موہڑا گاؤں کے پردھان رشی چوہان نے کہا کہ ڈاکٹر ذاکر کی والدہ غفورن بی کو ہم بُوا (پھوپھی) کہتے تھے۔
EPAPER
Updated: October 19, 2026, 12:25 PM IST | Agency | Bijnor
موہڑا گاؤں کے پردھان رشی چوہان نے کہا کہ ڈاکٹر ذاکر کی والدہ غفورن بی کو ہم بُوا (پھوپھی) کہتے تھے۔
اتر پردیش کے ضلع بجنور میں دھام پور علاقے کے ایک گاؤں میں ایک مسلم معمر خاتون کے انتقال پر گاؤں والوں نے رام لیلا ملتوی کر دی اور فرقہ وارانہ ہم آہنگی اور باہمی بھائی چارے کی مثال پیش کی۔ حاصل کردہ اطلاعات کے مطابق سنیچر کے روز موہڑا گاؤں میں رام لیلا کا پروگرام طے تھا۔ اسی دوران گاؤں کے رہنے والے ڈاکٹر ذاکر کی ۸۵؍ سالہ والدہ غفورَن کی طبیعت اچانک بگڑ گئی۔ غفورن بی کو علاج کیلئے دھام پور میں ایک ڈاکٹر کے پاس لے جایا گیا، جہاں سے واپس آنے کے بعد شام کے وقت ان کا انتقال ہو گیا۔
یہ بھی پڑھئے: ’’ ووٹ چوری کی قیمت تو چکانی ہی ہوگی‘‘
گاؤں کے پردھان رشی چوہان نے اتوار کو بتایا کہ غفورَن ان کے لئے پھوپھی جیسی تھیں اور ان کے انتقال کی خبر سے پورے گاؤں میں غم کی لہر دوڑ گئی۔چوہان کے مطابق، غفورَن کے انتقال کے بعد آدرش رام لیلا کمیٹی نے اظہارِ تعزیت کرتے ہوئے رام لیلا کا انعقاد ملتوی کرنے کا فیصلہ کیا۔ گاؤں والوں نے کمیٹی کے اس فیصلے کو باہمی ہم آہنگی اور انسانی جذبات کا احترام کرنے والا قدم قرار دیا۔ غفورَن بی کے فرزند ڈاکٹر ذاکر اور گاؤں کے دیگر لوگوں نے بھی رام لیلا ملتوی کرنے کے فیصلے کی ستائش کی اور اسے فرقہ وارانہ ہم آہنگی کی ایک مثال قرار دیا۔ گاؤں والوں کے مطابق، کسی خاندان میں غم کے وقت اسکے ساتھ کھڑے ہونا اور دکھ کی گھڑی میں حساسیت کا مظاہرہ کرنا سماجی اتحاد کی پہچان ہے۔ رام لیلا جیسے مذہبی پروگرام کو ملتوی کرنے کا فیصلہ اسی جذبے کی عکاسی کرتا ہے۔ گاؤں والوں نے کہا کہ مذہبی اور سماجی تقریبات کا مقصد صرف روایات کو برقرار رکھنا ہی نہیں، بلکہ معاشرہ میں محبت، ہم آہنگی اور بھائی چارے کو مضبوط بنانا بھی ہے۔