؍ ۲۵؍ کروڑ بچت کھاتے استعمال میں نہیں ہیں

Updated: August 19, 2021, 12:43 PM IST | Agency | New Delhi

سابقہ حکومت کے دور میں کھولے گئے ان ا کائونٹس میں موجودہ سرکاری اسکیم کے تحت لین دین نہ ہونے سے بینکوںکو پریشانی

More than 2 million women`s accounts are inactive.Picture:INN
موجودہ حکومت جن دھن کھاتوں کےتحت بلند دعوے کررہی ہے لیکن اس میں ۲؍ کروڑ سے زیادہ خواتین کے اکائونٹس غیرفعال ہیں۔ ۔تصویر: آئی این این

سابقہ حکومت کی سرکاری اسکیموں کو نظرانداز کرکے برسراقتدار طبقہ کس طرح عوامی شعبے کو نقصان کو پہنچاتا ہے اس کی ایک اور مثال سامنے آئی ہے۔ ایک تازہ رپورٹ کے مطابق سابقہ حکومت کے دورمیں سرکاری منصوبوں کے تحت براہ راست عوام کے اکائونٹ میں کسی اسکیم کی رقم کی منتقل کرنےکیلئے کھولے گئے ۲۵؍ کروڑ’ بیسک سیونگ بینک ڈپازٹ اکائونٹس( بی ایس بی ڈی اے) ایک طویل عرصے سے یہ استعمال میںنہیں ہے۔ کئی سرکاری اور نجی  بینکوں میں ایسےاکائونٹس اب بے کار ہیں۔    رپورٹ کے مطابق مئی ۲۰۱۴ء تک  یو پی اے حکومت کے دور میں کُل ۲۵؍ کروڑ بی ایس بی ڈی اکائونٹس جاری کئے گئے تھے  لیکن ۲۰۱۴ء بی جے پی حکومت  نے اقتدار سنبھالنے کے بعد میںاسی سال اگست جن دھن اسکیم متعارف کی اوربینکوں کو یہ واضح کردیا سرکاری یوجنائوں کے تحت کسی بھی رقم کی منتقلی اب ان ہی کھاتوں میں ہوگی۔   اس معاملے میں بینکوں کا کہنا ہے کہ بی جے پی حکومت کے ذریعے صرف جن دھن کھاتوں میں سرکاری یوجنائوں کے پیسے بھیجے  جانے سے اب ان کیلئے پہلے سے موجود ۲۵؍ کروڑ بی ایس بی ڈی کھاتوں کوبرقرار رکھنا بڑا چیلنج ثابت ہورہا ہے۔ بینکوں کا کہنا ہے کہ بڑی تعداد میں ایسے کئی ڈبل کھاتے ہیں جو دونوں  اسکیم کے تحت کھولے گئے ہیں چونکہ اب سرکاری اسکیم کے پیسے صرف جن دھن اکائونٹس میں ہی منتقل کئے جانے کے سبب اب کھاتہ دار بی ایس بی ڈی اکائونٹس پر کوئی توجہ نہیں دے رہے ہیں۔ بینکوں  کے مطابق ان کھاتوں میں کسی قسم کا لین دین نہ ہونے سے ان  اکائونٹس کو برقرار رکھنے میں ہونے والے اخراجات کے سبب بینکوں کو کافی نقصان اٹھانا پڑرہا ہے۔
 کورونا کے دور میں جن دھن اکائونٹس
 رپورٹ کے مطابق سرکاری امداد حاصل کرنے کیلئےکورونا کے دور میں اچانک جن دھن اکاؤنٹس کی تعداد میں اضافہ ہو گیا ہے۔ گزشتہ سال یکم اپریل تک ان کھاتوں تعداد ۳۸ء۷۴؍ تھی اور ان میں ۱ء۱۹؍لاکھ کروڑ رو پے جمع تھے۔ اب ۴؍ اگست ۲۰۲۱ء تک جن دھن کھاتوں کی تعداد۴۲ء۸۹؍ کروڑ تک پہنچ جانے اور ان میں ایک لاکھ۴۳؍ ہزار۸۳۴؍ کروڑ روپے کی رقم جمع  ہونے کا دعویٰ کیا جاتا ہے۔ اعداد وشمار کے مطابق  فی  الحال سرکاری بینکوں میں ۳۴؍ کروڑ، نجی بینکوں میں ۱ء۲۶؍ کروڑ اور دیہی بینکوں میں۷ء۷۳؍ کروڑ جن دھن کھاتے ہیں۔ایک تازہ رپورٹ کے مطابق ان میں ۵ء۸؍ کروڑ کھاتے غیر فعال ہیں اوران میں بھی ۲؍ کروڑ سے زیادہ غیر فعال اکائونٹس خواتین کے ہیں۔  واضح رہے کہ ریزرو بینک آف انڈیا کے قوانین کے مطابق جب کسی اکاؤنٹ میں لگاتار ۲؍ سال یا اس سے زیادہ عرصے تک کوئی لین دین نہیں ہوتا ہے تو وہ اکاؤنٹ غیر فعال  قرار دیا جاتاہے، اب جب حکومت کی تمام فلاحی اسکیموں اور دیہی روزگار کی گارنٹی کے تحت جاری کردہ  رقم  ان کھاتوں میں ہی بھیجی جاتی ہے تو ان اکاؤنٹس میں کسی سرکاری اسکیم کی رقم   منتقل کی  کئے جانے پر بھی کھاتہ دار دوبارہ اپنے شناختی دستایزاوت کی تصدیق کئے جانے تک اس رقم سے استفادہ نہیں کرسکتا۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK