مغرب میں اس احساس تنہائی نے ایک نظریۂ حیات کو بھی جنم دیا ہے جس کو وجودیت کہتے ہیں۔ اس نظریۂ حیات کے سحر میں دنیا کے کافی لوگ گرفتار ہوئے مگر اس سے فائدہ ہونے کے بجائے یہ نقصان ہوا۔
EPAPER
Updated: January 01, 2026, 10:55 PM IST | Shamim Tariq | Mumbai
مغرب میں اس احساس تنہائی نے ایک نظریۂ حیات کو بھی جنم دیا ہے جس کو وجودیت کہتے ہیں۔ اس نظریۂ حیات کے سحر میں دنیا کے کافی لوگ گرفتار ہوئے مگر اس سے فائدہ ہونے کے بجائے یہ نقصان ہوا۔
عصر حاضر کے انسان کا سب سے بڑا روگ ’’احساس تنہائی‘‘ ہے۔ اس احساس کے تحت وہ اس وہم میں مبتلا ہوگیا ہے کہ نہ تو کسی ایسی قوت کا وجود ہے جو اس کی شکست کو فتح میں یا مایوسیوں کو آسودگیوں سے بدل دے نہ معاشرے میں اس کا کوئی ہمدرد و غمگسار ہے اس لئے وہ مرمر کے جیے جا رہا ہے۔ اعصابی کمزوری، بے خوابی، خودکشی اور کیا بوڑھے کیا نوجوان سب کے طرح طرح کا نشہ کرنے کی علت میں مبتلا ہونے والوں کی تعداد بڑھتی جا رہی ہے۔ مغرب میں اس احساس تنہائی نے ایک نظریۂ حیات کو بھی جنم دیا ہے جس کو وجودیت (Existencialism) کہتے ہیں۔ اس نظریۂ حیات کے سحر میں دنیا کے کافی لوگ گرفتار ہوئے مگر اس سے فائدہ ہونے کے بجائے یہ نقصان ہوا کہ انسان کے دل میں یہ خوف بیٹھ گیا کہ وہ تو اس کائنات میں چرند و پرند سے بھی زیادہ مجبور ہے۔ جنہوں نے اس نظریۂ حیات یا اس نظریۂ حیات کو پیدا کرنے والی طرز زندگی کیخلاف آواز اٹھائی انہیں دقیانوسی اور ماضی پرست کہہ کر چپ کرانے کی کوشش کی جاتی رہی، لیکن حق تو بہرحال حق ہے اور اس کو بہرطور سرخرو ہونا ہے اس لئے اس کی سرخروئی کے اسباب پیدا ہوتے رہتے ہیں۔
۱۷؍ جنوری ۲۰۱۸ء کو برطانیہ کی وزیر اعظم Theresa May نے کہا تھا کہ احساس تنہائی The sad reality of modern life یعنی جدید طرز زندگی کی دکھ بھری سچائی ہے جس سے کروڑوں افراد کی زندگی متاثر ہوئی ہے۔ اپنی کابینہ یا وزارتی کونسل میں ایک Minister of Loneliness یعنی وزیر برائے تنہائی بھی مقرر کردیا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ جو لوگ بہت بوڑھے ہوچکے ہیں، جن کے اعزاء یا خبرگیری کرنے والے نہیں رہ گئے ہیں یا جو ایسے لوگوں سے محروم ہیں جن کے سامنے وہ اپنے تجربات و خیالات کا اظہار کرکے سکون پاسکیں ان کے مسائل و مصائب کو دور کرنا اور ان کو راحت پہنچانے کی سبیل پیدا کرنا ایک چیلنج ہے جس کا پورا معاشرے کو مل جل کر سامنا کرنا ہے۔ برطانوی وزیر اعظم کے بیان کی تصدیق ریڈ کراس اور دیگر ذرائع سے حاصل ہونے والی ایک رپورٹ سے ہوئی تھی جس میں کہا گیا تھا کہ برطانیہ کی ۶۵ء۶؍ ملین (چھ کروڑ چھپن لاکھ) کی آبادی میں ۹؍ ملین سے زیادہ یعنی تقریباً ایک کروڑ افراد احساس تنہائی سے پیدا ہونے والے مسائل یا روگ میں مبتلا ہیں۔ وزارت تنہائی کی ذمہ داری ایک خاتون وزیر Tracey Crouch کو سونپی گئی تھی جو پہلے سے سول سوسائٹی اور اسپورٹس کے قلمدان سنبھالے ہوئے تھیں۔ محترمہ نے محکمے کی ذمہ داری کو قبول کرتے ہوئے احساس تنہائی کو Generational Challenge یعنی وہ چیلنج قرار دیا تھا جس کا تعلق بدلتی ہوئی نسل سے ہے۔ محترمہ نے اس عزم کا اظہار بھی کیا تھا کہ ان کی وزارت ان تمام مسائل کو حل کرنے کی کوشش کرے گی جو احساس تنہائی کے سبب پیدا ہوتے ہیں۔
واضح رہنا چاہئے کہ تنہائی کے مارے صرف بڑے بوڑھے یا وہ لوگ ہی نہیں ہیں جنہیں اپنوں نے چھوڑ دیا ہے اور وہ اولاد یا اولاد کی اولاد ہوتے ہوئے مایوسی و تنہائی کی زندگی بسر کر رہے ہیں، تنہائی کے مارے وہ بھی ہیں جو بظاہر بھرے پرے گھر خاندان میں رہتے ہیں مگر ان کی طرف کوئی دیکھتا بھی نہیں یا کچھ افراد خاندان ان کی طرف متوجہ ہونے کا دکھاوا تو کرتے ہیں مگر ذہنی ہم آہنگی اور اپنائیت نہ ہونے کے سبب یہ مصنوعی توجہ بھی ان کی زندگی میں زہر بھردیتی ہے۔ یہ خیال بھی صحیح نہیں ہے کہ احساس تنہائی کے روگ کے مارے صرف بڑے بوڑھے ہیں، بچے اور نوجوان بھی جنھیں ماں باپ کا پیار نہیں ملتا یا جن کے گھر میں ماں باپ الگ الگ انداز میں جیتے اور ایک دوسرے سے جھگڑتے رہتے ہیں یا جن بچوں کے ماں باپ کو عیش و مستی اور تجارتی و سیاسی مصروفیات کے سبب اتنا وقت نہیں ملتا کہ وہ اپنی اولاد کی طرف نگاہ التفات کرسکیں وہ بھی تنہائی کے احساس میں مبتلا ہو کر طرح طرح کی جسمانی، ذہنی اور نفسیاتی بیماریوں کا شکار ہوجاتے ہیں۔
حقیقت یہ ہے کہ احساس تنہائی سے پیدا ہونے والا روگ اس طرز فکر اور طرز زندگی کی دین ہے جس نے اس رجحان کو پروان چڑھایا تھا کہ ’’میری زندگی ہے میں اس کو اپنے طور پر بسر کروں گا۔‘‘ اپنے آپ میں سمٹ کر زندگی بسر کرنے کا احساس مغرب ہی سے مشرق میں درآمد کیا گیا تھا اور بچے، عورت، مرد کے انفرادی حقوق پر اتنا اور اس طرح زور دیا گیا تھا کہ وہ اپنے والدین، بیوی، بچوں، پڑوسیو ں اور معاشرے کے عام لوگوں کے وہ حقوق بھی بھول گئے تھے جن کی ادائیگی ان پر واجب تھی۔
تاریخ کی روشنی میں دیکھیں تو معلوم ہوتا ہے کہ ایک وقت وہ تھا جب فرد مذہبی سماجی اخلاقی ضابطے یا قانون کے نام پر اس قدر جکڑ دیا گیا تھا کہ جس کے پاس مذہبی، سماجی، سیاسی طاقت نہیں تھی اس کی کوئی حیثیت ہی نہیں رہ گئی تھی اور اب وہ دور آگیا ہے کہ بچے ماں باپ کی تربیت یا اخلاقی درس کو اپنی آزادی پر لگام لگانے کی کوشش اور جوان اپنے بوڑھے والدین کو ہی نہیں معصوم بچوں کو بھی اپنی زندگی اپنے طور پر بسر کرنے کی راہ کا روڑا سمجھنے لگے ہیں۔
یہ وبا یورپ ہی سے پھوٹی تھی اور اب یورپ ہی اس کا علاج تجویز کر رہا ہے۔ ہندوستان میں ایسے کئی قانون پہلے ہی سے موجود ہیں جن میں بڑے بوڑھوں اور بچوں کی نگہداشت اور تحفظ کو یقینی بنایا گیا ہے اس کے باوجود اس ملک میں ایسی بوڑھی آنکھوں کی جو اپنوں کو دیکھنے کے لئے اور ایسی معصوم زندگیوں کی جن کے کان محبت کے دو بول سننے کے لئے ترس رہے ہیں، کمی نہیں ہے۔ چونکہ بچوں، بوڑھوں، عورتوں پر تشدد کے واقعات بڑھ رہے ہیں اس لئے یہ کہنا غلط نہیں کہ ایک وزارت کی تشکیل یا ایک وزیر کا تقرر اس وبا کا مکمل علاج نہیں ہے جیسا کہ برطانیہ میں کیا گیا۔ اس کے لئے اس یقین کو عام کرنے کی ضرورت ہے کہ دنیا میں کوئی بے سہارا نہیں ہے۔ راقم الحروف کے لئے جیتے رہنے کی تمام راہیں اسی یقین و عزم سے پھوٹی ہیں۔ اس نے جب یہ عزم کیا تھا اس کے سر پر آسمان اور پاؤں تلے زمین کے سوا کچھ نہیں تھا۔ آج ساری دنیا اپنی ہے اور کوئی پرایا نہیں معلوم ہوتا۔n (انقلاب فائل سے)