاتی۔
مگر اب تو دنوں گزر جاتے ہیں ایک ورق بھی پڑھنے کی فرصت نہیں ملتی۔ اخبار کی موٹی موٹی سرخیاں کبھی دیکھ لیں تو دیکھ لیں ورنہ پورا اخبار تو پڑھنا آج تک نصیب نہ ہوا۔ اتنی مصروف زندگی ہے کہ تمام دن ناکافی معلوم ہوتا ہے۔ ہر وقت کام نمٹنانے کی دھن لگی رہتی ہے۔
اماں کی تو مت ماری گئی تھی۔ جانے مائیں بن کے خیالوں میں سوتے جاگتے بیٹیوں کی سسرال ہی کیوں جھانکا کرتی ہیں۔ بس ایک ہی دھک دھکا دل کو لگا رہتا ہے۔ جیسے بھی بن پڑے ہاتھ پیلے ہو جائیں۔ اب مردہ جنت میں جائے چاہے دوزخ میں۔ اماں ابّا بیچ میں آنے والے نہیں۔
دور دیس سسرال جا کے جیسے میرا کلیجہ دھک سے رہ گیا۔ ابّا کے کبوتروں کے کابک یاد آئے۔ یوں سمجھو رہنے کو ایسا ہی ایک کابک ملا ہے۔ ہر خانے میں ایک ایک جوڑا اور بچے۔ ذرا سی جگہ میں گھر بھر کی ضرورتیں سما گئی ہیں۔
ڈرائنگ روم، بیڈ روم، ڈائننگ روم، کچن روم اور باتھ روم کی ساری سہولتیں ایک ہی کمرہ میں مل جاتی ہیں۔
اللہ جانتا ہے ہمارے گھر کا باتھ روم اس کمرے سے بڑا تھا۔ گرمیوں کے زمانے میں بڑے آنگن میں پانی کا چھڑکاؤ ہوتا تھا تو سوندھی سوندھی خوشبو دل میں ہزاروں امنگیں جگایا کرتی تھی۔ اور شیشم کے چوڑے چوڑے ایک قطار میں بچھائے گئے تختوں پر رمضانی بُوا ڈلی کاٹتے میں، صبر شہزادی کی کہانی شروع کرتیں تو ہم لوگ گم سم بیٹھے جنگل میں قلعہ کے اندر نظر بند، باپ کے عتاب کی ماری اِس ساتویں شہزادی کی زندگی پر کڑھا کرتے جو تنہا بہ تقدیر بولائی بولائی سی اس قلعے میں گھومتی پھرتی تھی اور بند فولادی دروازوں سے سر ٹکرایا کرتی تھی۔
کیا پتہ تھا وہ بدنصیب شہزادی مَیں ہی ہوں !
مَیں بھی اسی طرح پریشان سی زندگی کے اندھیرے سے قلعے میں ٹھوکریں کھاتی پھرتی ہوں۔ امیدوں کے چراغ ایک ایک کرکے بجھتے جاتے ہیں اور میں منی کا ہاتھ تھامے.... خالی الذہن تھکی ماندی بھاری بھاری قدم اٹھائے جاتی ہوں۔
برسوں گزر گئے ہیں اور مَیں جلا وطن مجرم کی طرح، اپنوں میں بیٹھنے کو ترس گئی ہوں۔ سوچتی ہوں تو یقین نہیں آتا کہ مَیں بھی کسی کی بیٹی تھی۔ کسی گھر کا چراغ تھی۔ میرے دم سے بھی کہیں اُجالا بکھر جاتا تھا۔ میرے ذرا سے دکھ پر بھی تڑپنے والے موجود تھے۔ دن بھر اودھم مچائے رکھنا اور رات کو مزے سے تان کے سو رہنا۔ اب خواب کی باتیں معلوم ہوتی ہیں۔ اماں کی شفقت بھری آواز کہیں دور سے آنے والی صدا بن گئی ہے۔ بھیا بھابی اور آپا کے چہرے پرانی تصویروں کی طرح دھندلا گئے ہیں۔ خالہ بی کے کانپتے ہاتھوں سے، سر میں چنبیلی کا تیل ملوانے کی خواہش کبھی کبھی بہت بے چین کرتی ہے۔ جب خالہ رعشہ سے تھرتھراتی انگلیوں سے دھیرے دھیرے بالوں کی جڑیں سہلاتی تھیں تو آنکھوں میں نیند کی سرسراہٹ محسوس ہوتی تھی۔ کبھی کبھی میں الجھ جاتی، ’’خالہ بی! صبح مجھے اسکول جانا ہے۔ سارے بال تیل سے چپک جاتے ہیں۔ یہ شلجم کی صورت لے کے مجھ سے نہیں جایا جاتا۔ ‘‘ مگر خالہ بی اب کیوں نہ ہوئیں میرے پاس؟ اماں کی فکر مند آنکھیں اور پیشانی کی شکنیں یاد آتی ہیں۔ اماں تو ہر وقت میرے پڑھنے لکھنے پر ٹوکا کرتی تھیں۔ ہائے اماں ! اور کچھ دنوں پڑھ لینے دیا ہوتا۔
اس سارے دھندلے پس منظر میں شفو کا چہرہ بہت صاف اور واضح ہے جیسے وہ ابھی ابھی یہاں سے اٹھ کر گیا ہو۔ جب بھی مَیں اداس ہو جاتی تھی تو وہ اپنی نظمیں سنایا کرتا۔ پورا ماحول بدل جاتا شفو کی نظمیں تو ایسی جاذب تھیں جو ماحول کی ساری اداسی کو ختم کر دیتی تھی۔
ان نظموں میں وہ ساری چھوٹی چھوٹی خوشیاں تھیں جو زندگی میں نگینوں کی طرح، چمکتی ہیں۔ وہ سارے دلآویز میٹھے خواب تھے جن کی تعبیریں اپنی زندگی میں لانے کیلئے انسان مسلسل جدوجہد کئے جاتا ہے۔
طوفان سے ٹکرانے و ساحل پہ پہنچنے کا ولولہ تھا۔ عزم کے شعلے، سرخ پھولوں کی طرح شعروں میں بکھرے تھے۔ میں اس کے پاس سے اٹھتی تو نئی زندگی کا ارمان میرے ساتھ ہوتا۔ جانے وہ ارمان اب تحت الشعور کے کس اندھیرے کونے میں دبا پڑا ہے میرے سارے ارمانوں کی طرح.... یہ ارمان بھی زخمی مریض کی طرح رہ رہ کے کراہتا ہے۔ اور سارا کام دھندا ختم کرکے جب مَیں بستر پر بے سدھ پڑی رہتی ہوں تو یہ ساری کراہیں، چیخیں بن جاتی ہیں۔
منی کے ابّا عملی آدمی ہیں، زبان سے، بہت کم کام لیتے ہیں۔ جب شام میں تھکے ماندے گھر آتے ہیں تو اپنے ہی خیالوں میں گم..... مَیں بن پوچھے ہی کھانا سامنے رکھ دیتی ہوں۔ کبھی بات کرنے کی کوشش بھی کی تو، جواب میں ہوں، ہاں، اچھا، نہیں ہی کو سننے کو ملتا ہے۔ رات رات بھر ہنسنے ہنسانے کی محفلیں یاد آتی ہیں۔
کسی حسین سی شام کو باہر بھی نکل آئے تو جیسے دو گونگے راستہ بھٹک گئے ہوں۔ منی سے ادھر ادھر کی باتیں تو کر بھی لیتے ہیں مگر میرے ساتھ تو ازل سے جیسے خاموشی، سناٹا اور تنہائی ہی ہے!
’’کبھی تو کچھ کہا کیجئے۔ ‘‘
’’تم ہی کچھ سناؤ۔ ‘‘ جواب ملتا ہے۔
’’آپ کچھ نہیں بولیں گے....؟‘‘
’’کیا بولوں ....؟‘‘
’’لاحول ولا قوۃ...‘‘ مَیں عاجز آکے چپ ہوجاتی ہوں۔
مجھے یوں لگتا ہے جیسے مَیں کہانیوں کی وہ شہزادی ہوں جو پتھروں کے شہر میں راستہ بھٹک کے نکل آئی ہو۔
ایک شفو بھی تھا۔ ساری رونقیں اسکے آتے ہی آجاتیں۔ چاہے کوئی اپنی زندگی سے بیزار آ گیا ہو مگر اس کے ساتھ بیٹھ کے دل میں نئی ترنگ اٹھتی.... مجھے اب شفو کی ضرورت بڑی شدت سے محسوس ہوتی ہے۔ اگر وہ ہوتا تو ہر چیز کا تاریک رخ ہی مجھے دکھائی دیتا....؟ آدھا دکھ تو اس کی باتیں ہی دور کر دیتیں پھر یوں سوچنے کو ڈھیر ساری باتیں کہاں ہوتیں ؟
مجھ پر قنوطیت طاری ہوتی جارہی ہے۔ کھد بد پکنے والی ہانڈی کی طرح میرا دماغ بھی کھد بد پکا کرتا ہے۔ یہ دھیمے دھیمے دہکنے والی آگ کب تک جلایا کرےگی؟
لمحہ بھر کو منی کی بے معنی باتوں کی معصومیت مجھ میں زندہ رہنے کی کشمکش کو بڑھا وا دیتی ہے۔ مگر اس کے اسکول جانے کے بعد تنہائی اور خاموشی میرا دم گھونٹنے لگتی ہے۔ ذرا سے کمرے میں ادھر ادھر گھومنے سے میرے پیر شل ہوجاتے ہیں۔ مَیں کتنی لمبی اور کٹھن راہیں طے کرکے آئی ہوں۔ اور کتنی مسافت باقی ہے؟
تمہارا خط پا کے مَیں ذرا بھی خوش نہیں ہوئی۔ خط تو اماں کا بھی آتا ہے، بڑی آپا اور بھابی بھی تو لکھتی ہیں مگر تم ہی بتاؤ سوکھے پودوں کو پانی سے سینچنے سے کونپلیں کہاں پھوٹیں گی؟ مَیں تو ایسا پتہ ہوں جو خزاں کے دکھ سہہ سہہ کے پیلا پڑ گیا ہے۔ اس پتہ کو بہار سے کیا واسطہ؟
مَیں ایک بار بیمار ہوگئی تھی۔ شفو کسی نہ کسی بہانے سے میرے پاس بیٹھا رہتا اس زمانے میں جانے کیوں مجھے بیماری سے الجھن نہیں ہوئی۔ مَیں ٹھیک سے تندرست نہ ہو پائی تھی کہ اس کی رخصت ختم ہوگئی۔ علی گڑھ جاتے ہوئے اس نے اپنی نظموں کا مجموعہ میرے ہاتھ پر رکھ دیا۔ مَیں نہ رہوں گا تو یہ نظمیں تمہاری تیمار داری کریں گی!
مگر اب مَیں بیمار پڑتی ہوں تو منی کے ابا جھنجھلا جاتے ہیں۔ ثمینہ! تمہیں معلوم ہے کہ یہاں نوکر نہیں ملتے اور جو ملتے ہیں تو بھاری تنخواہیں مانگتے ہیں۔ پھر اُن کا مقررہ وقت ہوتا ہے۔ ان کے یہ ناز ہم کہاں اٹھا سکیں گے؟ وہ بار بار گھر بھر کی پوزیشن مجھے سمجھانے لگتے ہیں۔ اور مَیں ہمیشہ کی طرح اپنے آپ پر ظلم توڑنے کو تیار ہو جاتی ہوں۔
اپنی طرف کی بہت سی صورتیں دکھلائی پڑتی ہیں۔ مگر یہاں آکے وہ بھی یہاں کی ریت نبھانے لگتے ہیں۔ ہم جب بھی اپنے گھر سے اکتا جاتے تھے تو اماں سے کہہ کے پڑوس میں جا بیٹھتے تھے۔ وکیل صاحب کی لڑکی، کلکٹر صاحب کی بیوی اور رحمت خالہ کو پا کے رشتہ دار بھولے گئے تھے۔ مگر یہاں کوئی مر بھی جائے تو پڑوسی جھانکنے بھی نہیں جانا۔ یہ جگہ ہی ایسی ہے۔ اتنی مصروفیت ہے۔ اتنی گہما گہمی اور نفسا نفسی ہے کہ طبیعت ہول کھانے لگتی ہے۔
شاید تمہیں یاد ہو کہ جب مَیں چھوٹی سی تھی تو ہر صبح کتنے عجیب و غریب خواب سنایا کرتی تھی۔ ان میں سے ایک مجھے اب تک یاد ہے۔ اور اب بھی کئی کئی رات مسلسل وہ ایک ہی خواب دکھائی دیتا ہے۔ جیسے چاروں طرف ریت کے بڑے بڑے پہاڑ کھڑے ہیں اور اس طول طویل صحرا میں بھٹکتی پھر رہی ہوں۔ جہاں تک نظر دوڑاتی ہوں سنہری چمکیلی ریت کے سوا کچھ نظر نہیں آتا۔ مارے پیاس کے حلق میں کانٹے پڑ گئے ہیں۔ پیر زخمی ہوگئے ہیں۔
کوئی پگڈنڈی دکھائی دیتی ہے تو وہاں پہنچتے پہنچتے تیز ہوا ریت کے ٹیلے اڑا، اڑا کر لے آتی ہے۔ موٹی موٹی سخت کنکریاں جسم چھننی کئے دے رہی ہیں۔ اور جب مَیں تھک کے چور چور ہوجاتی ہوں تو دور کہیں سبزہ دکھائی دیتا ہے۔ آبشار کی دھیمی گنگناہٹ سنائی دیتی ہے۔ مگر مجھ سے آگے چلا نہیں جاتا میں منہ کے بل زمین پر گر پڑتی ہوں اور اچانک آنکھ کھل جاتی ہے۔
میرا یہ سپنا کتنا سچا تھا؟ مجھے کیا معلوم تھا کہ یوں صحرا میں نخلستان ڈھونڈنے نکلوں گی تو منہ کے بل زمین پر آرہوں گی۔
ذہنی انتشار یوں پھیلتا جا رہا ہے جیسے پانی کی پرسکون سطح پر سنگ ریزے پھینکنے سے گرداب پھیلتے ہیں۔ میں نے امیدوں کے چراغ جلا رکھے تھے۔ مگر آندھیاں جانے کہاں سے اٹھی ہیں۔ بیٹھے بیٹھے مری مٹھیاں کس جاتی ہیں اور جسم بھر میں لاوا ساکھولتا پھرتا ہے۔ جانے میں اپنی ساری نا امیدیوں، غموں اور دکھوں کا بدلہ کس سے لینا چاہتی ہوں !
یہاں صبح سے شام تک کام کاج میں گتھا رہنا پڑتا ہے۔ نئی نئی کتابیں بک اسٹالوں پر دکھائی دے جاتی ہیں۔ خوبصورت رنگوں کے ڈسٹ کور بار بار میری توجہ کھینچ لیتے ہیں۔ یہ ساری کتابیں میرا آنچل پکڑ کے کھینچتی ہیں۔ آؤ، آؤ ہمیں کھول کر دیکھو تم تو کتابوں پر جان دیتی ہو۔ یہ اپنی جانب کو صرف گھریلو آزار میں پھنسا لیا۔ تمہیں دن بدن گم سم، بد ذوق اور باورچی خانہ کے حدود میں گھومنا کس نے سکھایا۔ کتابیں دوستی کا پورا حق ادا کرتی تھیں۔ مجھے ان کی موجودگی میں تنہائی ڈستی تھی۔ نہ سناٹا کھانے کو دوڑتا تھا۔ مگر وہ سارے فرصت کے رات دن کہاں سے لاؤں۔ وہ راتیں جو میری اپنی تھیں۔ نیند نہ آئی تو ہاتھ بڑھا کے لیمپ روشن کر لیا اور مزے سے پلنگ پر لیٹے پڑھ رہے ہیں۔ کسی دن اماں ڈانٹ لیتیں، ’’ارے بیٹا! تمہارے کمرے کا جلتا لیمپ دیکھ کے گئی تو سینہ پر کتاب دھر لی ہے اور غافل سورہی ہو۔ سونے سے پہلے بجلی بند کر دیا کرو۔ ‘‘
’’اچھا اماں !‘‘ مَیں بڑی سعادت مندی سے جواب دیتی مگر کچھ دنوں کے بعد وہی شکایت اماں پھر دہراتیں۔
اب منی کے ابا ۹؍ بجتے ہی گھڑی دیکھ کے بستر پر پڑ جاتے ہیں۔ سر دبانے و پیر دبانے کی عادت اس قدر پختہ ہوگئی ہے کہ بغیر سر دبائے آنکھ بند نہیں کرتے کسی دن پیر دبانے سے بچنا چاہوں تو پیر زور زور سے پلنگ کی پٹی پر مارتے رہتے ہیں۔ یہ گویا مجھے یاد دلاتے ہیں کہ تم نے اپنی ڈیوٹی ایمانداری سے ادا نہ کی۔
اور مَیں ان کے پیروں پر ہاتھ رکھ کے جسم بھر کا بوجھ ڈال دیتی ہوں۔
اپنے وطن میں، اپنے گھر اور لوگوں میں میری کیسی قدر کی جاتی تھی۔ لوگ بہت سوچ سمجھ کے، بہت تول کے مجھ سے بات کرتے۔ بہت احتیاط سے جیسے میں قدیم چینی کی پلیٹ ہوں۔ سنہری گل بوٹوں والی، قدیم نقاشی کا نمونہ.... جسے سنبھال کر رکھا جاتا ہو۔ مگر یہاں تومیں وہ حسین پلیٹ ہوں جو ٹوٹ گئی ہے.... نقاشی کا نمونہ ہونے کے باوجود گھورے پر پڑی ہے۔ ٹوٹنے کے بعد کون ان گل بوٹوں پر غور کرتا پھرے!
اب مَیں ایک گھریلو عورت ہوں۔ مجھے اپنے نرم و نازک احساسات کے ساتھ زندہ رہنا بہت مہنگا پڑے گا.... بنجر علاقے میں ننھے منے پودوں اور سنہری دھان کی بالیوں کا تصور کس قدر فضول ہے.... ایک دم بے ہودہ سا۔
جب اپنے گھر، اماں، آپا اور بھیا کی یاد ہاتھ دھوکے پیچھے پڑ جاتی ہے تو میں منی کے ابا کو دبے دبے الفاظ میں دل کا ماجرا سنانے بیٹھتی ہوں۔ اور اس کے جواب میں لمبا چوڑا لیکچر زہر مار کر سننا پڑتا ہے۔ وہ بہت کم بولتے ہیں جب بولنے پر آتے ہیں اور جھنجھلا کے بولتے ہیں تو الیکشن لڑنے والے امیدواروں کی طرح ساری رات بھی کافی نہیں ہوتی۔
تم یقین کرو کہ میرا وہاں آنا ناممکن ہوگیا۔ اول تو میرے پیچھے گھر بار سنبھالنے والا کون ہے۔ پھر منی کا اسکول وقت بے وقت تھوڑا ہی بند ہوسکتا ہے۔ جب اسکول بند ہو جاتا ہے تو گرمی اس قدر شدید ہوتی ہے کہ منی کو اتنے لمبے سفر میں وہ کاہے کو میرے ساتھ آنے دیں گے۔
کتنی بار انہوں نے مجھے سمجھایا ہے کہ گھر جانا فضول خرچی ہے۔ ہمارے آگے لڑکی ہے۔ پیسے رہیں گے تو کام آئیں گے.... پیسہ پیسہ.... کام کام.... بس دوہی چیزیں سننے کو ملتی ہیں۔ اور زندگی میں کسی چیز کی ضرورت نہیں ہے؟ یہاں اپنی طرف کی لڑکیاں بیاہ کے آئی ہیں اور اب تک کئی کئی بار میکے جاچکی ہیں مگر میں نے اپنے دل میں سر اٹھاتی خواہشوں کو کچلنا سیکھ لیا ہے۔
مجھے اس اچھے گھر کی کتنی آرزو تھی لوگوں کے گھر دیکھ کے منہ بنایا کرتی تھی، ’’اے ہے! ذرا سلیقہ نہیں ہے۔ میں نہ ہوئی اتنے خوبصورت گھر میں۔ ‘‘ ’’ثمو بیٹا! تیرا بھی گھر ہو ہی جائےگا۔ ‘‘ اماں معنی خیز مسکراہٹ میں مستقبل کی بشارت دیتیں۔ تب تو میں برآمدے کے ستونوں پر بلیک آئیڈ سوزن کی صندلی پھولوں والی بیل چڑھا دوں گی۔ ڈرائنگ روم میں سرخ قالین.... ڈبل اسپرنگ والے صوفہ سیٹ دیواروں سے لگے سرخ واریز سے نیچے لٹکتی ہوئی منی پلانٹ کی نازک سبز ڈالیاں ... خوبصورت پردے۔ سینٹر پیس پر سرخ گلابوں سے بھرا گلدان۔ ڈائننگ ہال میں لمبا سا کھانے کا میز اور گلاسوں میں نیپکنس سے بنائے ہوئے پھول سینٹر پیس دیواروں پر پھلوں والی تصویریں۔ بیڈ روم.... دو، ڈبل اسپرنگ والے بیڈز... سبز نبولی کے رنگ والے بیڈ کورز۔ رائٹنگ ٹیبل سبز بانات والا اور بھاری سبز پردے، الماریاں سبز شیڈز والے لیمپ اور.... اماں یوں حیرت سے منہ کھولے بیٹھی گھورا کرتیں جیسے کہہ رہی ہوں، ’’ہائے بےشرم کہیں کی....‘‘
’’کس کا بیڈ روم سجایاجا رہا ہے۔ ‘‘ شفو اکثر اپنی پڑھائی چھوڑے بات کی بات میں ٹانگ اڑانے آجاتا اور مَیں اماں کی موجودگی میں منہ سے نکل گئے بے ساختہ جملوں پر آپ ہی شرما جاتی۔
’’مگر دیکھو ثمو! مجھے کنگس ووڈ کا فرنیچر زیادہ پسند ہے۔ خیال رکھنا اچھا؟‘‘ جیسے کسی نے پھولوں سے بھری ہٹنی جھکا کے چھوڑ دی۔ اب وہ باتیں تو صرف دل ہی دل میں حسرت سے دہرائی جاتی ہیں۔
’’ارے میری توبہ.... شفو کا رشتہ بھی کوئی رشتہ ہے۔ جہاز کے ساتھ جانا پڑا تو سال دو سال تک پتہ نہیں چلتا کہ دنیا میں ہے بھی یا....‘‘
’’خدا کیلئے چپ رہو آپا۔ ‘‘ مَیں جملہ پورا ہونے سے پہلے آپا کے منہ پر ہاتھ رکھ دیتی۔ انہیں کیا پتہ کہ شفو ۲؍ سال بعد بھی گھر آتا تو میں گلدانوں میں تازہ پھول لگائے خوبصورت سے گھر کو سجائے بیٹھی اس کا انتظار کرتی اور اس کے آنے تک اس کی نظموں کے مجموعے مجھے تنہائی کا احساس نہ ہونے دیتے اور میں اس لمبی چونچ والی چڑیا کی طرح اپنے آپ کو آزاد سمجھتی جو فالسے پکتے ہی چوں چوں کرتی ٹہنیوں پر پھدکتی پھرتی مگر میں اب خالہ بی کی مینا کی طرح اپنی بولی اور غذا بھی بھول گئی ہوں۔
میرے بارے میں بھی منی کے ابا یہی سوچتے ہوں گے کہ چمن میں چہکنے والے پرندے کو مَیں نے صحرا کی ویرانیوں میں جینا سکھا دیا۔ سارے رشتے ناطے کچھ دھاگے بن گئے ہیں۔
ایک دھرتی کی تقسیم رشتوں ناطوں اور دلوں کی تقسیم بن گئی ہے۔ محبت، ممتا اور خون کا بٹوارہ ہوگیا۔
اپنی طرف جو کبھی جھوپڑوں میں رہا کرتے تھے وہ پہلے پہل یہاں آ کے عالیشان حویلیاں دبا کے بیٹھ گئے۔ اور جن بد نصیبوں کے برے، پختہ مکان تھے۔ وہ اب چھوٹی چھوٹی جھوپڑیوں میں پڑے ہیں۔ اب بھی کئی ہیں جن کے دن بدل رہے ہیں۔ مگر مری ہوئی محبت، لٹی ہوئی ممتا اور نرم و نازک احساسات کون واپس دلائے گا۔ خالہ بی کی برسوں سے بند پڑی بینا کے پروں میں اڑنے کی طاقت کہاں آپائے گی؟
زندگی عجیب و غریب زاویوں میں تقسیم ہوگئی ہے۔ ان زاویوں نے سب کچھ نظروں سے اوجھل کر دیا۔ میں ایک روایتی بیوی اور مان بن کے رہ گئی ہوں جس کیلئے اپنا ماضی یاد رکھنا بھی ناقابل معافی گناہ ہے۔
یہ کمرہ تو میرا تابوت ہے جس پر چڑھا ہوا سیاہ غلاف سورج کی کرنیں بھی روک لیتا ہے۔ میں ان کرنوں کیلئے ترس گئی ہوں۔ مجھ میں اب بھی جان باقی ہے۔
میری اپنی آرزوئیں اب بھی جانکنی کی حالت میں تڑپتی ہیں۔ ہر طرف اندھیرا ہی اندھیرا ہے۔ گمبھیر اندھیرا.... وہ جگہ کہاں ہے جہاں اجالا بکھرا پڑا ہے۔ جہاں صبح سویرے نرم چمکیلی کرنیں تاریکی میں بھٹکتے پھرنے والوں کو راستہ دکھاتی ہیں۔ مجھے تلووں میں پڑے ہوئے چھالوں اور لڑکھڑاتے قدموں کے ساتھ روشنی کی تلاش میں اور کب تک چلنا پڑےگا؟
ہر روز میں اپنے آپ سے پوچھتی ہوں ....
تمہیں دور دیس میں گائے جانے والے وطن کی بہاروں کے یہ اداس نغمے کیوں بھیج رہی ہوں ؟ ان نغموں میں سرخ مسکراتے شگوفوں کے بجائے مرجھائی زرد کلیوں کی سسکیاں ہیں .... دور دیس سے میں تمہیں اور کیا بھیج سکتی ہوں؟