ماحولیاتی بیداری کے نام پر۹۴۰؍ کروڑ روپے خرچ، کانگریس کا کیجریوال پر عوامی پیسہ برباد کرنےکاالزام

Updated: November 16, 2021, 11:06 PM IST | new Delhi

کانگریس ترجمان نے کہا کہ ماحولیات سے دوچار دہلی کے لوگ صاف ہوا کیلئے ترس رہے ہیں اور حکومت بیداری کے نام پراپنی تشہیر کر رہی ہے،اسلئے اس حکومت کو فوری طور پر برطرف کردیا جانا چاہئے

Arvind Kejriwal
اروند کیجریوال

ان دنوں دہلی میں فضائی آلودگی کا مسئلہ گرم ہے۔ اس میں ایک جانب جہاں عدالت عظمیٰ نگراں کا کردار ادا کررہی ہے اور آئے دن فضائی آلودگی کم کرنے کیلئے حکومتوں کی سرزنش کررہی ہے، وہیں مرکزی اورریاستی حکومتیں ایک دوسرے پر الزام تراشی کررہی ہیں جبکہ اس درمیان عوام بری طرح پس رہے ہیں۔ دریں اثنا کانگریس نے اسی حوالے سے ریاستی حکومت پر الزام عائد کیا ہے کہ وہ فضائی آلودگی کم کرنے کے بہانے اپنی تشہیر کررہی ہے۔
  دہلی ریاستی  کانگریس کمیٹی کے سینئر ترجمان ڈاکٹر نریش کمار نے کہا کہ دہلی کے وزیر اعلیٰ اروند کیجریوال نے ماحولیاتی بیداری کے نام پر۹۴۰؍کروڑ روپے خرچ کئے ہیں لیکن اس سے دہلی کو کوئی فائدہ نہیں ہوا اور  دارالحکومت کی حالت آج دنیا میں بدتر ہو چکی ہے۔منگل کو جاری ایک بیان میں ڈاکٹر کمار نے کہا کہ آر ٹی آئی کارکن امیت گپتا کی طرف سے دائر عرضی  میں دہلی حکومت نے بتایا ہے کہ اس نے ماحولیات کے نام پر لوگوں کو بیدار کرنے  کیلئے ۹۴۰؍ کروڑ روپے خرچ کئے ہیں۔ اس میں یہ نہیں بتایا گیا  ہےکہ آلودگی پر قابو پانے کیلئے اب تک کتنی رقم خرچ کی گئی ہے؟ انہوں نے کہا کہ ماحولیات سے دوچار دہلی کے لوگ صاف ہوا کیلئے ترس رہے ہیں اور حکومت بیداری کے نام پراپنی تشہیر کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس محاذ پر نمٹنے میں ناکام رہنے والی  سرکار کو فوری طور پر برطرف کیا جانا چاہئے۔ انہوں نے بتایا کہ یہ رقم ستمبر۲۰۱۵ء سے ستمبر۲۰۲۱ء تک کے دوران خرچ کی گئی ہے۔
 آئی آئی ٹی کانپور کی۲۰۱۶ء کی ایک رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے ڈاکٹر کمار نے کہا کہ اس نے ۶؍ سال پہلے ہی وزیر اعلیٰ کو خبردار کردیا تھا کہ راجدھانی میں آلودگی ایک خوفناک شکل اختیار کر لے گی اور اس سے ویکیوم کلیننگ، مشینوں  سے  پانی کے چھڑکاؤ اور سڑکوں کی حالت بہتر بنانے پر زور دیا گیا لیکن اس سمت میں کوئی قدم نہیں اٹھایا گیا اور  اس غفلت کا نتیجہ اب سب کے سامنے ہے۔انہوں نے کہا کہ اس وقت دارالحکومت میں ایک کروڑ۲۵؍ لاکھ گاڑیاں ہیں جن میں سے۵۰؍ فیصد دو پہیہ گاڑیاں ہیں اور یہ دارالحکومت کی آلودگی میں۵۰؍ فیصد حصہ ڈالتی ہیں۔ اس کی بڑی وجہ پبلک ٹرانسپورٹ کا نہ ہونا ہے۔ اس وقت دہلی میں ڈی ٹی سی بسوں کی تعداد صرف۳۷۰۰؍ ہے جبکہ ان کی تعداد۱۱؍ ہزار ہونی چاہئےتھی۔ انہوں نے کہا کہ ۲۰۱۳ء میں شیلا دکشت حکومت کے دور میں ڈی ٹی سی کے بیڑے میں تقریباً ۷؍ ہزار بسیں  ہوا کرتی تھیں۔
 کانگریس ترجمان نے کہا کہ  اروندکیجریوال ہر روز نئے دلکش وعدے کرکے عوام کو بیوقوف بنا رہے ہیںلیکن انہوں نے دہلی کی ترقی کیلئے کچھ نہیں کیا اور نہ ہی متبادل سڑکیں بنوائی گئیں۔ دارالحکومت کے کئی علاقوں میں سڑکوں کی خستہ حالی کے باعث ان پر مسلسل دھول  اُڑ رہی ہے، جس کی وجہ سے فضا میں پی ایم ۱۰؍ اور پی ایم۲؍ آلودگی کی مقدار بڑھ رہی ہے۔ اس کا نتیجہ یہ ہے کہ لوگ پھیپھڑوں کے امراض کا شکار ہو رہے ہیں۔
  انہوں نے دہلی کے وزیر ماحولیات گوپال رائے کے اس دعوے کو بھی مسترد کر دیا کہ موجودہ کیجریوال حکومت کے دور میں دارالحکومت کے گرین کور ایریا میں اضافہ ہوا ہے۔ ڈاکٹر کمار نے کہا کہ۲۰۰۹ء میں شیلا دکشت حکومت کے دور میں گرین کور ۲۹۶ء۲۰؍ مربع کلومیٹر تھا جو۱۴۔۲۰۱۳ء میں بڑھ کر۳۲۵؍ مربع کلومیٹر ہو گیا اور اس کا رقبہ آج بھی وہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ دہلی کی کیجریوال حکومت راجدھانی میں۳۳؍ لاکھ پودے لگانے کا دعویٰ کیا تھا لیکن اس سمت میں کچھ نہیں کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ اس معاملے میں آڈٹ کرایا جانا ضروری ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK