یو رپ اور افریقہ کے تارکین وطن میں تفریق کا الزام

Updated: June 17, 2022, 9:34 AM IST | New York

اقوام متحدہ نےتشویش کا اظہار کیا ، پناہ گزینوں سے متعلق ادارےکے ہائی کمشنر فلیپو گرانڈی کے بقول :’’یوکرین کے پناہ گزینوں کا جس انداز اور سخاوت کے ساتھ استقبال ہوا ہے ،وہ دوسرے ممالک کے پناہ گزینوں کے ساتھ نہیں ہوا ۔‘‘ پناہ کے متلاشی ایسے تمام افراد کیلئے رقم فراہم کرنے کامطالبہ کیا

Queue for immigrant vehicles in a village in Greece. (AP / PTI)
یونان کے ایک گا ؤں میں تارکین وطن گاڑیوں کیلئے قطار میں ۔ ( اے پی / پی ٹی آئی)

اقوام متحدہ کے  پنا ہ گزینوں سے متعلق ادارے کے  مطابق یو رپ اور افریقہ کے تارکین وطن کے درمیان تفریق کی جاتی ہے ۔ یورپی تارکین وطن کا کھلے دل  سے استقبال کیا جاتا ہے جبکہ افریقی ممالک کے تارکین وطن سے متعلق سرد مہری کا مظاہرہ کیا جاتا ہے ، حالانکہ وہ   دہری مشکلا ت کا سامنا کرتے ہیں۔
 یو رپی یونین کا امتیازی سلوک 
   اس سلسلے میںاقوام متحدہ کے  پناہ گزینوں سے متعلق ادارے کے  ہائی کمشنر فلیپو گرانڈی نے بتایا کہ تارکین وطن کے بحران  سے متعلق یورپی یونین کا رد عمل غیر مساوی رہا ہے۔ ان کے مطابق یوکرین کے پناہ گزینوں کا جس انداز اور سخاوت کے ساتھ استقبال ہوا ہے وہ دوسرے ممالک کے پناہ گزینوں کے ساتھ نہیں ہوا اور پناہ کے متلاشی ایسے تمام افراد کیلئے اسی طرح سے رقم فراہم کی جانی چاہئے۔ یقینی طور پر یہ ایک اہم نکتہ ہے جو  ثابت کرتا ہے کہ امیر ممالک کے ساحلوں یا سرحدوں پر غریب ممالک کے پناہ گزینوں کی آمد پرمنفی رد عمل ہوتا ہے اور  انہیں جس طرح روکنے کی کوشش کی جاتی ہے، وہ کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں ہے۔
دوسرے بحرانوں کو فراموش نہ کرنے کی اپیل 
 گرانڈی کا یہ بھی کہنا تھا کہ اس وقت تمام وسائل یوکرین کا بحران حل کرنے میں  لگائے جا رہے ہیں جبکہ دنیا بھر میں دیگر پروگراموں کیلئے فنڈز بہت کم ہیں۔ انہوں نے ایتھوپیا میں تنازعات اور  افریقی ممالک میں خشک سالی کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ یوکرین کی وجہ سے ہمیں دوسرے بحرانوں کو فراموش نہیں کرنا چاہئے۔
 افریقی ممالک کی مشکلات میںاضافہ 
 گرانڈی نے کہا کہ زیادہ سے زیادہ لوگ ایندھن کی قیمتوں میں اضافے، موسمیاتی تبدیلیوں اور تشدد سے بچنے کیلئے افریقہ کے ساحلی علاقوں سے فرار ہو رہے ہیں۔ یہ بے گھر لوگ بحران سے بچنے کیلئے شمالی یورپ کا رخ کر سکتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ یہ خطہ پہلے ہی برسوں کی خشک سالی اور سیلاب کی مار جھیلتا رہا ہے اور اس کے ساتھ ہی اسے آمدنی میں عدم مساوات، صحت کی خراب دیکھ بھال اور خراب حکمرانی کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ اب غذائی تحفظ کے بڑھتے ہوئے بحران نے مشکلات میں مزید اضافہ کر دیا ہے۔
 اس خطے پر بھی توجہ دیجئے 
 انہوں نے یہ بھی کہا، ’’میں ساحلی علاقوں  سے متعلق بہت پریشان ہوں اور میں نہیں سمجھتا کہ ہم اس خطے کے بارے میں  بات  چیت بھی کر رہے ہیں، جو یورپ کے بہت قریب ہے۔ میرے خیال سے اس بارے میں یورپ کو زیادہ فکر مند ہونا چاہئے۔ساری توجہ یوکرین ہی پر مر کوز نہیں کرنی چاہئے  ۔ ‘‘
 اب تک کا سب سے بڑا بحران
  اسی دوران اقوام متحدہ نے یہ بھی بتایا ہےکہ  دوسری عالمی جنگ کے بعد دنیا بھر میں  اب تک سب سے زیادہ تعداد  میں لوگ بے گھر ہوئے  ہیں۔ عالمی ادارے کی  ایک رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ افریقہ کے ساحلی علاقوں سے یورپ کی طرف آنے والے تارکین وطن میں اضافہ ہو سکتا ہے۔پناہ گزینوں سے متعلق اقوام متحدہ کے ادارے نے جمعرات کوبتایا کہ گزشتہ برس کے دوران دنیا بھر میں۱۰؍ کروڑ ا فراد اپنے گھر بار چھوڑنے پر مجبور ہوئے۔ رپورٹ کے مطابق دوسری عالمی جنگ کے بعد بے گھر ہونے والے افراد کی یہ سب سے زیادہ تعداد ہے۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ یوکرین، وینزویلا، میانمار، شام اور اس کے علاوہ دیگر بحرانوں کی وجہ سے صورتحال مزید خراب ہوتی جا رہی ہے۔
 ادارے نے اپنی گلوبل ٹرینڈز رپورٹ میں کہا ہے کہ۱۹۵۱ء میں تارکین وطن سے متعلق اقوام متحدہ کے ادارے (یو این ایچ سی آر) کے قیام کے بعد سے پہلی بار یوکرین میں پناہ گزینوں کا سب سے بڑا اور تیزی سے بڑھتا ہوا بحران سامنے آیا ہے۔
 یوکرین پر روسی حملے کے ساتھ ساتھ افغانستان کا بحران بھی ان اہم واقعات میں سے ایک ہے، جس کی وجہ سے تقریباً ۱۰؍ کروڑ افراد کو مجبوری میں بے گھر ہونا پڑا۔ اس تازہ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ گزشتہ دہائی کے دوران ہر برس اس رجحان میں اضافہ ہوتا رہا ہے۔پناہ گزینوں سے متعلق اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر فلیپو گرانڈی نے کہا کہ پناہ کے متلاشی افراد میں اضافے کا یہ رجحان اس وقت تک جاری رہے گا، جب تک عالمی برادری تنازعات کو حل کرنے اور حل تلاش کرنے کی سمت میں اہم اقدامات نہیں کر رہی ہے۔
 بے گھر ہونے والے افراد سے متعلق انتباہ 
 اقوام متحدہ کے ادارے کے مطابق یوکرین کی جنگ نے غذائی تحفظ کا بحران پیدا کر دیا ہے۔ جو غریب ممالک میں مزید افراد کو اپنے گھر بار چھوڑنے پر مجبور کرے گا۔فلیپو گرانڈی کے مطابق جنگ، انسانی حقوق اور آب و ہوا جیسے  مسائل  کے ساتھ اگر خوراک کا بحران بھی ہے تو  حالات مزید خراب ہوں گے اور بے گھر ہونے والوں کی تعداد میں غیرمعمولی اضافہ ہوگا ۔ 

immigrants Tags

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK