• Thu, 22 October, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

آنگ سان سوچی کی پانچ سال سے زائد عرصے بعد بیٹے سے پہلی بار فون پر گفتگو

Updated: October 22, 2026, 9:05 PM IST | Naypyidaw

میانمار کی قید میں موجود سابق رہنما آنگ سان سوچی نے پانچ سال سے زیادہ عرصے کے بعد برطانیہ میں مقیم اپنے بیٹے سے فون پر بات کی ہے، تاہم ان کے بیٹے کم اریس نے واضح کیا کہ ایک بار گفتگو ہوجانا خاندان سے باقاعدہ رابطے یا آزادی کے مترادف نہیں ہے۔

Aung San Suu Kyi. Photo: INN
آنگ سان سوچی۔ تصویر: آئی این این

میانمار کی قید میں موجود سیاستداں آنگ سان سوچی نے جمعرات کو برطانیہ میں مقیم اپنے بیٹے سے فون پر بات کی۔ پانچ سال سے زائد عرصے میں یہ ان کی اپنے خاندان کے کسی فرد سے پہلی گفتگو ہے۔ میانمار کے صدر کی ترجمان کھائنگ کھائنگ سوئے نے ایک بیان میں کہا کہ آنگ سان سوچی نے میانمار کے سفارت خانے کے ذریعے لندن میں مقیم اپنے بیٹے کم اریس سے قونصلر رابطے کے تحت ٹیلی فون پر گفتگو کی۔ ترجمان کے مطابق یہ بات چیت عالمی وقت (جی ایم ٹی) کے مطابق صبح ۸؍ بج کر ۳۰؍ منٹ سے ۸؍ بج کر ۵۰؍ منٹ تک جاری رہی۔ انہوں نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹیلی گرام پر ایک مختصر بیان میں یہ اطلاع دی۔

یہ بھی پڑھئے: امریکی کانگریس ویمن الہان عمر نے اپنے بھائی سے مبینہ شادی کے الزام پرخاموشی توڑی

’ایراوڈی نیوز‘ کے مطابق فون پر بات چیت کے بعد کم اریس نے کہا، ’’ایک بار بات ہوجانا خاندان سے باقاعدہ رابطے کی سہولت نہیں ہے۔ خاندان سے رابطے کی سہولت آزادی نہیں ہے۔‘‘ فروری ۲۰۲۱ء میں میانمار کے موجودہ صدر من آنگ ہلائنگ نے فوجی بغاوت کے ذریعے آنگ سان سوچی کی جماعت نیشنل لیگ فار ڈیموکریسی کی حکومت کا تختہ الٹ دیا تھا، جس کے بعد انہیں گرفتار کر لیا گیا تھا۔ میانمار کی فوجی حکومت کی عدالتوں نے آنگ سان سوچی کو مجموعی طور پر ۳۳؍ سال قید کی سزا سنائی تھی۔ اگست ۲۰۲۳ء میں ان کی سزا میں چھ سال کی کمی کردی گئی، جس کے بعد یہ ۲۷؍ سال رہ گئی۔ رواں سال اپریل میں انہیں دارالحکومت نیپیداؤ میں گھر میں نظر بند کر دیا گیا۔

فوجی حکومت نے ان کے خلاف اشتعال انگیزی، انتخابی دھاندلی اور بدعنوانی سمیت مختلف الزامات کے تحت ۱۹؍ مقدمات قائم کیے تھے۔ بعد ازاں سزا میں کمی کے وقت ان میں سے پانچ الزامات ختم کر دئیے گئے۔ تاہم آنگ سان سوچی نے اپنے خلاف تمام الزامات کی تردید کی ہے۔ خاندان کے ساتھ یہ پہلی گفتگو ایسے وقت میں ہوئی ہے جب من آنگ ہلائنگ کی حکومت نے پیر کے روز انہیں برطانیہ کے بادشاہ چارلس سوم کی جانب سے بھیجی گئی دو کتابیں اور ایک سربمہر خط پہنچایا تھا۔

یہ بھی پڑھئے: پوتن کے پاس ٹرمپ کی تصاویر اور ویڈیوز ہیں: ہلیری کلنٹن کا دعویٰ

واضح رہے کہ جنوب مشرقی ایشیائی ملک میانمار میں ۲۰۲۱ء کی فوجی بغاوت کے بعد سے ہزاروں افراد ہلاک یا زخمی ہوچکے ہیں، جبکہ ملک میں مختلف نسلی گروہوں کے درمیان اندرونی جھڑپوں میں بھی شدت آئی ہے۔ من آنگ ہلائنگ نے فوج کے سربراہ کے عہدے سے سبکدوش ہونے کے بعد رواں سال اپریل میں صدر کا منصب سنبھالا۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK