کسان آندولن کا ایک سال مکمل ، کامیابی کا جشن

Updated: November 26, 2021, 10:18 AM IST | new Delhi

مظاہرہ گاہوں پر آج ایک لاکھ تک کی بھیڑ متوقع، جب تک حکومت گفتگو نہیں کرتی اور تمام مسائل حل نہیں ہوتے تب تک احتجاج جاری رکھنے کا اعلان

Rakesh Takit participated in a farmers` `Maha Dharna` in Telangana on Thursday.
راکیش ٹکیت نے جمعرات کو تلنگانہ میں کسانوں کے ’مہا دھرنا‘ میں شرکت کی۔

 ایک سال کی جدوجہد اور دہلی کی سرحدوں پر مسلسل  احتجاج کے ذریعہ تینوں  زرعی قوانین کی منسوخی کے اپنے کلیدی مطالبے کو منظور کرالینے کی خوشی سے سرشار کسان  جمعہ کو آندولن کے ایک سال مکمل ہونے پر  بڑی تعداد میں مظاہرہ گاہ پہنچ رہے ہیں۔  اس بیچ تلنگانہ میں منعقدہ ’’مہا دھرنا‘‘ سے خطاب کرتے ہوئے کسان یونین کے لیڈر راکیش ٹکیت نے اعلان کیا ہے کہ یہ تحریک اس وقت تک جاری رہےگی جب تک کہ حکومت گفتگو کا سلسلہ بحال نہیں کرتی اور دیگر مسائل حل نہیں  ہوتے۔  
کسان جوق درجوق دہلی پہنچے
 جمعرات کو پنجاب، ہریانہ اور یوپی کے مختلف علاقوں سے ہزاروں کی تعداد میں کسانوں  کے جتھے کے جتھے ٹیکری بارڈر ، سنگھو بارڈر اور غازی پوربارڈر کیلئے روانہ ہوئے۔ ان میں خواتین کی بھی بڑی تعداد ہے۔ کسان تنظیموں کو امید ہے کہ   آندولن کی پہلی سالگرہ  پر مظاہرہ گاہوں  پر ایک لاکھ  سے زیادہ مظاہرین اکٹھا ہوںگے۔ مظاہرہ گاہوں  پر کسانوں کے پہنچنے کا یہ سلسلہ کئی دنوں سے جاری ہے۔ بدھ کو بھی بڑی تعداد میں کسان  مظاہرہ گاہ پہنچے جو زرعی قوانین کی منسوخی کی شکل میں تحریک کی بڑی کامیابی کے جشن کیلئے اپنے ساتھ مٹھائی بھی لائے ہیں۔  جمعہ کو یہاں جشن  مناتے ہوئے کسانوں کی جانب سے مختلف قسم کے پروگرام منعقد کئے جانے کی امید ہے۔ 
دیگر مطالبات کی منظوری کا بھی یقین
 سنگرور سے پہنچنے والے کرنیل سنگھ کو امید ہے کہ زرعی قوانین کی منسوخی کی طرح ہی ایم ایس پی کی قانونی ضمانت اور دیگر مطالبات کو بھی وزیراعظم منظور کرلیں گے۔بھارتیہ کسان یونین  کے جنرل سیکریٹری پرگت سنگھ نے بڑی تعداد میں پہنچنے والے کسانوں کے کھانے پینے کے انتظامات کے تعلق سے بتایا کہ ’’اس کیلئے ہم نے ۳؍ کمیٹیاں بنا دی ہیں۔‘‘ان کے مطابق چونکہ زیادہ تر کسان بوائی کے کام سے فرصت پاچکے ہیں، اس لئے جمعہ کو  بڑی تعداد  مظاہرہ گاہ پہنچے گی۔ بھارتیہ کسان یونین کے ایک اور لیڈر پرشوتم سنگھ گل نےبتایا کہ اب تک جو کسان مظاہرہ گاہ پہنچے ہیں ان کا تعلق موگا، بھٹنڈا، فرید کوٹ، سنگرور اور امرتسر سے ہے۔ 
کسان اپنے مطالبات پر اٹل 
 کسانوں نے حکومت کے سامنے واضح کر دیا ہے کہ محض زرعی قوانین کی منسوخی سے وہ احتجاج ختم نہیں کردیں گے بلکہ  اپنے دیگر مطالبات بھی منوائے بغیر گھروں کو نہیں  لوٹیں گے۔ان میں  احتجاج کے دوران کسانوں پر درج ہونےوالے  مقدمات ختم کرنے اور مرکزی وزیر اجے مشرا ٹینی کے خلاف کارروائی اور مرکزی کابینہ سے ان کی برطرفی کا مطالبہ شامل ہے۔ 
راکیش ٹکیت نے مذاکرات کی بحالی پر زور دیا
 بھارتیہ کسان یونین کے ترجمان راکیش ٹکیت نے جمعرات کو پھر اعلان کیا کہ صرف زرعی قوانین کی منسوخی سے کسانوں  کے مسائل حل نہیں  ہوں گے۔ ان کے مطابق’’احتجاج اس وقت تک جاری رہے گا جب تک کہ مرکزی حکومت کسانوں  سے ان کےمطالبات پر مذاکرات کا سلسلہ شروع نہیں کرتی جس میں ایم ایس پی کی قانونی ضمانت کا مطالبہ بھی شامل ہے۔‘‘
تلنگانہ کی جانب سے مہلوک 
کسانوں کے اہل خانہ کیلئے معاوضہ کا اعلان 
 اس بیچ تلنگانہ کے وزیراعلیٰ کے چندر شیکھر راؤ نے اعلان کیا ہے کہ سال بھر کے آندولن  کے دوران فوت ہونےو الے ۷۵۰؍ کسانوں  کے اہل خانہ کو ریاستی حکومت ۳۔۳؍ لاکھ روپے کی عبوری راحت دیگی۔ اس کا خیر مقدم کرتے ہوئے راکیش ٹکیت نے کہا ہے کہ مرکز کو بھی فوت ہونے والے کسانوں کے اہل خانہ کیلئے عبوری راحت کا اعلان کرنا چاہئے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK