ہیرات کی مسجد میں نماز جمعہ کے دوران دھماکہ امام سمیت ۱۸؍ ہلاک

Updated: September 03, 2022, 12:04 PM IST | Agency | Kabul

طالبان حامی مذہبی اسکالر مجیب اللہ انصاری اور ان کے حفاظتی دستے کے اراکین بھی جاں بحق۔ مسجد کے دروازے پر ایک شخص نے مجیب اللہ سے ہاتھ ملایا اور اچانک بم دھماکہ ہوا، ۲۳؍ افراد زخمی

After the explosion, the Taliban personnel surrounded the area .Picture:Agency
دھماکےکے بعد طالبان اہلکاروں نے علاقےکا محاصرہ کر لیا تصویر: ایجنسی

 افغانستان کے شہر ہیرات میں نماز جمعہ کےدوران دھماکہ ہوا ہے جس میں مسجد کے امام سمیت ۱۸؍ افراد جاں بحق ہوئے ہیں۔ اہم بات یہ ہے کہ دھماکے میں مولوی مجیب اللہ انصاری بھی فوت ہو گئے ہیں جو کہ طالبان کے حامی ہیں اور بحیثیت مذہبی اسکالر مشہور تھے۔  فی الحال کسی بھی دہشت گرد تنظیم نے اس حملے کی ذمہ داری قبول نہیں کی ہے۔  ہیرات کے گورنر حمیداللہ متوکل  نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ شہر کی مشہور ’گزرگاہ مسجد‘ میںبم دھماکہ ہوا ہے جس میں ۱۸؍ لوگوں کی ہلاکت کی خبر ہے جبکہ ۲۳؍ لوگ زخمی ہیں۔ مہلوکین میں مولوی مجیب اللہ انصاری اور ان کے حفاظتی دستے میں شامل کچھ اہلکار بھی ہیں۔  اطلاع کے مطابق جس وقت یہ دھماکہ ہوا اس وقت مسجد میں نماز جمعہ کی تیاری ہو رہی تھی۔  ابھی نماز شروع نہیں ہوئی تھی۔ اسی دوران مجیب اللہ انصاری مسجد پہنچے۔ وہ ابھی مسجد کے گیٹ پر ہی تھے کہ ایک شخص ان سے ملنے پہنچا اور اس کے مصافحہ کرنےکے بعد مجیب اللہ کے ہاتھ پر بوسہ دیااسی دوران زوردار دھماکہ ہوا۔  اور ہر طرف بھگدڑ مچ گئی۔  کہا جا رہا ہے کہ جس شخص نے مولوی مجیب اللہ انصاری سے ہاتھ ملایا تھا وہی اصل میں خود کش بمبار تھا۔  دھماکے کے بعد فوراً طالبان اہلکاروں نے مسجد کا محاصرہ کر لیا اور ریسکیو آپریشن شروع کر دیا گیا۔  اس صورتحال کو دیکھ کر اندازہ ہوتا ہے کہ یہ بم دھماکہ مجیب اللہ انصاری کو قتل کرنے کی غرض سے ہی کیا گیا تھا جس میں عام شہری بھی ہلاک ہوئے۔   اطلاع کے مطابق مجیب اللہ انصاری اس وقت  ایک جلسے  میںشرکت کرنے کے بعد نماز کیلئے مسجد میں داخل ہو رہے تھے۔ جس  جلسے میں شریک تھے اسے طالبان نے منعقد کیا تھا اور اس کی صدارت طالبان کے اہم لیڈر ملا عبدالغنی برادر کر رہے تھے۔ یہ ملک کی معاشی صورتحال  پر غور وخوض کیلئے منعقد کیا تھا۔ بم دھماکے کے بعد طالبا ن حکومت کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے ٹویٹ  کرکے اس حملے کی مذمت کی اور اس میں فوت ہونے والوں کے ساتھ اظہار تعزیت کیا۔ ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ بم دھماکے کی سازش میں شامل طاقتوں کو بخشا نہیں  جائے گا۔  مجاہد نے لکھا ہے’’ ملک کے مضبوط اور مقبول مذہبی اسکالر  اس بہیمانہ حملے میں شہید ہوئے ہیں۔  ادھر پولیس کا کہنا ہے کہ زخمیوں میں سے ۴؍ کی حالت انتہائی نازک ہے اس لئے مہلوکین کی تعداد میں اضافے کا خدشہ ہے۔ پولیس اطراف کے علاقوں میں چھان بین کر رہی ہے اور یہ معلوم کرنے کی کوشش کر رہی ہے کہ حملہ آور کے ساتھی کہیں کسی اور کارروائی کی کوشش تو نہیں کر رہے ہیں۔  یاد رہے کہ طالبان کے اقتدار میں آنے کے بعد مسجد میں بم دھماکوں کے متعدد واقعات ہو چکے ہیں اور ان میں سے بیشتر جمعہ کے روز ہوئے ہیں ۔
   مجیب اللہ انصاری وہ دوسرے مذہبی اسکالر ہیں جو طالبان کے کٹر حامی تھے اور  جن کی بم دھماکے میں موت ہوئی ہے۔ اس سے قبل  رحیم اللہ حقانی کا ایک مدرسے میں ہونے والے دھماکے میں انتقال ہو گیا تھا۔ وہ داعش کے کٹر مخالف تھے اور اپنی تقریروں میں طالبان کی حمایت کیا کرتے تھے۔  جس دھماکے میں رحیم اللہ حقانی کی موت ہوئی تھی اس کی ذمہ داری داعش نے قبول کی تھی۔ مجیب اللہ انصاری بھی اپنی تقریروں میں طالبان حکومت کی حمایت کیا کرتے تھے۔  وہ جمعہ کی نماز سے قبل طالبان ہی کے ایک جلسے  میں شریک تھے۔   ایک رپورٹ کے مطابق شروع میں جن مساجد میں بم دھماکے ہوئے تھے وہ  اہل تشیع کی مساجد تھیں ۔ اس سے یہ تاثر ملتا تھا کہ ان دھماکوں کے پیچھے کوئی مسلکی تصادم ہے لیکن بعد میں دیگر مکتب فکر والی مساجد میں بھی بم دھماکوں کے واقعات پیش آئے جیسے جمعہ کو گزرگاہ مسجد میں دھماکہ ہوا جو ایک سنی مسجد ہے اور یہاں طالبان اہلکار بھی نماز ادا کرنے آتے ہیں ۔ خود مجیب اللہ انصاری بھی یہاں نماز ادا کرنے کی غرض سے ہی آئے تھے۔  یاد رہے کہ  مجیب اللہ انصاری طالبان  کے دوبارہ اقتدار میں آنے سے قبل ہی ہیرات میں اسلامی قوانین کی نفاذ کیلئے کوششیں کر رہے تھے۔ وہ خواتین  کے پردے اور بدعنوان اہلکاروں کو سزاکی حمایت کرتے تھے۔ اس کیلئے انہوں نے ۲؍ سال قبل ہیرات میں مہم بھی چلائی تھی جس پر حکومت نے کہا تھا کہ مجرموںکو سزا دینا ان کا کام نہیں بلکہ حکومت اور پولیس کا کام ہے۔  جب طالبان دوبار اقتدار میںآئے تو   انہوں نے ان کی حکومت کی حمایت شروع کر دی۔ گزشتہ جون میں انہوں نے ایک جلسے میں پرجوش تقریر کرکے حکومت کی حمایت کرنے پر لوگوں کو آمادہ کیا تھا۔ یاد رہے کہ طالبان کے علاوہ افغانستان میں داعش بھی سرگرم ہے جس نے یہاں اپنا نام دولت اسلامیہ خراسان رکھا ہوا ہے اور آئے د ن مختلف مقامات پر ہونے والے بم دھماکوں میں   اپنے ملوث ہونے کا اعلان کرتا رہتا ہے۔ فی الحال پولیس نے اس بات کی تصدیق نہیں کی ہے کہ گزرگاہ مسجد  میں ہونے والے دھماکے میں کس گروپ کا ہاتھ ہے اور نہ ہی داعش یا کسی اور تنظیم نے اس کی ذمہ داری قبول کی ہے لیکن مقامی ذرائع کا کہنا ہے کہ رحیم اللہ حقانی کی طرح مجیب اللہ انصاری بھی داعش کے نشانے پر تھے اور یہ دھماکہ انہی کے قتل کیلئے کیا گیا تھا  ۔ اس میں مسجد کے امام اور عام شہری بھی ہلاک ہوئے۔  

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK