دو سوسے زیادہ افراد کی تقریب کی اطلاع بی ایم سی کو دینا لازمی

Updated: December 22, 2021, 8:14 AM IST | Iqbal Ansari | Mumbai

ممبئی میں اومائیکرون کے بڑھتے ہوئے خطرات کے پیش نظر برہن ممبئی میونسپل کارپوریشن کی جانب سے پروگراموں کیلئے رہنما اصول جاری کئے گئے

Only those who have received both doses of the vaccine will now be exempt from various restrictions
اب وہی افراد مختلف پابندیوں سےآزاد رہیںگے جنہیںویکسین کا دونوں ڈوز  لگ چکا ہے

 کورونا اور اومائیکرون کے پھیلاؤ کو روکنے کی غرض سے برہن ممبئی میونسپل کارپوریشن (بی ایم سی) کی جانب سےشادی بیاہ اور دیگر تقریب کیلئے رہنما اصول جاری  کئے گئے ہیں۔ان اصولوں کے مطابق اگر کسی تقریب میں ۲۰۰؍ افراد سے زیادہ لوگ شرکت کر رہے ہوں تو  ان میں کورونا سے تحفظ کے اصولوں پر سختی سے عمل کرنا لازمی ہو گا اور ایسی تقریب کی پیشگی اطلاع مقامی اسسٹنٹ میونسپل کمشنر ( اے ایم سی) کو دینا ہوگی۔ مقامی اے ایم سی  اپنا نمائندہ بھیج کر یہ چیک کر سکتا ہے کہ کہ تقریب کے دوران کورونا سے بچاؤ کے اصولوں پر عمل کیا جارہاہے یانہیں۔اگر خلاف ورزی کی گئی تو متعلقہ منتظم کے خلاف جرمانہ وصول کارروائی کی جائے گی۔
 واضح رہے کہ ان دنوں بڑی تعداد میں شادی بیاہ کی تقریب کاانعقاد ہو رہا ہے اور عنقریب ہی کرسمس اور نئے سال کے جشن اور پارٹیوں کا بھی انعقاد کیا جائے گا۔ اسی لئے ممبئی کے میونسپل کمشنر اقبال سنگھ چہل نے ۲۰؍ دسمبر کو کسی بھی تقریب  کےانعقاد  سے متعلق رہنما اصول جاری کئے ہیں۔
  بی ایم سی کی جانب سے ۹؍ صفحات پر جاری کردہ رہنما اصولوں میں ۲؍ صفحات پر میونسپل کمشنر کا آرڈر ہے اور اس کےساتھ ۲۷؍ نومبر ۲۰۲۱ء کو ریاستی حکومت کی جانب سے جاری کردہ ۵؍ صفحات پر مشتمل آرڈر شامل ہیں جس میں کورونا سے تحفظ کےاصول اور جرمانہ کی تفصیل دی گئی ہے۔اس  کےعلاوہ  اس دوران ممبئی پولیس کمشنر کا وہ آڈر بھی منسلک کیاگیا ہے جس میں  ۳۱؍ دسمبر ۲۰۲۱ء تک حکم امتناعی(دفعہ۱۴۴؍) نافذ کرنے کی بات کہی گئی ہے۔
نافذ کردہ پابندیاں
 ھ کسی بھی سماجی، مذہبی یا سیاسی پروگرام/ تقریب/ اجتماع/ شادی/ پارٹی/ میٹنگ یا  سرگرمی ہونے کی صورت میں بند جگہوں پر جگہ کی گنجائش کے۵۰؍ فیصد تک لوگوں کوشرکت کی اجازت ہوگی۔
ھ کھلے ہوئے ہال یاجگہ میںمنعقدہ تقریب  میں کل گنجائش  کے  ۲۵؍ فیصد افراد کو ہی شرکت کی اجازت ہوگی۔
ھ ان تقریبات میں شہریوں کے درمیان ۶؍ فٹ  کا فاصلہ رکھنا لازمی ہوگا۔
ھکووڈ کےاصول’ سی اے بی‘ کےضوابط پر عمل کرنا لازمی ہوگا۔
ھجس تقریب میں ۲۰۰؍ سے زیادہ افراد شرکت کر رہے ہیں اس تعلق سے مقامی اسسٹنٹ میونسپل کمشنر ( اے ایم سی) سے پیشگی تحریری اجازت لینا لازمی ہے۔ متعلقہ افسر اپنے نمائندے کو تقریب کا جائزہ لینے بھیجے گا اور تصدیق کرے گا کہ اصولوں پر عمل کیاجارہا ہے یا نہیں۔
ھبی ایم سی کی جانب سے ہر وارڈ میں متعدد ٹیم تشکیل دینے کا بھی اعلان کیا گیا ہے جو تقاریب پر نگاہ رکھے گی  اور خلاف ورزی کرنے والوں کےخلاف کارروائی کرے گی۔
ھکورونا سے بچاؤ کے اصولوں پر عمل نہ ہونے پر تعزیرات ہند۱۸۶۰،  ڈیزاسٹر مینجمنٹ ایکٹ ۲۰۰۵ء کے تحت سزا دی جائے گی۔
ھانہی شہریوں کو تقریب میں شرکت کی اجازت دی جائے گی جنہوں نے دونوں ڈوزلیا ہوگا  اور دوسرے ڈوز کو ۱۴؍ دن گزر چکا ہے۔ ان کےعلاوہ طبی وجوہات کے سبب شہری ویکسین نہیں لگا سکتا ہو   یا  شہری کی عمر ۱۸؍ سال سے کم ہوں۔
ھریاستی حکومت کےمطابق کورونا کے اصولوں  کےخلاف ورزی کرنے والے فرد سے ۵۰۰؍ روپے جبکہ ادارے یا اسٹیبلشمنٹ سے ۱۰؍ ہزار روپے جرمانہ وصول کیا جائے گا۔
ھکسی بھی ہال، دکان، اسٹیبلشمنٹ،  شاپنگ مال،  تقریب، اجتماع میں وہی افراد شریک ہوں جن کی مکمل طورپر ٹیکہ کاری ہوچکی ہو۔
ھایسی جگہوں پر آنے والے تمام میزبانوں  اور مہمانوں کیلئے بھی لازمی ہےکہ وہ مکمل طور پر ٹیکہ لگا چکے ہوں۔
ھتمام پبلک ٹرانسپورٹ صرف مکمل ویکسین شدہ افراد ہی استعمال کریں گے۔
ھمہاراشٹر میں سفر کرنے والے تمام افراد یا تو مکمل طور پر ٹیکے لے چکے ہوں  یا ۷۲؍ گھنٹے پہلے کی آر ٹی پی سی آر ٹیسٹ کی نگیٹیو رپورٹ اپنے  پاس رکھتے ہوں۔

bmc Tags

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK