بی جے پی کے رکن پارلیمان ارجن سنگھ کی مودی حکومت پر تنقید، ترنمول کانگریس میں شامل ہونے کا اشارہ

Updated: April 27, 2022, 1:17 AM IST | kolkata

بنگال بی جے پی کاا ندرونی انتشار پھر باہر آیا، سینئر لیڈرانوپم ہزارہ کے بعدارجن سنگھ نے بھی پارٹی کے خلاف بگل بجایا، جوٹ کسانوں کے بہانے مودی سرکار کی پالیسیوں پر تنقید، زعفرانی پارٹی پریشان

Arjun Singh
ارجن سنگھ

پورے ملک میں اپوزیشن کو پریشان کرنے والی بی جے پی ، مغربی بنگال میں اپنی ہی پارٹی کے باغی کارکنان سے پریشان ہے۔ اسمبلی الیکشن کے بعد مکل رائے جیسے سینئر لیڈروں کے ساتھ کئی ایم ایل ایز کے پارٹی چھوڑ کر جانے کا جو سلسلہ شروع ہوا تھا، وہ ابھی تھمتا ہوا نظر نہیں آرہا ہے۔ گزشتہ بی جے پی کے سابق رکن پارلیمان انوپم ہزارہ کے ذریعہ باغیانہ تیور دکھانے کی بازگشت ابھی سنائی ہی دے رہی تھی کہ موجودہ لوک سبھا رکن ارجن سنگھ نے مودی سرکار پر تنقید کرکے زعفرانی پارٹی کو پریشان کردیا ہے۔ترنمول کانگریس چھوڑ کر بی جے پی میں شامل ہونے اور ۲۰۱۹ء کے لوک سبھا انتخابات میں بیرک پور سے کامیابی حاصل کرنے والے ارجن سنگھ نے مودی حکومت کی پالیسیوں کی سخت تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ مرکز کی پالیسی کی وجہ سے ریاست میں جوٹ مل اور جوٹ کے کاشت کار پریشان ہیں اوریہ صنعت روبہ زوال ہے۔انہوں نے کہا کہ اگر ضرورت محسوس ہوئی تو وہ وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی کے ساتھ مل کر مرکزی حکومت کی اس پالیسی کے خلاف احتجاج کرنے کو تیار ہیں۔ان کے اس بیان نے بنگال بی جے پی کو سانپ سونگھ گیا ہے۔ 
 ارجن سنگھ نے مرکزی حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اس نے جوٹ کی قیمت کی جو حد مقرر کردی ہے،اس کی وجہ سےجوٹ کاشتکار مشکل میں ہیں۔ ارجن سنگھ نے کہا کہ کھلے بازار میں جہاں ایک کونٹل جوٹ کی قیمت ۹؍ ہزار ۵۰۰؍ روپے ہے، وہیں مرکزی حکومت نے اس کی قیمت ۶؍ ہزار مقرر کرکے کسانوں کے ارمانوں پر پانی پھیر دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس کا اثر’چاٹکل ورکرز‘ پر بھی پڑ رہا ہے۔ بیرک پور کے رکن پارلیمان نے اس معاملے پر ’جوٹ کارپوریشن آف انڈیا‘ کے ساتھ ہی مرکزی وزیر برائے ٹیکسٹائل پیوش گوئل سے بھی غور کرنے کی اپیل کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ جوٹ کی قیمتوں پر طے کی حد کو ختم کیا جائے۔
 ارجن سنگھ نے اپنی ہی حکومت پر الزام عائد کیا کہ وہ کسانوں کے مفاد میں کام نہیں کررہی ہے۔  انہوں نے کہا کہ ٹیکسٹائل کے مرکزی وزیر کچھ عرصے سے ان کی درخواستوں کو نظر انداز کررہے ہیں اور یہی صورت حال جوٹ کارپوریشن آف انڈیا کی بھی ہے۔ اس نے بھی ان کی درخواست کا مثبت جواب نہیں دیا ہے۔ مرکزی حکومت کے ذریعہ اہمیت نہیں دئیے جانے پر ناراضگی ظاہر کرتے ہوئے ارجن سنگھ نے کہا کہ اب اور انتظار ممکن نہیں ہے، ہم پیوش گوئل اور مرکزی حکومت کے خلاف تحریک چلانے کیلئے سنجیدگی سے غور کررہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایک طرف وزیر اعظم مودی کہتے ہیں کہ زرعی مصنوعات کی قیمتوں کی کوئی حد مقرر نہیں کی جائے گی لیکن دوسری طرف انہوں نے جوٹ کی قیمت کی ایک حد مقرر کردی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم عوام کے درمیان رہتے ہیں اور ہم نے ان کے ووٹوں سے کامیابی حاصل کی ہے لیکن کچھ لوگ آسمان میں رہتے ہیں، ہیلی کاپٹر سے اترتے ہیں اور سب کچھ حاصل کرلیتے ہیں۔ ان کا اشارہ غالباً وزیراعظم مودی کی طرف تھا۔اس کے بعد ارجن سنگھ نے بی جے پی قیادت کیلئے مشکلات کھڑی کرتے ہوئے کہا کہ ’’ممتا بنرجی ریاست کی وزیر اعلیٰ ہیں۔ ان کی ریاست میں سب سے زیادہ جوٹ ورکرز ہیں اور یہیں پر جوٹ کی  سب سے زیادہ کاشت بھی کی جاتی ہے۔ اگر  وہ ٹریڈ یونینوں کے ساتھ تحریک میں شامل ہوتی ہیں اور اس تعلق سے کوئی میٹنگ طلب کرتی ہیں تو وہ بھی شریک ہونے کو تیار ہیں۔‘‘ انہوں نے کہا کہ اس موضوع پر میں ان کی حمایت کروں گا کیونکہ مرکزی حکومت نے بنگال کو محروم کردیا ہے۔
 ارجن سنگھ کے اس بیان کے بعد ایک بار پھر اس طرح کی قیاس آرائیاں شروع ہوگئی  ہیں کہ کہیں ارجن سنگھ بھی ممتا بنرجی کی حمایت کرکے گھر واپسی کا ارادہ تو نہیں کررہے ہیں۔ بی جے پی نے اس پر صفائی پیش کی ہے۔ بنگال بی جے پی کے صدر سوکانتو مجمدار نے کہا کہ ارجن سنگھ کا یہ بیان باغیانہ نہیں ہے۔وہ وزیر اعلیٰ  کے ساتھ مل کر ریاست کی فلاح وبہبود کی بات کررہے ہیں اورایک رکن پارلیمان کے طور پر یہ اُن کی ذمہ داری ہے۔ انہوں نے کہا کہ مرکزی حکومت نے اس بارے میں ہم نے بھی بات کی ہے اور امید ہے کہ یہ مسئلہ بہت جلد حل ہو جائے گا۔
 خیال رہے کہ ارجن سنگھ کے پارلیمانی حلقے بیرک پور میں جوٹ کی فیکٹریاں زیادہ ہیں۔  انہوں نے الزام عائد کیا ہے کہ مرکز کی اس پالیسی کے نتیجے میں تین سے چار فیکٹریاں پہلے ہی بند ہو چکی ہیں جبکہ ۶؍  مزید فیکٹریاں بند ہونے کے قریب  ہیں۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK