مدھیہ پردیش میونسپل انتخابات میں بی جے پی ۱۶؍ میں سے ۹؍پرسمٹ گئی

Updated: July 22, 2022, 10:11 AM IST | bhopal

ریاست کے ۲؍بڑے شہروںگوالیار اور جبل پور کی شہری انتظامیہ کی کمان کانگریس کے ہاتھ میں،کٹنی میں ایک آزاد امیدوار نے میئر کے عہدے پر قبضہ کرلیا،سنگرولی میں آپ کا قبضہ

Madhya Pradesh Congress President Kamal Nath speaking after the victory of the Congress
کانگریس کی کامیابی کے بعد مدھیہ پردیش کانگریس کے صدر کمل ناتھ اظہار خیال کرتے ہوئے

 اگلے سال ہونے والے اسمبلی انتخابات سے قبل، مدھیہ پردیش کے شہری بلدیاتی انتخابات میں بھارتیہ جنتا پارٹی کے ۱۶؍میں سے محض۹؍پر آنے والے نتائج نے اس بار پارٹی کو اپنی حکمت عملی کے بارے میں سوچنے پر مجبور کر دیا۔ریاست کے۲؍بڑے شہروں گوالیار اور جبل پور کی شہری انتظامیہ کی کمان کانگریس کے ہاتھ میں جانے سےپارٹی کو بڑا جھٹکا لگا ہے۔ دوسری طرف شہری بلدیاتی انتخابات کے نتائج ریاست میں عام آدمی پارٹی اوراسد الدین اویسی کی آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین (اے آئی ایم آئی ایم)کی دستک کے ساتھ بی جے پی کیمپ میں خدشات کو بھی تقویت مل سکتی ہیں۔
 ریاست میں۲۰۱۴ءمیںہوئے شہری بلدیاتی انتخابات میں تمام ۱۶؍میونسپل کارپوریشنیں بی جے پی کےکھاتے میں چلی گئی تھیں۔تقریباً ۸؍برس بعد ہونےوالے اربن باڈی انتخابات کے بعد اب ریاست میں برسراقتدار بی جے پی صرف بھوپال، اندور، ساگر، رتلام، اُجین، کھنڈوا، ستنا، دیواس اور برہان پورجیسےبڑے شہروں میں اپنی شہری انتظایہ بچانےمیںکامیاب رہی ہے۔ پارٹی کو سب سے زیادہ نقصان گوالیار-چمبل زون میں ہواہے، جہاں گوالیار اورمورینا دونوں میونسپل کارپوریشن کانگریس کے کھاتے میںچلی گئی ہیں۔ اس کے ساتھ ہی مہا کوشل کے جبل پوراور کٹنی اور وندھیا کے ریوااور سنگرولی بھی پارٹی کے ہاتھ سے نکل گئے ہیں۔
 جبل پور، کٹنی اور سنگرولی کے نتائج پارٹی کے لیے چونکا دینے والے تھے۔ طویل عرصے سے بی جے پی کا گڑھ رہنے والے جبل پور میں اس بار جہاں بی جے پی کےمیئر کے امیدوار ڈاکٹر جتیندر جمدار کو کانگریس کے جگت بہادر سنگھ نے شکست دی، وہیں کٹنی میں بی جے پی کی باغی امیدوار پریتی سوری نےپارٹی کے سرکاری امیدوار جیوتی دکشت کو شکست دی۔میئر کملا موسی کے انتخاب کی وجہ سے پورے ملک میں سرخیوں میں رہنے والےکٹنی میں اس بار پہلی بار ایک آزاد امیدوار نے میئر کے عہدے پر قبضہ کیا ہے۔
 اس کےساتھ ہی سنگرولی میں بھی پارٹی عام آدمی پارٹی کی لہر کو روکنے میں ناکام ثابت ہوئی۔ یہاں سے آپ کی امیدوار رانی اگروال بی جےپی اور کانگریس کےامیدواروں کو بالترتیب دوسرے اور تیسرے نمبر پر دھکیلنےمیں کامیاب رہیں۔ پارٹی صدر اروند کیجریوال نے بھی یہاں اگروال کے حق میں مہم چلائی تھی۔
 مدھیہ پردیش میں اربن باڈی انتخابات کے نتائج بھی اویسی کے لیے امید کی کرن ثابت ہوئے ہیں۔ریاست میںمسلم اکثریتی کھنڈوا اور برہان پور کےعلاوہ اے آئی ایم آئی ایم کے کونسلر امیدوارجبل پور میونسپل کارپوریشن میں بھیاپنی جگہ بنانے میں کامیاب ہو گئے ہیں۔
 تاہم،بی جے پی اب بھی چھوٹے شہروں میں اپنےقدم جمانے میں کامیاب رہی ہے۔ گزشتہ بلدیاتی انتخابات میں بی جے پی ۹۸؍ بلدیاتی انتخابات میں ۵۴؍ سیٹوں پر تھی لیکن اس سال پارٹی نے۷۶؍ میونسپلٹیوں میں سے ۶۵؍ پربرتری حاصل کی ہے۔ جہاں ۲۰۱۴ءمیں بی جے پی نے۲۶۴؍سٹی کونسل انتخابات میں ۱۵۴؍ سیٹوں پر کامیابی حاصل کی تھی وہیں اس سال ۲۵۵؍سٹی کونسل انتخابات میں بی جے پی کو ۲۳۱؍ سیٹوں پر برتری حاصل ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK