آرین خان کو بہت پہلے ضمانت مل جانی چاہئے تھی: نواب ملک

Updated: October 31, 2021, 10:19 AM IST | Iqbal Ansari | Mumbai

روزانہ ایک نیا انکشاف کرنے والے ریاستی وزیر کے مطابق گرفتاری کے وقت شاہ رخ کے بیٹے کے پاس سے کوئی منشیات برآمد نہیں ہوئی تھی انہیں سمیر وانکھیڈے نے جھوٹے کیس میں پھنسایا تھا

Fans celebrate outside Shah Rukh`s house on Aryan`s release.Puicture:Inquilab
آرین کی رہائی پر شاہ رخ کے گھر کے باہر جشن مناتے ہوئے ان کے مداح تصویر انقلاب

آرین خان کی گرفتاری اور نارکوٹکس کنٹرول بیورو کی کارروائیوں پر کسی تفتیشی افسر کی طرح روازنہ ایک نیا انکشاف کرنے والے مہاراشٹر حکومت کے وزیر برائے اقلیتی امور نواب ملک  نے  آرین خان کی رہائی پر کہا ہے کہ انہیں  اس معاملے میں بہت پہلے ضمانت مل جانی چاہئے تھی۔ ان کا کہنا ہے کہ این سی بی نے انہیں جھوٹے کیس میں پھنسایا تھا۔  یاد رہے کہ ۲؍ اکتوبر کو کروز پارٹی  سے گرفتار کئے گئے  سپر اسٹار شاہ رخ خان کے فرزند آرین خان کو  ۲۶؍ دنوںکی جدو جہد کے بعد جمعرات کو ضمانت دیدی گئی تھی جبکہ وہ کاغذی کارروائی کے بعد  سنیچر کو ضمانت  رہا ہو کر گھر آ گئے۔ 
  اس موقع پر ریاستی وزیراور این سی پی کے قومی ترجمان نواب ملک نے کہا کہ ’’ آرین خان کے پاس سے کوئی منشیات  بر آمد نہیں ہوئی  تھی اسے بہت پہلے ہی  ضمانت مل جانی چاہئے تھی لیکن نارکوٹیکس کنٹرول بیورو(این سی بی) نے جھوٹا معاملہ  درج کرکے انہیں گرفتار کیا اور انہیں جیل میں بند رکھا۔‘‘ اس سلسلے میں نواب ملک نے کہا کہ ’’ اگر کوئی دہشت گرد ہے، مجرمانہ ریکارڈ رکھنے والا شخص ہے تو اسے یقینی طور پر جیل میں رکھا جانا چاہئے ۔ لیکن ضمانت لوگوں کا حق ہے۔جو لوگ فرار ہونے والوں میں نہیں ہیں اور جانچ میں ہر طرح سے تعاون کرنے والے ہیں ایسے لوگوں کو جیل میں رکھ کر پبلی سٹی حاصل کرنا درست نہیں ہے۔ یہ کام سمیر داؤد وانکھیڈے کر رہے تھے ۔ ‘‘
 انہوںنے مزید کہاکہ’’  جس وقت این سی بی نے کروز پر چھاپہ مارا  تھا اس وقت آرین خان کےپاس سے یا اس کے موزے سے این سی بی کو کچھ نہیںملا تھا ۔منشیات برآمد ہونے کا دعویٰ کرتے ہوئے جو ویڈیو میڈیا کو فراہم کیا گیا ہے وہ این سی بی کے آفس کا ہے اور اسے منصوبہ بند طریقے سے پیش کیا گیا ہے۔‘‘کابینی وزیر  نے مزید کہا کہ ’’ سمیر وانکھیڈے نے کس کس طرح بے گناہو ں کو فرضی معاملات میں پھنسایا ہے اس کے ثبوت ہم نے ڈھونڈ نکالے ہیں۔‘‘
 نواب ملک نے اپنے ٹویٹر اکائونٹ پر  یہ شعر بھی ٹویٹ کیا ہے کہ
 ’’ یہ عشق نہیںآساں،بس اتنا سمجھے لیجے،
 اک آگ کا دریا ہے اور ڈوب کے جانا ہے‘‘
  واضح رہے کہ نوا ب ملک   آرین خان کی گرفتاری کے بعد سے ہی این سی پی کے خلاف محاذ کھولے ہوئے ہیں اورایک کے بعد ایک انکشافات کرتے جارہے ہیں ۔ انہوںنے این سی بی کے ژونل ڈائریکٹر سمیر وانکھیڈے  پر بھی کئی طرح کے  الزامات عائد کئے ہیں۔ ان کا کہنا  ہے کہ  سمیر وانکھیڈے  نے بی جے پی  لیڈروں کے کہنے پر یہ سارا کھیل رچایا ہے۔  نواب ملک نے اس معاملے میں بی جے پی کے بڑے لیڈروں کے ملوث ہونے کا بھی انکشاف کیا ہے۔
سمیر وانکھیڈے ایک پرائیویٹ آرمی چلا کر دہشت پیدا کر رہے تھے 
   نواب ملک نے میڈیا کے سامنے یہ دعویٰ بھی کیا  کہ وہ مستقبل میں ثابت کریں گے کہ سمیر وانکھیڈے نے سرکاری افسران یا ملازمین کی خدمات حاصل کئے بغیر پرائیویٹ فوج بنا  رکھی تھی جس کے دم پر وہ لوگوں کے اندر  دہشت پیدا کر رہے تھے۔ نواب ملک نے کہا کہ کروز پر ریو پارٹی ( منشیات نوشی )ہوئی تھی س میں منشیات ایک ریسٹورنٹ سے آنے والے کھانے کے ساتھ گئی تھی۔ نواب ملک نے دعویٰ کیا ہے جلد ہی وہ ثبو ت بھی پیش کریں گے ۔ انہوں نے کہا‘‘ میں  این سی بی کے ڈی جی کو یہ ثبوت دوں  گا۔ نواب ملک کا الزام ہے کہ ’ ’یہ سب کچھ( این سی بی  کے) دفتر میں لا کر کیا جاتا ہے۔ کورے کاغذ پر دستخط لئے جا رہے ہیں۔ سمیر وانکھیڈے نے ایک پرائیویٹ آرمی بنائی ہے جس میںفلیچرپٹیل، عادل عثمانی، کے پی گوساوی، منیش بھانوشالی جیسے بہت سے لوگ شامل ہیں۔‘‘ 
  ریاستی وزیر  نے دعویٰ کیا کہ ’’ یہ سب لوگ گھروں میں گھس کر منشیات رکھ رہے ہیں اور لوگوں پر جھوٹے مقدمےبناکر  انہیںپھنسارہے ہیں۔ ‘‘ انہوں نے کہا کہ ’’گزشتہ روز فرنیچر والا نامی لڑکی نے بتایا کہ کس طرح اس کی بہن کو جھوٹے کیس میں پھنسایا گیا۔ اس وقت فلیچر پٹیل وہاں موجود تھا۔ اس  معاملے کی مزید وضاحت کی جائے گی۔‘‘ 
 واضح رہے کہ نواب ملک پر میڈیا اب تک یہ الزام لگاتا رہا ہے کہ سمیر وانکھیڈے نے چونکہ ان کے داماد کو منشیات کے کیس میں گرفتار کیا تھا اس لئے وہ انتقامی کارروائی کے طور پر وانکھیڈے کے خلاف  محاذ آرائی کر رہے ہیں۔ جبکہ ملک کا کہنا ہے کہ ان کے داماد کو بھی وانکھیڈے نے بے گناہ ہوتے ہوئے ہی پھنسایا تھا۔ ویسے نواب ملک نے اب تک جتنے دعوے کئے ہیں   ان کے ثبوت بھی پیش کئے ہیں جن کی وجہ سے آرین خان کیس میں روزانہ سنسنی پیدا ہو رہی تھی۔ حتیٰ کہ انہیں گرفتار کرنے والے سمیر وانکھیڈے پر خود گرفتاری کی تلوار لٹک رہی ہے۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK