Updated: October 18, 2026, 11:06 AM IST
| London
لندن کے پارلیمنٹ اسکوائر پر انتخابی فہرستوں کی نظرثانی اور مبینہ ’ووٹ چوری‘ کے خلاف یوٹیوبر دھرو راٹھی کی شرکت میں مظاہرہ کیا گیا، جس میں چیف الیکشن کمشنر کے استعفے کا مطالبہ کیا گیا۔ مظاہرے میں پاکستانیوں کی شرکت، بندر کے کھلونے کے ذریعے مودی پر طنز اور مودی حامیوں کے جوابی احتجاج نے بھی توجہ حاصل کی۔
لندن میں احتجاج کا ایک منظر۔ تصویر:ایکس
ہندوستان میں انتخابی فہرستوں کی خصوصی گہری نظرثانی (SIR) اور مبینہ انتخابی بے ضابطگیوں کے خلاف یوٹیوبر دھرو راٹھی کی شرکت میں لندن کے پارلیمنٹ اسکوائر پر احتجاجی مظاہرہ کیا گیا۔ مہاتما گاندھی کے مجسمے کے سامنے منعقد ہونے والے اس مظاہرے میں سیکڑوں افراد نے شرکت کی۔ مظاہرین نے چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے استعفے اور انتخابی عمل میں شفافیت کو یقینی بنانے کا مطالبہ کیا۔ یہ مظاہرہ ہندوستان میں انتخابی فہرستوں کی نظرثانی کے خلاف جاری احتجاج کی کڑی تھا۔ اس کا مقصد مبینہ ’ووٹ چوری‘ کے معاملے کو بین الاقوامی سطح پر اجاگر کرنا تھا۔ مظاہرے میں طلبہ تنظیموں اور ہندوستانی نژاد افراد نے شرکت کی، جبکہ مختلف سیاسی و سماجی گروپوں نے بھی اس کی حمایت کی۔
دھرو راٹھی کی تقریر: چیف الیکشن کمشنر کے استعفے کا مطالبہ
دھرو راٹھی احتجاج میں کلیدی مقرر کی حیثیت سے شریک ہوئے۔ ان کی آمد پر مظاہرین نے نعرے لگاکر استقبال کیا۔ راٹھی نے ہندی میں خطاب کرتے ہوئے کہا کہ وہ ہندوستانیوں اور بیرون ملک مقیم ہندوستانیوں سے مخاطب ہونے کیلئے یہاں آئے ہیں اور ملک میں مبینہ ’ووٹ چوری‘ کے خلاف آواز اٹھانا ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ احتجاج اس وقت تک جاری رہ سکتے ہیں جب تک چیف الیکشن کمشنر کی جگہ ایسے امیدوار کی تقرری نہیں ہوتی جس پر حکومت اور اپوزیشن، دونوں متفق ہوں۔ ان کے خطاب کا مرکزی نکتہ انتخابی عمل کی شفافیت اور جمہوری نظام پر عوام کے اعتماد کو برقرار رکھنا تھا۔
مظاہرین کے نعرے، جمہوریت اور انتخابی شفافیت کا مسئلہ
احتجاج کے دوران مظاہرین نے ’ووٹ چور، گدی چھوڑ‘ اور ’مودی غدار ہے‘ جیسے نعرے لگائے۔ بعض شرکا نے موجودہ بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) حکومت کے خلاف آزادی کے نعرے بھی بلند کئے۔ مظاہرے میں کمیونسٹ پارٹی، کانگریس اور انڈین ورکرز اسوسی ایشن سے وابستہ پرچم بھی نظر آئے۔ مظاہرین کا الزام تھا کہ انتخابی فہرستوں کی خصوصی نظرثانی کے عمل میں بے ضابطگیوں کے خدشات ہیں، اس لئے اس معاملے کی جانچ اور انتخابی نظام میں شفافیت ضروری ہے۔
پاکستانیوں کی شرکت اور بندر کا کھلونا توجہ کا مرکز
مظاہرے سے متعلق بعض سوشل میڈیا پوسٹس اور ویڈیوز میں پاکستانی شرکا کی موجودگی اور ایک شخص کے اپنے ساتھ بندر کا ایک نرم کھلونا (اسٹفڈ ٹوائے) لانے کے دعوے بھی زیرِ بحث ہیں۔ در اص گزشتہ ہفتوں ایک نعرہ سوشل میڈیا پر بہت وائرل ہوا تھا’ ۵۶؍ انچ کا چھوٹا بندر، بال نریندر بال نریندر‘۔ اسی کے تناظر میں ایک شخص مظاہرے میں بندر کا کھلونا بھی لہراتے ہوئے نظر آیا جو سوشل میڈیا پر وائرل ہوگیا۔
مودی حامیوں کا جوابی مظاہرہ، پولیس نے دونوں گروپوں کو الگ رکھا
احتجاج کے دوران مودی حکومت کے حامیوں کا ایک چھوٹا گروپ بھی موقع پر پہنچ گیا۔ اس گروپ نے بھارتی ترنگا لہراتے ہوئے ’مودی، مودی‘، ’وندے ماترم‘ اور ’بھارت ماتا کی جے‘ کے نعرے لگائے۔ یوں پارلیمنٹ اسکوائر میں ایک جانب انتخابی بے ضابطگیوں کے خلاف مظاہرہ جاری تھا تو دوسری جانب حکومت کے حامی اپنے موقف کا اظہار کررہے تھے۔ دونوں گروپوں کے درمیان کشیدگی اس وقت بڑھی جب وہ ایک دوسرے کے نعروں کو دبانے کی کوشش کرنے لگے۔ صورتحال کو قابو میں رکھنے کیلئے لندن کی میٹروپولیٹن پولیس نے دونوں گروپوں کو الگ رکھا۔
یہ بھی پڑھئے: امریکہ میں والمارٹ اِفیکٹ: صارفین کا بدلتا رویہ، کساد بازاری کا خدشہ!
مودی حکومت کے حامیوں کا موقف
جوابی مظاہرے میں شریک اور انڈیا ڈائسپورا یوکے کے بانی ہردیش گپتا نے کہا کہ برطانیہ میں مقیم ہندوستانی برادری کا ایک حصہ مودی اور ان کی حکومت کے ساتھ کھڑا ہے۔ ان کے مطابق بیرون ملک اس نوعیت کے احتجاج سے ہندوستانی تارکین وطن کے درمیان تقسیم پیدا کرنے کی کوشش کی جارہی ہے اور اس معاملے کو بین الاقوامی سطح پر لے جانے کی ضرورت نہیں۔