مشکلیں آتی ہیں لیکن میراجنون حوصلہ دیتاہے تیراکی میں عالمی ریکارڈ بناناچاہتاہوں

Updated: April 15, 2021, 1:00 PM IST | Saadat Khan

ہنریا ٹیلنٹ کسی تعارف کا محتاج نہیں ہوتا ہےبس صرف ایک موقع کی ضرورت ہوتی ہے ، اگر یہ اسے مل جائے تو پھر وہ اپنی پہچان خود بناتا ہے۔ دھاراوی کے ۹۰؍فٹ روڈ پر واقع کالا قلعہ کلپترو بلڈنگ کے قریب اُتر بھارتی چا ل میں کرائے کےمکان میں مقیم۳۴؍سالہ محمد شمس عالم شیخ اس کی عمدہ مثال ہیں۔

Mohammad Shams Aalam Shaikh.Picture:INN
محمد شمس عالم شیخ ۔تصویر :آئی این این

 ہنریا ٹیلنٹ کسی تعارف کا محتاج نہیں ہوتا ہےبس صرف ایک موقع کی ضرورت ہوتی ہے ، اگر یہ اسے مل جائے تو پھر وہ اپنی پہچان خود بناتا ہے۔ دھاراوی کے ۹۰؍فٹ روڈ پر واقع کالا قلعہ کلپترو بلڈنگ کے قریب اُتر بھارتی چا ل میں کرائے کےمکان میں مقیم۳۴؍سالہ محمد شمس عالم شیخ اس کی عمدہ مثال ہیں۔ ۲۶؍سالہ شمس عالم جو دونوں پیروں سے معذور ہیں لیکن ان کی خود اعتمادی اورجدوجہد کانتیجہ ہےکہ وہ اب تک کئی عالمی تیراکی مقابلوںمیں حصہ لے کر اپنا لوہا منواچکے ہیں۔ انہوں نے حال ہی میں بنگلور میں منعقدہونے والے ۲۰؍ویں نیشنل پیرا سوئمنگ چمپئن شپ میں۲؍ گولڈ میڈل جیتے ہیں۔
بیماری نے شمس کی زندگی میں ڈرامائی تبدیلی کی
  اعلیٰ تعلیم یافتہ شمس عالم ۲۴؍سال کی عمر میں پیراپلچیا کےمرض میں مبتلاہونے سے دونوں پیروں سے مفلوج ہوگئے تھے۔اس کے باوجود ان کے حوصلہ اور خوداعتمادی نے انہیں معذور نہیں ہونےدیاہے۔ وہ بچپن سے تیراکی کے شوقین تھے۔ مدھوبنی ضلع بہار کے رہنےوالے اس نوجوان نے اپنے آبائی گھر کے سامنے واقع تالاب میں وہ بچپن میں ہی غوطہ لگانا سیکھ چکے تھے۔ تیراکی ان کے خون میں شامل ہے۔ اسی وجہ سے معذوری کےباوجود انہوںنےاپنے شوق کا سفر جاری رکھا۔قومی اور عالمی سطح پر ہونےوالے متعدد سو ئمنگ مقابلےمیں وہ اپنی کارکردگی سے منفرد شناخت بناچکےہیں۔ ان کے نام سے پچاسوں گولڈمیڈل منسوب ہے۔ ۲؍مرتبہ لمکا بُک آف ریکارڈمیں بھی نام درج کراچکےہیں۔ حال ہی میں بنگلو ر میں ہونےوالے ۲۰؍ویں قومی پیرا سوئمنگ چمپئن شپ میں بھی مختلف زمرے میں ۲؍گولڈ میڈ ل حاصل کیاہے۔ ساتھ ہی اسی مقابلےمیں ۱۵۰؍میٹر کی انڈیوسول میڈلے سوئمنگ میں انہو ں نے کم وقت میں تیراکی کرکے ریکارڈقائم کیاہے۔ ۲۰۱۸ءمیں انڈنیشیامیںہونے والے ایشین گیمز میں بھی انہوںنے ہندوستان کی نمائندگی کی تھی حالانکہ یہاں انہیں گولڈ میڈل نہیں ملا لیکن اپنی کارکردگی سے انہو ںنے چوتھامقام حاصل کیاتھا۔ 
 شمس عالم اب  ۲۰۲۲ءمیں ہونےوالے ایشین گیمز میں حصہ لینےکی تیاری کررہےہیں۔ انہیں یقین ہے کہ اس مرتبہ وہ اپنے ملک کیلئے گولڈ میڈل حاصل کریںگے۔ شمس کو ہندوستان کاتیز ترین پیرا تیراک ہونےکابھی شرف حاصل ہے۔ شمس نے انقلاب سے گفتگوکرتےہوئے کہاکہ ’’ میںاپنے ماضی کو فراموش کرکے ایک تاریخ رقم کرنے کی کوشش کررہاہوں ۔ میری کوشش ہوتی ہےکہ میری معذوری میری مجبوری نہ بنے۔ مجھےمیری ماں کی نصیحت ہمیشہ یادرہتی ہے ۔ ۲۰۱۸ء میں ایشین گیمز میں شرکت کیلئے میں تیاری کررہاتھا۔ اسی دوران میری والدہ کی طبیعت خراب ہوئی تھی۔ ان کی صحت دیکھ کرایک دن والدہ سے کہاکہ میں ایشین گیمز میںجانےکا ارادہ ترک کردیتا ہوںکیونکہ آپ کواس حالت میں چھوڑکر جاتےہوئے اچھانہیں لگ رہاہے۔اس وقت میری ماں نےکہاتھاکہ نہیں بیٹا میں ٹھیک ہوں ، مجھے کچھ نہیں ہواہے ۔تم جائو کیونکہ ملک کو تمہاری کامیابی کی ضرورت ہے۔ تم کامیاب ہوگئے تو ملک کانام روشن ہوگا۔ والدہ کی یہ بات سن کر مجھےاحساس ہواکہ ماں اور ملک میں کوئی فرق نہیں ہے۔ ماں کے کہنے پر میں ایشین گیمزمیں حصہ لینے کیلئےانڈونیشیا روانہ ہوگیالیکن جب میں وہاں سے لوٹ رہاتھا ، دوران ِ سفر مجھے والدہ کی موت کی اطلاع ملی تو تڑپ کررہ گیا۔‘‘
شمس کے عزائم
 ایک سوال کے جواب میں شمس نےکہاکہ ’’سینےکےنیچے کا حصہ مفلوج ہونےکے باوجود کچھ مخصو ص اقسام کی تیراکی مثلاً بٹرفلائی اسٹروک وغیرہ کرناانتہائی مشکل ہےپھر بھی میں اپنے ہاتھوںکی مدد سے بٹر فلائی اسٹروک بہت اچھی طرح کرلیتاہوں اور  اس  میں کافی مہارت حاصل کرلی ہے ۔  کئی ایوارڈ بھی بٹر فلائی تیراکی میں مل چکےہیں ۔اب میں بٹرفلائی تیراکی میں عالمی ریکارڈ قائم کرنےکامتمنی ہوںحالانکہ دقتیں اور مشکلیں ضرور آتی ہیں مگر میرا جنون مجھے آگے بڑھنےکا حوصلہ دیتارہاہے۔‘‘  فی الحال شمس عالم جولائی میں منعقد ہونےوالے ٹوکیو اولمپک سوئمنگ مقابلےمیں حصہ لینےکی تیاری کر رہے ہیں۔اس کےساتھ ۲۰۲۲ ء میں کے ایشین گیمز کی بھی تیاری جاری ہے۔ وہ اپنی خدمات سے ہندوستان کانام دنیامیں روشن کرناچاہتےہیں۔  معذوری سےآنے والی مشکلات سے متعلق دریافت کرنے پر شمس نےبتایاکہ ’’جو لوگ مجھے ابھی بھی نہیں جانتےہیں وہ میری صلاحیتوں کےبارے میں مشکوک ہیں۔ اگر میں کسی نئی جگہ وہیل چیئرپرتیراکی کیلئے جاتاہوں تو انہیں شبہ ہوتاہےکہ میں تیراکی کر پائوں گایانہیں ۔ مجھے انہیں سمجھانا پڑتاہے لیکن ایک مرتبہ جب مجھے وہ سوئمنگ کرتےدیکھ لیتے ہیں تو حیرت اور خوشی کا اظہار کرتےہیں۔ ۲۰۱۲ءمیںپہلی مرتبہ ایک سوئمنگ پل میں پریکٹس کیلئے جانےکااتفاق ہوا، کوچ نےمجھے دیکھ کرسوئمنگ کرنےکی اجازت دینے سےمنع کردیالیکن جب میں انہیں سمجھایا اوراپنی تیراکی کی صلاحیتوں کا عملی ثبوت پیش کیا تو وہ بہت خوش ہوئے اس کےبعد ان کی سمجھ میں آگیاکہ میں تیراکی کے سارے گر جانتاہوں۔ چنانچہ معذوری کی وجہ سے اس طرح کے چیلنج سامنے ضرور آئے مگر میں نے کبھی حوصلہ نہیں ہارا اور یہی طرز عمل میری کامیابی کا راز ہے۔‘‘  ممبئی پیرا سوئمر اسوسی ایشن کے جنرل سیکریٹری شمس عالم نے اپنی عمدہ کارکردگی سے متعلق بتایاکہ ’’یوں تو تیراکی کےکئی مقابلے ہیں جن کا میرے کرئیر سے قریبی رشتہ ہے مگر بحرعرب میں ۸؍کلومیٹر کی تیراکی ۴؍گھنٹہ ۴؍منٹ میں مکمل کرنے کا سفر ،جس کی وجہ سے لمکا بُک آف ریکارڈمیں میرا نام درج کیاگیا، میرےنزدیک ایک تاریخی کارنامہ ہے۔ اس کےعلاوہ بھی کئی مقابلوںمیںعمدہ کارکردگی کی بنا پر عالمی اور قومی سطح پر اعزاز سے نوازاگیاہے۔‘‘  صابو صدیق کالج سے انجینئرنگ کرنے والے شمس عالم نے بتایاکہ ’’میری کامیابی میں میرے اہل خانہ کااہم رول رہاہے۔ میری والدہ تو اس دنیا سےرخصت ہوچکی ہیں ۔ میرے والد ۹۰؍سال کی عمر میں بھی مجھے جو حوصلہ دیتےہیں میں اس کی اہمیت فراموش نہیں کرسکتا ہوں۔ماں کےنہ ہونےکا خلاءمیری بڑی بہن جس طرح پورا کرنےکی کوشش کرتی ہیں وہ قابل صد احترام ہے۔بڑے بھائی کی شفقت ہمیشہ میرے ساتھ رہی ہے۔ان سب کےعلاوہ سب سے زیادہ میں اس رب کائنات کا شکرگزار ہوں جس نے مجھے ۲؍زندگی خوش اسلوبی سے جینے کاسلیقہ دیا ورنہ میں کس لائق تھاکہ ایک عام زندگی کے ساتھ ایک معذور زندگی بھی خندہ پیشانی جی لیتا۔‘‘

youth Tags

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK