کورونا گائیڈ لائن کے دائرےمیں جلوس عاشورہ کا اہتمام

Updated: August 21, 2021, 8:18 AM IST | saeed ahmed khan | Mumbai

زینبہ امام باڑہ سے ۴؍بجے جلوس نکالا گیا ۔شرکاء جلوس ۷؍لاریو ںپر سوار تھے۔پولیس کا سخت بندوبست ۔شام غریباں کی مجلس میں۲۵؍ افراد کی شرکت

In the procession of Ashura, the participants were riding on 7 trucks on which 5 condolences and 2 knowledge were also placed.Picture:Inquilab
جلوس عاشورہ میں شرکاء ۷؍ٹرکوں پر سوار تھے جن پر ۵؍ تعزیے اور ۷؍علم بھی رکھے ہوئے تھے۔ تصویر انقلاب

:سیدنا امام حسینؓاورخانوادۂ اہل بیت کی عظیم قربانی کو یادکرتے ہوئے حسب روایت  عاشورہ کاجلو س زینبیہ امام باڑہ سے نکالا گیا اورطے شدہ راستہ سے ہوتے ہوئے رحمت آباد قبرستان پہنچا۔جلوس برآمد ہونے سے قبل زینبیہ امام باڑہ میںآخری سجدے کی مجلس مولانا جعفر عباس نے پڑھی جبکہ رحمت آباد قبرستان میںشام غریباں کی مجلس مولانا مرزا محمدیعسوب عباس نےپڑھی ۔ ان مجالس میںواقعات کربلا کی تفصیلات سن کر حاضرین پرگریہ وزاری طاری ہوگئی ۔ 
قربانی کویاد کیا گیا 
 ہرسال عاشورہ کے دن جلوس کا اہتمام کیا جاتاہے ۔ اس کےذریعے کربلا میںامام عالی مقام اورخانوادۂ اہل بیت کی قربانی کویاد کیا جاتا ہے۔ امام حسین ؓنے اس عظیم قربانی کے ذریعے دنیائے انسانیت کو یہ پیغام دیا کہ خواہ حالات کیسے ہی ہوں، حق اورسچائی سے ہرگز سمجھوتہ نہ کیا جائے اور مشکل حالات میں بھی حق کا پرچم اس طرح بلند کیاجائے جس سے حق اورباطل کے درمیان خط فاصل کھنچ جائے ۔ چنانچہ اس عظیم قربانی سے رہتی دنیا تک روشنی حاصل کی جاتی رہے گی ۔ امام حسینؓنے جام ِ شہادت نوش کیا لیکن کسی قیمت پر یہ گوارا نہ فرمایا کہ دین حنیف پرحرف آئے یا باطل کے سامنےاس کی شرطوں کو قبول کرتے ہوئے ہتھیار ڈالا جائے ۔منتظمین کے مطابق جلوس کے ذریعے یہی پیغام عام کیا جاتا ہے۔ 
جلوس اوراس کے راستے 
 ممبئی ہائی کورٹ نے کورونا گائیڈ لائن پر عمل آوری کا حکم جاری کرتے ہوئے آل انڈیاادارۂ تحفظ حسینیت کی عرضی پر۱۰۰؍ایسے لوگو ںکوجلوس میںشرکت کی اجازت دی تھی جو کورونا سے بچنے کےلئے ٹیکے کی ۲؍خوراک لے چکے ہوں چنانچہ اس کا اہتمام کیا گیا اورایسے لوگوں کی فہرست بھی پولیس کو سونپی گئی ۔اس میںاس بات کا خیال رکھا گیا کہ عزادارو ں کی مختلف انجمنوں کے ذمے داران کی نمائندگی بھی ہوجائے ۔
 جمعہ کو ۴؍بجے عاشورہ کا جلوس برآمد ہوا اور اپنے قدیمی راستوں یعقوب گلی ، جے جے جنکشن، سینٹ میری ہائی اسکو ل، مجگاؤں سرکل ، سیلز ٹیکس ہوتے ہوئے رحمت آباد قبرستان پہنچا اور شام غریباں کی مجلس کے بعدختم ہوا ۔شرکاءجلوس نے امام عالی مقام کو یاد کرتے ہوئے نعرے بلند کئےاورماتم کیا ۔
 عدالت کے حکم کی روشنی میں طے شدہ ترتیب کے لحاظ سےشرکاء جلوس ۷؍لاریوں پر سوار تھے اوراس پر۵؍تعزیے اور ۷؍علم اورتابو ت بھی رکھے ہوئے تھے۔چونکہ رحمت آباد قبرستان میںشام غریباں کی مجلس میں۲۵؍ لوگوں کے ہی شریک ہونے کی اجازت دی گئی تھی اس بناءپر ۲۰۰؍ میٹر پہلے ہی لاریوں کوروک دیا گیا اورتعزیہ ، تابوت اورعلم یہی ۲۵؍شرکاء رحمت آباد قبرستان لے گئے۔ 
 سیکوریٹی کے اعتبار سےپولیس کے جوان راستے بھر تعینات تھے جبکہ آل انڈیا ادارۂ تحفظ حسینیت کی جانب سے پہلے ہی شرکاء جلوس سے کہا گیا تھا کہ عدالت کے حکم کی تعمیل اورکورونا سے متعلق ریاستی حکومت کی گائیڈ لائن پرپوری طرح سے عمل کیا جائے اوراس موقع پرہماری طرف سے ایسا کوئی عمل نہیںہونا چاہئے جو ہدایات پر عمل کیخلاف ہویا اس کی بنیاد پر کسی کو لب کشائی کا موقع ملے ۔یہ تفصیلات مذکورہ ادارہ کے صدر ذوالفقار زیدی نے نمائندۂ انقلاب کے استفسارپر مہیا کروائیں۔ 
شربت کی تقسیم 
 کورونا کےسبب جلسے جلوس کے اہتمام پر حکومت نے پابندی عائد کررکھی ہے اسی سبب انتہائی محدود تعداد میںبھنڈی بازار سے عاشورہ کا جلوس نکالا گیا ۔ لیکن اس کے برخلاف مسلم علاقوں میںلوگوں نے حضرت امام حسین ؓکی قربانی اور کربلا کے پیاسوں کی یاد میں شربت تقسیم کئے ۔ 
 اس تعلق سے خاص طور پرنوجوانوں نے حصہ لیا اور راہ گیروں کے علاوہ گھر گھر شربت پہنچایا۔ مدن پورہ ، بھنڈی بازار، ممبئی سینٹرل ، ماہم ، باندرہ ،کرلا ، گوونڈی ،مالونی ، وکھرولی ، گھاٹکوپر، میرا روڈ ، مانخورد، چیتا کیمپ، رفیع نگر ، ملاڈ ، وڈالا ، اوردیگر علاقوں میںرابطہ قائم کرنےپر اس اہتمام کے تعلق سے لوگوں نےمعلومات فراہم کروائی اوردیگر انداز میںبھی اس موقع پرلوگوں کی راحت رسانی کی کوشش کی گئی۔اس بات کا خصوصی خیال رکھا گیا کہ کسی کو کوئی تکلیف نہ پہنچے۔

muharram Tags

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK