ہندوستانمیں انٹرنیٹ سے منسلک سیکوریٹی کیمروں کی آن لائن فروخت سے متعلق ضوابط کی خلاف ورزی سامنے آنے کے بعد امیزون اور والمارٹ کی ملکیت والے فلپ کارٹ نے اپنے پلیٹ فارمز پر موجود سیکوریٹی کیمروں کی لسٹنگز کی جانچ سخت کردی ہے۔
EPAPER
Updated: October 03, 2026, 4:07 PM IST | New Delhi
ہندوستانمیں انٹرنیٹ سے منسلک سیکوریٹی کیمروں کی آن لائن فروخت سے متعلق ضوابط کی خلاف ورزی سامنے آنے کے بعد امیزون اور والمارٹ کی ملکیت والے فلپ کارٹ نے اپنے پلیٹ فارمز پر موجود سیکوریٹی کیمروں کی لسٹنگز کی جانچ سخت کردی ہے۔
ہندوستانمیں انٹرنیٹ سے منسلک سیکوریٹی کیمروں کی آن لائن فروخت سے متعلق ضوابط کی خلاف ورزی سامنے آنے کے بعد امیزون اور والمارٹ کی ملکیت والے فلپ کارٹ نے اپنے پلیٹ فارمز پر موجود سیکوریٹی کیمروں کی لسٹنگز کی جانچ سخت کردی ہے۔ یہ اقدام ایک حالیہ تحقیقات کے بعد سامنے آیا ہے جس میں سیکڑوں ایسے سیکیورٹی کیمرے آن لائن فروخت ہوتے پائے گئے جو متعلقہ سرکاری منظوری یا تصدیق کے بغیر درج کیے گئے تھے۔
رپورٹ کے مطابق امیزون اور فلپ کارٹ تیسرے فریق کے فروخت کنندگان اور برانڈز کی جانب سے درج کیے گئے انٹرنیٹ سے منسلک نگرانی والے کیمروں کا جائزہ لے رہے ہیں۔ ایسی مصنوعات جن کے لیے ضروری سرکاری منظوری موجود نہیں ہوگی، انہیں پلیٹ فارمز سے ہٹایا جا سکتا ہے۔ امیزون نے اس معاملے پر تبصرہ کرنے سے گریز کیا، جبکہ فلپ کارٹ کی جانب سے بھی فوری طور پر کوئی جواب نہیں دیا گیا۔ روئٹرز کی جانب سے کی گئی جانچ میں امیزون اور فلپ کارٹ پر موجود تقریباً ۷۷۰؍ انٹرنیٹ سیکوریٹی کیمروں کی لسٹنگز کا جائزہ لیا گیا، جن میں ۷۰۰؍ سے زیادہ ماڈلز بیورو آف انڈین اسٹینڈرڈز (بی آئی ایس) کے عوامی طور پر دستیاب منظور شدہ برانڈز یا کیمروں کے ڈیٹا بیس میں نظر نہیں آئے۔ رپورٹ سامنے آنے کے بعد کم از کم ایک درجن لسٹنگز کو ہٹائے جانے کی اطلاع ہے۔
یہ بھی پڑھئے:تمل ناڈو کے وزیرِ اعلیٰ وجے بس کنڈکٹر بن گئے، خواتین کو خود مفت ٹکٹ دیے
ہٹائی جانے والی مصنوعات میں ہک وژن کے ایز وز برانڈکے کم از کم دو ماڈلز بھی شامل تھے، جنہیں امیزون پر بعد میں ’’فی الحال دستیاب نہیں‘‘ دکھایا گیا۔ رائٹرز کے مطابق ہک وژن اورزیجیانگ داہوا ٹیکنالوجی کی ہندوستانی سیکوریٹی کیمرا مارکیٹ میں مشترکہ طور پر تقریباً ۳۰؍ فیصد حصہ داری ہے، جیسا کہ کاؤنٹرپوائنٹس ریسرچ کے حوالے سے بتایا گیا ہے۔ ہندوستان میں سیکوریٹی کیمروں کے لیے سائبر سیکوریٹی سے متعلق تقاضے پہلے ہی سخت کیے جا چکے ہیں۔ وزارتِ الیکٹرانکس و انفارمیشن ٹیکنالوجی (MeitY) کے مطابق سی سی ٹی وی کیمروں کو سیکوریٹی سے متعلق ایسینشل رکوائرمنٹ کی تعمیل کرنا ضروری ہے، جبکہ متعلقہ سیکوریٹی ٹیسٹنگ رپورٹ ڈائریکٹوریٹ یا حکومت کی جانب سے نامزد ادارے سے جاری کی جا سکتی ہے۔ان ضوابط کے تحت کیمرے کے اہم ہارڈویئر اور سافٹ ویئر سے متعلق سیکوریٹی پہلوؤں کی جانچ کی جاتی ہے۔ اس میں سسٹم آن چِپ یا پروسیسر جیسے اہم اجزا کی معلومات، ممکنہ کمزوریوں سے تحفظ اور غیر مجاز ریموٹ رسائی کے خطرات جیسے پہلو شامل ہیں۔انٹرنیٹ سے منسلک سی سی ٹی وی کیمروں کو عام کیمروں کے مقابلے میں زیادہ حساس سمجھا جاتا ہے، کیونکہ یہ ویڈیو ڈیٹا کو نیٹ ورک کے ذریعے منتقل کرسکتے ہیں اور بعض ماڈلز میں دور بیٹھ کر لائیو ویڈیو دیکھنے کی سہولت بھی موجود ہوتی ہے۔ سائبر سیکوریٹی کے ماہر اور سابق حکومتی سائبر سیکوریٹی عہدیدار گلشن رائے نے رائٹرز کو بتایا کہ اگر کوئی کیمرا متاثر یا ہیک ہوجائے تو وہ نگرانی کے خطرے کے ساتھ ساتھ کسی نیٹ ورک میں داخل ہونے کا راستہ بھی بن سکتا ہے۔
یہ بھی پڑھئے:ایشین گیمز :لَوِلینا، پروین اور انکش کا گولڈن پنچ
روئٹرز کی تحقیقات میں بعض ایسے وائی فائی کیمرے بھی سامنے آئے جو موبائل فون یا ٹیبلٹ کے ذریعے دور سے لائیو ویڈیو دیکھنے کی سہولت فراہم کرنے کا دعویٰ کرتے تھے۔ ایسی خصوصیات نے انٹرنیٹ سے منسلک نگرانی کے آلات کی سائبر سیکوریٹی اور ڈیٹا پرائیویسی سے متعلق خدشات کو مزید نمایاں کیا ہے۔
نئی صورتحال میں صارفین اور کاروباری اداروں کے لیے صرف برانڈ کا نام دیکھنا کافی نہیں ہوگا، بلکہ خریداری سے پہلے متعلقہ کیمرا ماڈل کی سرکاری منظوری اور تصدیق کی حیثیت جانچنا زیادہ اہم ہوسکتا ہے۔ حکومت کے ضوابط کے مطابق سی سی ٹی وی کیمروں کے لیے مخصوص سیکوریٹی تقاضے موجود ہیں۔