بحری جہازوں پر حملوں میں اضافہ، ۱۶؍ اکتوبر تک کم از کم۱۲؍ بحری جہازوں پر حملے کی تصدیق کی گئی، ۲۸؍فروری کو ایران جنگ شروع ہونے کے بعد سے رواں ماہ بحری جہازوں پر حملوں کی تعداد سب سے زیادہ رہی۔
EPAPER
Updated: October 18, 2026, 11:36 AM IST | Tehran
بحری جہازوں پر حملوں میں اضافہ، ۱۶؍ اکتوبر تک کم از کم۱۲؍ بحری جہازوں پر حملے کی تصدیق کی گئی، ۲۸؍فروری کو ایران جنگ شروع ہونے کے بعد سے رواں ماہ بحری جہازوں پر حملوں کی تعداد سب سے زیادہ رہی۔
بنائے ہرمز اور اس کے آس پاس اکتوبر کے دوران درجنوں بحری جہازوں کو حملوں کا نشانہ بنایا گیا ہے، جبکہ امریکہ اور ایران اس اہم آبی گزرگاہ پر اپنے کنٹرول کا دعویٰ کر رہے ہیں۔ برطانوی ادارے یو کے میری ٹائم ٹریڈ آپریشنز (یو کے ایم ٹی او) نے جمعہ کی رات بتایا کہ۱۶؍ اکتوبر تک کم از کم۱۲؍ بحری جہازوں پر حملے کی تصدیق کی گئی۔ تاہم ادارے نے وضاحت کی کہ حملوں کی اصل تعداد کا درست اندازہ لگانا مشکل ہے، کیونکہ نشانہ بننے والے بیشتر جہازوں نے اس کے پاس رپورٹ درج نہیں کرائی۔ ادارے کے مطابق، اسے دیگر ذرائع سے بھی کئی واقعات کی اطلاعات ملی ہیں لیکن معلومات کی کمی کے باعث ان کی تصدیق نہیں ہو سکی۔ اکتوبر کے پہلے نصف میں بھی یہی صورت حال رہی۔ ۲۸؍ فروری کو ایران کے خلاف امریکہ اور اسرائیل کی جنگ شروع ہونے کے بعد سے رواں ماہ بحری جہازوں پر حملوں کی تعداد سب سے زیادہ رہی ہے۔
یو کے ایم ٹی او کے مطابق، حملوں کا نشانہ بننے والے۱۲؍ مصدقہ جہازوں میں سے ۶؍ اپنی منزل کی جانب روانہ رہے یا بندرگاہ پہنچ گئے، ایک ڈوب گیا، دو ناکارہ ہو گئے، جبکہ تین کو نقصان پہنچا یا ان کی صورت حال کی تصدیق نہیں ہو سکی۔ ادارے نے سنیچر کو ایک نئے نوعیت کے حملے کی اطلاع بھی دی۔ ایک آئل ٹینکر کے کپتان نے بتایا کہ سعودی عرب کے مشرقی صوبے میں جبیل شہر سے تقریباً۱۴۴؍ کلومیٹر شمال مشرق میں ایک چھوٹی کشتی سے داغے گئے راکٹ سے چلنے والے گرینیڈ نے جہاز کو نشانہ بنایاجس سے اس کے پچھلے بائیں حصے کو نقصان پہنچا۔
یہ بھی پڑھئے: لندن: دھرو راٹھی کا ’ووٹ چوری‘ کے خلاف احتجاج، بندر کے کھلونے سے مودی پر طنز
حالیہ مہینوں میں امریکہ نے عرب ممالک کے ساتھ مربوط نظام کے ذریعے آبنائے ہرمز اور اس کے اطراف سے توانائی کی ترسیل بڑھانے کی کوشش کی ہے، تاہم ایران کے بڑھتے ہوئے حملوں کے باعث تیل کی ترسیل میں ہفتہ وار اتار چڑھاؤ دیکھا گیا ہے۔ اعداد و شمار فراہم کرنے والی کمپنی کپلر کے مطابق۱۳؍ اکتوبر کو ختم ہونے والے۷؍ روز کے دوران آبنائے ہرمز سے روزانہ ایک کروڑ ۱۶؍ لاکھ بیرل تیل کی ترسیل ہوئی جو جنگ سے پہلے کی روزانہ ایک کروڑ ۷۱؍لاکھ بیرل کی سطح کا تقریباً ۶۸؍ فیصد ہے۔ حملوں میں اضافے کے درمیان جمعہ کو برینٹ خام تیل کی قیمت مئی کے بعد پہلی مرتبہ۱۱۰؍ ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی۔ حوثیوں کے سعودی توانائی تنصیبات پر حملوں اور باب المندب پر ان کے قبضے کی اطلاعات کے ساتھ امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ میں شدت کے خدشات نے بھی قیمتوں پر اثر ڈالا ہے۔ امریکی فوج نے آبنائے ہرمز کی صورت حال کے بارے میں ایران کے برعکس مؤقف اختیار کیا ہے۔ جنگ سے پہلے دنیا میں تیل اور قدرتی گیس کی مجموعی ترسیل کا تقریباً پانچواں حصہ اس آبی گزرگاہ سے گزرتا تھا۔ امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹ کام) کے سربراہ بریڈ کوپر نے جمعہ کی رات ایک ویڈیو پیغام میں دعویٰ کیا کہ ایرانی حملوں کے باوجود گزشتہ ہفتے آبنائے ہرمز سے۴۰۰؍بحری جہاز اور۱۰؍ کروڑ بیرل تیل گزرا۔ انہوں نے کہا کہ میں واضح کر دوں کہ آبنائے ہرمز پر امریکہ اور اس کے علاقائی شراکت داروں کا کنٹرول ہے، ایران کا نہیں۔ کوپر نے بحری جہازوں پر حملوں میں اضافے کو ایران کے پاسداران انقلاب کی مایوسی سے تعبیر کیا۔ امریکی فوج نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ وہ ایران کی جنوبی بندرگاہوں کے ذریعے درآمدات اور برآمدات کو ایک سخت بحری ناکہ بندی کے ذریعے روک رہی ہے۔ امریکہ کے مطابق، اس ناکہ بندی سے ایران کو تیل کی برآمدات میں ۲۵؍ارب ڈالر کی آمدنی کا نقصان ہوا ہے۔ جبکہ حال ہی میں ایران کی جانب سے مالی معاونت کے لیے استعمال ہونے والی۳۵؍ کروڑ ڈالر کی کرپٹو کرنسی بھی ضبط کی گئی ہے۔ یو کے ایم ٹی او کے مطابق، گزشتہ ۷؍ دنوں میں ۱۲۵؍ بحری جہاز آبنائے ہرمز سے باہر نکلے جبکہ۱۲۹؍ جہاز اس میں داخل ہوئے۔ ان میں زیادہ تر خشک بلک سامان، اس کے بعد ٹینکروں کے ذریعے منتقل ہونے والی مصنوعات اور عمومی سامان لے جانے والے جہاز شامل تھے۔
واشنگٹن اعدادوشمار بڑھا چڑھا کر پیش کررہا ہے
ایران کا کہنا ہے کہ واشنگٹن اپنی بحری مہم کی کامیابی ظاہر کرنے کے لیے آبنائے ہرمز سے متعلق اعداد و شمار بڑھا چڑھا کر پیش کر رہا ہے۔ رواں ہفتے آبنائے ہرمز میں دو بحری جہازوں کے سمندری بارودی سرنگوں سے ٹکرانے کی اطلاعات کے بعد امریکہ اور ایران نے ایک دوسرے سے مختلف دعوے کیے ہیں۔ پاسداران انقلاب مسلسل یہ دعویٰ کر رہا ہے کہ اس اہم آبی گزرگاہ سے گزرنے والے جہاز بارودی سرنگوں سے ٹکرا رہے ہیں۔ سنیچر کو پاسداران نے دعویٰ کیا کہ۲۰؍ لاکھ بیرل سے زیادہ خام تیل لے جانے والا ایک سپر ٹینکر غیر مجاز راستے سے گزرتے ہوئے بارودی سرنگ سے ٹکرا گیا، جس کے بعد اس میں آگ لگ گئی۔