Inquilab Logo Happiest Places to Work

پارلیمانی سیٹوں  میں اضافہ کیخلاف کانگریس کا انتباہ

Updated: April 02, 2026, 8:35 AM IST | New Delhi

تمام ریاستوں میں لوک سبھا کی سیٹوں میں  ۵۰؍ فیصد اضافہ کا بل جلد ہی پیش کئے جانے کی چہ میگوئیوں کے بیچ اپوزیشن پارٹی حرکت میں آئی، آگاہ کیا سیٹوں میں  اضافہ ’’تھوپنے‘‘ کی ایسی کوئی بھی کوشش جنوبی ہند اور چھوٹی ریاستوں کیلئے ’’نقصاندہ ‘‘ ثابت ہوگی

Modi government plans to increase the number of members in Lok Sabha to 816
مودی سرکار کالوک سبھا میں اراکین کی تعداد بڑھا کر ۸۱۶؍ کرنے کا منصوبہ ہے

پارلیمانی سیٹوں کی تعداد میں ۵۰؍ فیصد اضافہ کیلئے ہر ریاست سے لوک سبھا کیلئے منتخب ہونےوالے اراکین کی تعداد میں  ۵۰؍ فیصد کے اضافہ کے تعلق سے جلد ہی لوک سبھا میں  بل پیش کئے جانے کے تعلق سے چہ میگوئیوں  کے بیچ بدھ کو کانگریس  نے اس کی پرزور مخالفت کی۔   پارٹی  نے دعویٰ کیا کہ مودی حکومت لوک سبھا کے اراکین کی تعداد  میں۵۰؍ فیصد اضافہ تھوپنے کیلئے   ایک بل ’’زبردستی‘‘ منظور کرانے کی  تیاری کررہی ہے مگر اس طرح کا کوئی بھی  قدم جنوبی، شمال مشرقی اور مغربی  ہندوستان کی چھوٹی ریاستوں کو ’’نقصان‘‘  پہنچائے گا۔ سیٹوں میں اضافہ کی تیاری  کے  دعویٰ  پر ابھی تک سرکاری ردعمل سامنے نہیں آیا ہے۔
 کانگریس کے جنرل سیکریٹری  جے رام رمیش نے کہا  ہے کہ تلنگانہ کے وزیر اعلیٰ اے ریونت ریڈی پہلے ہی اس معاملے پر تشویش ظاہر کر چکے ہیں اور جیسے ہی یہ تجویز باضابطہ طور پر سامنے آئے گی دیگر لیڈربھی آواز اٹھا سکتے ہیں۔ انہوں نے  بدھ کو ’ایکس‘ پر کئے گئے پوسٹ میں کہا ہے کہ ’’مودی حکومت لوک سبھا کے سائز میں۵۰؍ فیصد اضافہ کرنے کیلئے  ایک بل کو زبردستی منظور کرانا چاہتی ہے۔(اس کیلئے ) ہر ریاست کو دی جانے والی نشستوں میں ۵۰؍ فیصد اضافہ کی تجویز ہے۔‘‘  
انہوں نے کہا کہ تمام ریاستوں کی نشستوں میں  ۵۰؍  فیصد اضافہ کو منصفانہ قرار دینے کی دلیل گمراہ کن ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس سے فی الحال تناسب تبدیل نہ بھی ہو، تو بھی گہرے اثرات ہیں جنہیں نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ انہوں نے الزام لگایاکہ’’لوک سبھا میں مختلف ریاستوں کی موجودہ طاقت میں فرق بڑھنے سے جنوبی ہند کی ریاستوں کو نقصان ہوگا۔‘‘انہوں نے مثال پیش کی کہ ’’فی الحال اتر پردیش کے پاس۸۰؍ نشستیں ہیں اور تمل ناڈو کے پاس۳۹؍ ہیں مجوزہ بل کے بعد یوپی کی نشستیں ۱۲۰؍ہو جائیں گی جبکہ تمل ناڈو کی زیادہ سے زیادہ ۵۹؍ تک پہنچیں گی۔ اسی طرح کیرالہ کی نشستیں  ۲۰؍سے بڑھ کر۳۰؍اور بہار کی ۴۰؍ سے بڑھ کر  ۶۰؍ ہو جائیں گی۔ مجموعی طور پر جنوبی ریاستوں کو ۶۶؍ نشستیں ملیں گی جبکہ شمالی ریاستوں کو۲۰۰؍ نشستیں حاصل ہوں گی۔‘‘انہوں نے الزام لگایا کہ وزیر اعظم یکطرفہ طور پر ایسا قانون تیار کر رہے ہیں جو جنوبی، شمال مشرقی اور مغربی چھوٹی ریاستوں کیلئے نقصان دہ ہوگا۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK