بنارس :فریق ِمخالف کی پٹیشن قابل سماعت قرار دی گئی

Updated: September 13, 2022, 10:16 AM IST | varanasi

ضلع کورٹ نے گیان واپی مسجد میں شرنگار گوری کی یومیہ پوجا کی اجازت کیلئے داخل کی گئی پٹیشن قبول کرلی،معاملے کو پلیس آف ورشپ ایکٹ سے مستثنیٰ بتایا

Ahead of Monday`s verdict, tight security arrangements were made at the Banaras District Court. (PTI)
پیر کو فیصلے کے پیش نظر بنارس کے ڈسٹرکٹ کورٹ میںسیکوریٹی کے سخت انتظامات کئے گئے تھے۔ (پی ٹی آئی)

گیان واپی مسجد احاطہ میں شرنگار گوری کی یومیہ پوجاکی درخواست کے خلاف  انجمن انتظامیہ مساجد کی عرضی کو بنارس ڈسٹرکٹ کورٹ نے پیر کو خارج کردیا۔ ضلع جج ڈاکٹر اجے کرشن وشویش نے   مسلم فریق کی  عرضی کو خارج کرتے ہوئے ۵؍ ہندو خواتین کی جانب سے داخل کردہ مقدمہ کو قابل سماعت قرار دیا ۔اس کے ساتھ ہی اب شرنگار گوری کی پوجا اور  دیگر دیوتاؤں کے مجسموں کی حفاظت کے مطالبہ والی عرضی پر باقاعدہ سماعت شروع ہوجائے گی ۔اس کیلئے  ۲۲؍ستمبر کی تاریخ طے کی گئی ہے۔انجمن انتظامیہ مساجد نے فیصلہ کو الہ آباد ہائی کورٹ میں چیلنج کرنے کا اعلان کیا ہے
 ۱۰؍ منٹ میں ۲۶؍ صفحات کافیصلہ
ضلع عدالت کے فیصلے سے جہاں مسلم فریق کو مایوسی ہوئی وہیں  ہندو فریق نے اسے ہندو سماج کی فتح قرار دیا ۔ فیصلہ کے بعد اکثریتی فرقہ میں جشن کا ماحول ہے اور مندروں میں بڑے پیمانے پر پوجا  اور درشن کے لئےلوگ پہنچنے لگے ہیں۔  بنارس کی ضلع عدالت میں یہ سماعت سپریم کورٹ کے حکم پرہورہی تھی۔  پیر کو دوپہر دو بجے ضلع جج ڈاکٹر اجے کرشن وشویش نے ۱۰؍منٹ کے اندر ۲۶؍ صفحات پر مشتمل فیصلہ سنایا۔ اس درمیان کمرہ عدالت میں فریقین کے وکلاء اور مدعی خواتین سمیت کل ۳۲؍افراد موجود تھے۔ انہوں نے اپنے حکم میں کہا کہ بحث اور تجزیہ کو دیکھتے ہوئے میں اس نتیجہ پر پہنچا ہوں کہ مدعیان کے مقدمہ کو پلیس آف ورشپ ایکٹ ۱۹۹۱ء، وقف ایکٹ ۱۹۹۵ء اور شری کاشی وشوناتھ ٹیمپل ایکٹ ۱۹۸۳ء کی روشنی میں خارج نہیں کیا جاسکتا ہے نیز  انجمن انتظامیہ مساجد  کی جانب سے داخل کی گئی عرضی  اس لائق ہے کہ اسے خارج کردیا جائے۔ اس کے بعد شرنگار گوری معاملہ کی اگلی سماعت کے لئے انہوں نے ۲۲؍ستمبر کی تاریخ طے کردی۔ 
کورٹ نے  انجمن انتظامیہ مساجد کی اس دلیل کو ٹھکرادیا کہ پلس آف ورشپ ایکٹ کے تحت  مسجد میں پوجا کی اجازت مانگنے والی پٹیشن کو سماعت کیلئے قبول نہیں کیا جاسکتا۔ کورٹ نے کہا کہ مسجد کے احاطے میں پوجا کی اجازت ۱۹۴۷ء سے پہلے سے ہے اس لئے یہ معاملہ پلیس آف ورشپ ایکٹ کے دائرہ سے باہر ہے۔ 
فیصلے کی نقل ملتے ہی چیلنج کیا جائےگا
فیصلہ کے بعد انجمن انتظامیہ مساجد کے وکیل معراج الدین صدیقی نے کہا کہ وہ مذکورہ حکم کے خلاف الہ آباد ہائی کورٹ جائیں گے۔ انجمن کے مطابق عدالت کا حکم کی نقل ملتے ہی اسے الہ آباد ہائی کورٹ میں چیلنج کیا جائے گا۔  ہندو فریق کے وکیل وشنو شنکر جین نے کہا کہ اب ہم اس مقدمہ میں آگے کی کارروائی کرتے ہوئے ویڈیو گرافی سروے میں برآمد ’شیولنگ‘ کی کاربن ڈیٹنگ کا مطالبہ کریں گے۔ مسلم فریق کی جانب سے ہائی کورٹ جانے کے سوال پر ان کا کہنا تھا مسلم فریق کو ہائی کورٹ سے کوئی راحت نہیں ملے گی کیونکہ اس معاملہ کی سماعت سپریم کورٹ کے حکم پر ہی ضلع عدالت میں ہورہی ہے۔
کورٹ میں فریقین کے دلائل
 مقدکے سماعتوں کے دوران انجمن انتظامیہ مساجد نے دلیل دی تھی کہ مسجد گیان واپی وقف کی ملکیت ہے،اس لئے اس سےمتعلق کسی بھی معاملہ کی سماعت کاحق سول کورٹ کونہیں بلکہ وقف بورڈ کوہے نیز اس معاملہ کی پلیس آف ورشپ ایکٹ- ۱۹۹۱ء کے تحت بھی سماعت نہیں کی جاسکتی کیونکہ ملک کی آزادی کے دن مسجد گیان واپی میں پنجگانہ نماز ہوتی تھی ۔ ان حالات میں مقدمہ سماعت کے لائق نہیں ہے۔  دوسری طرف  ہندو  فریق کا کہنا تھا کہ عرضی صرف شرنگار گوری کی پوجا کے لئے داخل کی گئی ہے۔ ان کا دعویٰ ہے کہ شرنگار گوری کا مندر گیان واپی احاطہ کے پیچھے ہے جہاں غیر قانونی طور پر مسجد کی تعمیر کرائی گئی ہے۔  انہوں نے دعویٰ کیا کہ ملک کی آزادی کے دن سے  ۱۹۹۳ء تک شرنگار گوری کی روزانہ پوجا ہوتی تھی جسے ۱۹۹۳ء میں ملائم حکومت  نے بند کروادیا گیا تھا۔کورٹ نے اس دلیل کو تسلیم کرلیا۔ 

gyanvapi Tags

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK